اشفاق احمد کے بابے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دس سال پہلے جب میری تعیناتی غیر تدریسی عملے میں بطور لیکچرار اسسٹنٹ پچھتر سے اسی کلو میٹر دور ایک گورنمنٹ کالج میں ہوئی تب میں خود ابھی زیرِتعلیم تھی۔ یہ معلوم نہ تھا کہ سروس کیا ہوتی ہے اور میں نے کس “حیثیت” سے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں قدم رکھا ہے۔ اور کتنے ہائی سٹیٹس لوگوں کے ساتھ خدمات سر انجام دینا ہوں گی۔ بس خوشی تھی تو اس بات کی کہ مجھے پڑھائی میں مدد دینے اور رہنمائی کرنے والے بہت سے لوگ مل جائیں گے۔ کالج کی پرنسپل صاحبہ انتہائی شفیق خاتون تھیں جن کی زیرِ نگرانی بہت قلیل عرصے میں مجھے بہت کچھ کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔
غیر تدریسی عملے سے ہونا کوئی عیب نہیں ہے یہ خدا کی تقسیم اور فیصلہ ہے اور خدا کا فیصلہ بہترین ہوتا ہے وہ ہر پہلو سے انسان کی آزمائش کرتا ہے۔ اگر وہ سب کو ہی دستخط کرنے والا بنا دے تو پھر دستخط کروانے والا کون رہے گا؟
میرا ماننا ہے بلکہ پچاسی فیصد لوگوں کا یہی ماننا ہو گا کہ کوئی بھی تعلیمی ادارہ صرف تدریسی عملہ کامیاب نہیں بنا سکتا جب تک کہ غیر ترریسی عملے کا بھرپور تعاون شامل نہ ہو۔ گزشتہ دس سال کا عرصہ اگر میں نے بہت گرم جوشی سے گزارا اور انشااللّٰہ آئندہ بھی اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں تو اس کا کریڈٹ میرے ہم پلہ ساتھیوں کے ساتھ ساتھ میرے اُن سینیئرز کو جاتا ہے جو “جادو کی تھپکی” سے ناساز حالات کو ہموار کر دینے کا ہنر جانتے ہیں۔
جادو کی تھپکی دینے والوں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے احساسِ برتری کے مارے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو نہ تو خود پُرجوش ہوتے ہیں اور نہ دوسروں کو رہنے دیتے ہیں۔ جو دوسروں کو جادو کا تھپڑ رسید کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں جن کو بس ہماری جی حضوری درکار ہوتی ہے۔ اس جی حضوری سے چاہے کوئی خوش ہو یا نا خوش، کوئی سہولت سے جی کرے یا مجبوری سے، کوئی دل جھکا کے جی کرے یا نظر جھکا کر۔ اُنہیں بس جی چائیے اور کام چائیے وہ بھی “دے مار ساڈھے چار” ۔ اور بالفرض کوئی ظلم کے خلاف آواز بُلند کر دے تو وہ روٹھ جاتے ہیں۔ دل ہی دل میں وہ بھی بابے ہوتے ہیں۔ اشفاق احمد کے بابے نہیں ہمارے بابے ہوتے ہیں۔ جن کے تکیے کےنیچے سے “گُڑ کی روڑی” غائب ہو جائے تو روٹھ جاتے ہیں۔ جن کی لاٹھی اگر غلطی سے یا کسی مصلحت کے تحت بھی چارپائی کے بائیں طرف رکھ دی جائے تو ناراض ہونے لگتے ہیں اور آپکی ساری خدمت کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ تو یہ جو ہمارے بابے ہیں نا انہیں صرف اپنی تھکن محسوس ہوتی ہے یہ صرف بولنا پسند کرتے ہیں انہیں سننا اچھا ہی نہیں لگتا، اور خاص طور پر کسی جونیئر کو سننا۔۔۔ اور جونیئر بھی اگر غیر تدریسی عملے سے ہو تو پھر تو کبھی نہیں۔
بے شک کہ تدریس ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ کا پیشہ ہے مگر کیا اُنہوں نے کسی اور حلال پیشے کو کمتر جاننے کا درس دیا ہے؟
میری ایسے تمام اعلیٰ عُہدے داروں اور اعلیٰ ظرف لوگوں سے التماس ہے کہ آپ کا یہ منفی رویہ کسی کم عقل کو خدا سے شکوہ اور خدا کی نا شُکری بھی کروا سکتا ہے۔ اور آپ اس ناشکری کی ٹھوس وجہ بنیں گے۔
نیک نیتی، جذبہ، خلوص، ہمدردی، اور لگن کسی عہدے یا سکیل کی پابند نہیں ہیں۔ انسان کبھی تو ان خُدا داد صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر رہا ہوتا ہے اور کبھی کسی کی صلاحیتں جگانے اور تھوڑی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خدارا آپ بھی دوسروں کی صلاحیتوں کو پالش کرنے والے بنیں۔ آپکی ہلکی سی تعریف کسی کی شخصیت کی بقا کا باعث بن سکتی ہے۔ کسی کو اس مقام تک نہ پہنچائیں جہاں کوئی ساکت ہو جائے۔
ایمان دار لوگ ہر شعبہِ زندگی میں کام کر رہے ہیں۔ بس دیکھنے والی آنکھ میں بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت کا ہونا بھی ضروری ہے تا کہ اشفاق احمد کے بابوں کر پہچانا بھی جا سکے اور ان سے فائدہ بھی اُٹھایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عائشہ محفوظ کی دیگر تحریریں
عائشہ محفوظ کی دیگر تحریریں