عید ۔ کشمیر اور بےبے کا پیغام بیٹوں کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ہفتہ پہلے سے میری بے بے مجھے کہہ رہی تھیں ”پتر مٹھو توں آویں گا، تے تیری پسند دا جانور لینا ایں قربانی واسطے (بیٹا مٹھو تم آؤ گے تو عید پر قربانی کے لیے جانور تمھاری پسند کا لینا ہے )، بس چھیتی چھیتی چھٹی آجا۔“ میں نے بھی کہا جی بے بے بس آیا۔ آج مجھے پتہ چلا کہ شاید میں عید کے بعد چھٹی جاٶں کیونکہ کشمیر کی وجہ سے چھٹیاں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوسکتی ہیں۔

بے بے کی طبیعت کافی خراب تھی میں نے فون کیا تو اماں نے ہیلو کرتے ساتھ ہی پوچھا ”پتر مٹھیا کدوں آویں گا؟ میں دوائی لین وی تیرے نال ای جانا ایں تے بکرا لین وی توں ای جاناں ایں“ (بیٹا مٹھو کب أٶ گے؟ میں نے دوائی لینے بھی تیرے ساتھ ہی جانا ہے، اور بکرا لینے بھی تمھیں ہی جانا ہے )۔ میں نے کہا ”بے بے کشمیر کا مسئلہ چل رہا ہے ہو سکتا ہے عید پر نہ آسکوں یا عید کے اگلے دن آٶں۔“

تو بے بے نے ٹھنڈا سانس بھر کے کہا ”پتر مٹھو کبرائیں ناں۔ ویکھ کشمیر وچ ماواں کیویں پتر قربان کرن ڈیاں نے“ (بیٹا مٹھو گھبرانا مت۔ دیکھ کشمیر میں مائیں اپنے بیٹے کیسے قربان کررہی ہیں )۔ میں نے کہا ”بے بے پر تیری دوائی؟“ میری بات کاٹتے ہوئے اماں نے کہا ”چھڈ کھسماں نوں کھاوے میری دوائی“ چھوڑ اتنی ضروری نہیں میری دوائی)۔ میں نے کہا ”پر اماں آپ کی طبیعت کی وجہ سے پریشان ہوں۔“ اماں نے جواب دیا ”اچھا میں تیرے بابے نال جا کے لے آواں گی دوائی۔ پتر کشمیریاں واسطے اک عید نہیں لکھاں عیداں قربان۔ شیر پتر ہندے کاہدے واسطے نیں۔ پتر نوکری دھیان نال کریں“ ( اچھا میں تمھارے بابا کے ساتھ جاکردوائی لے أٶں گی۔ بیٹا کشمیر کے لیے ایک عید نہیں لاکھوں عیدیں قربان۔ جوان بیٹے ہوتے کس لیے ہیں۔ بیٹا اپنی ڈیوٹی دھیان سے کرنا)

میری آنکھوں میں نمی تھی مگر حوصلہ پہاڑ کے جیسا مضبوط۔ پھر میں نے ابا جی سے بات کی وہ بھی جب تک بات کرتے رہے میری ڈھارس بندھاتے اور تسلیاں دیتے رہے۔ انھوں نے کہا ”بیٹا ملک کا بچہ بچہ کشمیر کے لیے لڑنے کو تیار ہے۔ کشمیر پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔ میں نے سنا ہے حکومت نے سلامتی کونسل میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انڈین سفیر کو واپس بھیج کر تمام تجارتی مراسم ختم کردیے ہیں۔ بیٹا حکومت کو جرات سے کام لینا پڑے گا۔ معاملات کافی بگڑ چکے ہیں۔ تم چھٹی نہ ملنے پر پریشان مت ہونا۔ یہ عید تو ویسے بھی قربانی کا درس دیتی ہے۔ ہر پاکستانی کو اپنی حیثیت اور مقام و مرتبہ کے مطابق اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔ ویسے بھی کمانڈو تو ہوتا ہی ملک و قوم کا مان اور سرمایہ ہے۔ بیٹا اللہ کشمیریوں کے حال پر رحم خاص فرمائے۔

”بیٹا ڈیوٹی دھیان سے کرنا ہم حالت جنگ میں ہیں۔ چل میں تیری اماں ک دوائی لے آٶں۔ ویسے بھی جب تیری اماں تم سے اداس ہوتی ہے تو بیماری کا ہی بہانہ کرتی ہے اور ایک تم ہو بھاگم بھاگ چھٹی أجاتے ہو۔ تمھاری بے بے بالکل ٹھیک ہے خود جاکر تمھاری عید کے کپڑے لائی ہے۔“ میں ابا اور اماں کی نوک جھونک سے لطف اندوز ہو رہا تھا کیونکہ اماں ابا کی ہر بات پہ لقمہ دے رہی تھیں۔ میں نے نم آنکھوں اور مسکراتے ہونٹوں سے کال بند کردی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •