کیا سودی نظام سے چھٹکارا ممکن ہے ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشیات میرا سبجیکٹ تو نہیں لیکن اس حوالے سے کچھ نہ کچھ پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ شریعہ اکیڈمی اسلام آباد میں ”انسداد سود“ کے حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ اس میں پاکستان میں مختلف اوقات میں انسداد سود کے حوالے سے کی گئی کاوشوں کا ذکر ہوا۔ موجودہ صورتحال کیاہے، چیلنجز اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟ ان چیزوں کے حوالے سے مختلف حاضرین کی جانب سے کافی مفید گفتگو ہوئی۔

مغرب کی موجودہ ترقی کے پیچھے دو عنصر کارفرمانظر آتے ہیں اور مغرب کا ذاتی دعویٰ بھی یہی ہے۔ ایک سرمایہ دارانہ نظام، دوسرا سائنسی ترقی۔ سائنسی ترقی بھی سرمایہ دارانہ نظام کی مرہون منت ہے اور اسی کو سپورٹ کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا مطلب ہے کہ سرمایہ کو فارغ نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے ذریعے مزید سرمایہ آتا رہنا چاہیے۔ ماقبل دور میں جب کرنسی ایجاد نہیں ہوئی تھی یا ہونے کے بعد سونا چاندی اور ایسی صورتوں میں تھی یہ کرنسی کسی بھی ملک کی مجموعی دولت اور وسائل کی نمائندہ نہیں ہوسکتی تھی۔ (کرنسی کی ایجاد اور پھر اس کے بعد مختلف مراحل کا مطالعہ خاصی دلچسپ چیز ہے جس کا سردست موقع نہیں ہے ) ۔

یہ کرنسی ایک مخصوص مقدار میں ہوسکتی تھی اس سے زیادہ نہیں۔ اسی طرح اس وقت تک کوئی ایسا سسٹم نہیں تھا جو اس کرنسی کو ہر حال میں مصروف عمل رکھے۔ اس کرنسی کو اگر کسی نے جمع کیا ہوا ہے تو وہ اسی کے فائدے کے لئے ہے اور اسی کے کام آسکتی ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتاتھا۔

کرنسی کی ایجاد نے انسانوں کو بہت سی مشکلات سے نجات دی۔ تبادلہ اشیاء کے درمیان کرنسی کا واسطہ بہت سی آسانیاں لے کر آیا۔ کا غذی کرنسی سونے اور چاندی کی کرنسی کانمائندہ بن کر آئی۔ اس کو اعتباری زر کہتے ہیں جبکہ حقیقی زر آج بھی سونا ہے۔ بینکنگ سسٹم جو کہ سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ ہے اس میں ہوتا یہ ہے کہ ہر شخص اپنی رقم کو حفاظت کے لئے، کاروبار کے لئے یا جس مد میں بھی رکھنا چاہے، اس رقم کو بینک آگے استعمال کرتاہے۔

اور رقم کایہ استعمال ایک مرتبہ نہیں ہوتاہے۔ مثال کے طور دس ہزار کی رقم سے ایک لاکھ تک کا کاروبارکیا جاتاہے۔ بینک کے پاس دس ہزار کی رقم ہے ایک شخص جس نے دوسرے کا دس ہزار دینا ہے اس کو چیک دیتاہے، رقم بینک میں اسی طرح رہتی ہے، غرض اس دس ہزار نے دس بندوں کے کا م بھی آجانا ہے اور بینک میں اسی طر ح پڑے بھی رہنا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کا دعویٰ یہ ہے کہ دس ہزار سے ایک لاکھ کا کام لیاجائے گا تو ترقی کی رفتا ر دس گنا ہوجائے گی۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے پاس سرمایہ نہیں ہے اور وہ کاروبار کا کسی قسم کا کوئی آئیڈیا رکھتے ہیں وہ بینک کے پاس جائیں گے اور سرمایہ لے کر اپنے آئیدیا کو عملی صورت دے سکتے ہیں، کاروبار بڑھاسکتے ہیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ شخص جس کے پاس پاس پیسہ نہیں ہے کاروبار کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے اور ہر ایک کے لئے کاروبار کے یکساں مواقع پیدا ہوچکے ہیں۔ اس میں حقیقت کتنی ہے اور عملی صورت میں ایسا کس حد تک ہوپاتا ہے اس پر ماہرین معاشیات ہی بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔

اس تمام نظام میں سود ایک لازمی عنصر کے طور پر شامل ہو جاتاہے۔ اگر کسی کو قرض کی ضرورت ہے تو کوئی دوسرا شخص بغیر اپنے فائدے کے دیتا نہیں۔ اس میں جہاں قرض دینے والے کا فائدہ ہو تاہے وہیں قرض لینے والے کی ضرورت بھی پوری ہوجاتی ہے اور اس کو بھی کاروبار کے مواقع میسر آجاتے ہیں۔

اس میں دو تین چیزیں قابل غور ہیں۔ یہ سسٹم درست ہے کہ نہیں؟ اس سیمینار میں ایک محاضر کی جانب سے یہ بات آئی کہ یہ سسٹم ہی درست نہیں۔ اسلام میں کاروباری قرضے کا کوئی تصور نہیں اور یہ سود ہے کیونکہ حدیث میں ہے ایک جنس والی اشیاء کا تبادلہ ہاتھوں ہاتھ ہونا چاہیے اور ایک جتنا ہونا چاہیے۔ اگر اسلام میں کاروباری قرضے کا تصور نہیں ہے تو پھر کیا قرضہ صرف اسی صورت میں درست ہے جب کوئی مفلو ک الحال ہو؟ گویا اسلام میں کسی کو کاروبار مضبوط کرنے، بہتر بنانے یا نئے سر ے شروع کرنے کے لئے تو قرض نہیں دیا جاسکتاہے ہاں جب وہ خالی اور کنگال ہوجائے تو تب اس کی مدد قرض کے ذریعے کردو؟ بعض صحابہ، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام کے متعلق روایات میں آتاہے کہ وہ کاروباری قرضے لیا کرتے تھے اوران کے ذریعے کاروبار کیا کرتے تھے، اگر کاروباری اور تجارتی قرضہ درست نہیں تو ان کے اس فعل کوکیسے دیکھیں گے؟

دوسری چیز یہ ہے کہ اس سسٹم کو خرابیوں سے کیسے پاک کیا جا سکتاہے؟ خرابیوں میں ایک تو سود ہے۔ اسلامی بینکنگ کی اب تک جو صورتیں نظر آرہی ہیں اس میں سرمایہ دار کا سر مایہ محفوظ رہے اور بچت بھی دے ان چیزوں کے حوالے سے کوئی اساسی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اسی طرح جو شخص قرض لیتاہے اس کوبھی اس قرض پر کچھ نہ کچھ دینا پڑتاہے۔ یہ سب سود کے نام پر ہو یا اور ناموں پر، ایسے میں اسلامی بینکنگ سرمایہ دارانہ نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لے کر آرہی۔ اس لئے ضرورت ہے کہ اس پر غور کیا جائے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اساسی تصورات سے ہٹ کر اسلامی بینکنگ کچھ پیش کرسکتی ہے یا بینکنگ سسٹم کا لازمی نتیجہ یہی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام سے ہٹ کر اگر کوئی نظام پیش کیاجائے تو کیا اس نظام میں بھی بڑھوتری اور ترقی اسی طرح ممکن ہوگی؟ اگر ممکن نہیں ہوئی تو وہ سرمایہ دارانہ نظام کا مقابلہ کس طرح کرے گا؟ بعض لوگ یہ بات کردیتے ہیں کہ اس قدر ترقی اور بڑھوتری کی کیا ضرورت ہے؟ اس قدر ترقی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں یہ بات ویسے بھی ایک مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ہے لیکن آپ اگر قدیم تصورات پر کھڑے رہ کر ایسا سب کچھ نہیں کرتے ہیں تو دوسری اقوام جو ترقی کے ان ذرائع کو استعمال کررہی ہیں ان کا مقابلہ کیسے ممکن ہوگا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •