آئیے، نرگسیت کو پہچانیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نرگسیت (Narcissism) علمِ نفسیات کی اصطلاح ہے، جو خود پرستی ، ذات کی لامتناہی محبت ہے ۔ سے فدا ہونا یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے جو خود ستائشی رویوں کا مرکز ہے۔
کوئی زمانہ تھا جب آئینہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ تب انسان کو جستجو تھی کہ وہ اپنی ذات کو دیکھ سکے۔ وہ اپنا سایہ دیکھ کر سوچتا تھا کہ اس کی صورت کیسی ہو گی۔ کبھی پانی میں جھک کر اپنا آپ تلاش کرتا۔ اس وقت زندگی بالکل مختلف تھی۔ انسان میں نہ تو خود پسندی تھی اور نہ ہی وہ اپنی ذات کی پرستش کرتا۔ Narcissistic Personality Disorder میں متاثرین کی توجہ دوسروں سے ہٹ جاتی ہے ۔ وہ تعریف و توصیف چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگ ضدی، خود غرض ، دوسروں سے زیادہ توقع رکھنے والے اور دوسروں کا استحصال کرنے والے ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ اچھے دوست نہیں بن سکتے اور رشتے و ناطے تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں ۔ انہیں بروقت علاج کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا خوبصورتی کی پرستش بھی ان رویوں کی موجودگی کا اعلان کرتی ہے ؟
کہا جاتا ہے کہ آئینہ 8000 سال پہلے ایجاد ہوا۔ لیکن آئینے کے دریافت ہونے کا ذکر 835ء کے باب میں ملتا ہے۔ جرمن کیمسٹ Justus Von Liebig نے ایک آئینہ ایجاد کیا، جس میں بعد میں ردوبدل کر کے آئینے کی مکمل دریافت کی گئی۔ گزشتہ صدیوں میں آئینے گھروں میں سجاوٹ کے لیے استعمال ہونے لگے۔ جب انسان نے خود کو آئینے میں دیکھا تو اپنی ذات کی محبت کے فریب میں مبتلا ہوتا چلا گیا۔
خود پرستی کے رجحان سے دیو مالائی دلچسپ قصہ بھی منسوب کیا جاتا ہے۔
زیوس دیوتا آسمان پر حکومت کرتا تھا۔ اسے پانی اور درختوں کی خوبصورتی سے محبت تھی۔ اس کی بیوی ہیرا کو زیوس دیوتا کی یہ عادت سخت ناپسند تھی۔ خوبصورت جنگل سے گزرتے ہوئے اکثر اسے ایکو نامی خوبصورت پری گھیر لیتی اور اسے باتوں میں الجھا دیتی اور زیوس خوبصورت پریوں کے جھرمٹ میں بیٹھا رہتا۔ ہیرا کو ایک دن ایکو کی اس چالاکی کا علم ہو گیا اور اس نے ایکو کو بد دعا دی جس کی وجہ سے اس کی خوبصورت آواز بازگشت بن گئی۔ پھر ایکو جنگلوں میں بھٹکتی اور دل کا کھویا چین حاصل کرنے کی تلاش میں رہتی۔ ایک دن اسے جنگل میں ایک خوبصورت شہزادہ نظر آیا ۔نارسیسسNarcissus کی خوبصورتی پر وہ فدا ہو گئی۔ مگر نارسیسس نے کبھی اس کی پذیرائی نہیں کی بلکہ وہ ہمیشہ اسے دھتکار دیتا۔ ایکو کا دل بری طرح ٹوٹ گیا۔ وہ اسے دکھ و کرب سے اتنا ہی کہہ سکی۔ ’’خدا کرے کہ تم اپنی ذات کی محبت میں گرفتار ہو جاؤ ۔ اور تمہیں اس محبت کو پانے کا کوئی راستہ نہ ملے۔‘‘
ایک دن نارسیسس ندی میں جھک کر دیکھ رہا تھا تو پانی میں اسے اچانک اپنا عکس نظر آیا۔ وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا اور بار بار پانی میں اس خوبصورت عکس کو دیکھتا اور ٹھنڈی آہیں بھرتا۔ اس کے ہونٹ جب بھی عکس کا بوسہ لینے پانی کو چھوتے تو وہ دریا میں گر جاتا۔ پرندے، جنگل کی ہوا، پودوں کی خوشبو اور لہریں یہ تماشہ دیکھ کر حیران ہو جاتے۔ نارسیسس دریا کے کنارے عکس کو پانے کی کھوج میں وہیں بیٹھا رہ گیا اور اسی غم میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ ایکو بے قرار ہو کر اس کی جانب لپکی تو اس نے دیکھا نارسیسس کی جگہ نرگس کا پھول کھلا ہوا تھا۔
بعد میں اسی نرگسیت خود پرستی کے جذبے کی مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے ترجمانی کی کہ آخر انسان اپنی ذات سے اس قدر پیار کیوں کرتا ہے کہ اسے اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا! فرائیڈ نے انا یعنی ego کی تشریح کی اور اسے مختلف تناظر میں تقسیم کر کے انسانی نفسیات کے پس منظر میں اسے وضاحت سے بیان کیا۔
فرائیڈ نے Self Love ذات پرستی کے رجحان کو فطری قرار دیا، جس کے توسط سے تحفظ و پیار کے جذبے پرورش پاتے ہیں۔ ذات کی محبت سے ہی انسان دوسروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اسی تناظر میں فرائیڈ نے مزید دریافتیں کیں اور کشش، پیار و جنس کے مختلف زاویوں کی وضاحت کی۔ عنفوان شباب میں بچے آئینہ بہت دیکھتے ہیں اور والدین کی ڈانٹ سنتے ہیں۔ درحقیقت اس دور میں بچہ تشخص کی پیچیدگیوں سے گزرتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے ہونے کو محسوس کرتا ہے۔ وہ بار بار آئینے میں اپنے چہرے کے خدوخال کو دیکھتا ہے۔ مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے اور اپنی شخصیت کو سوچتا ہے کہ اسے کیسے کپڑے پہنتے ہیں۔ کون سا ہیئر اسٹائل اس پر جچے گا۔ پھر آئینے کے توسط سے وہ اپنی ذات سے پیار کرنے لگتا ہے۔ یہ وہ دور ہے ، جب توقیر ذات تشکیل پاتی ہے۔ اپنی نظروں میں اچھا تصور ایک انسان کی شخصی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس حوالے سے ماں بچے کو صحیح تشخص عطا کرنے کے سلسلے میں بہت معاونت کرتی ہے۔ بصورت دیگر ، ذات کی کمی ذہنی امراض کا پیش خیمہ بن جاتی ہے ۔ نرگسی رویوں کے واضع اسباب نہیں ہیں مگر پرورش اور ماحول بہرکیف ایک حد تک ان منفی رویوں کو پروان چڑھاتے ہیں ۔ بچے کسی حد تک والدین کی عادات و اطوار اپنا لیتے ہیں ۔
1990ء میں نیورو سائنس نے اس حوالے سے مزید پیش رفت کی اور Giacomo Rizzolatti نے مرر نیورونز کے حوالے سے منفرد حقائق کی ترجمانی کی۔ نیورو سائنس نے بتایا کہ ذہن، جذبے، عمل، تجربے کو کس طرح شیئر کرتا ہے۔ جیسے کسی کو ہنستا پاکر لوگ بھی ہنسنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور تکلیف یا رونے کے وقت دیکھنے اور محسوس کرنے والے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور وہ بھی اس اداس کیفیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ مرر نیورونز سماجی زندگی کے مزاج کا تعین کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم مسائل کا رونا رونے کے بجائے ہنسنے بولنے لگ جائیں اور زندہ دلی کو اپنا لیں تو اس کا اثر ماحول پر پڑے گا اور حالات تبدیل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ آجکل جو حالات ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ دیکھا دیکھی نرگسیت کے جال میں پھنستے جارہے ہیں ۔ سوشل میڈیا ایسے رویوں کی سب سے بڑی مثال ہے ۔ جدید تحقیق کے مطابق سیلفی بھی ذات کی پرستش کا اظہار ہے ۔ زیادہ سیلفی لینے والے افراد نرگسیت یا کسی دوسرے ذہنی مغالطے کا شکار ہوتے ہیں ۔
دنیا کے مشھور حکمران اس بیماری کا شکار تھے ، جنھوں نے دنیا کو تعصب اور جنگوں کی آگ میں دھکیل دیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •