پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے نہیں لارڈ ویلزلی نے دیکھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طر ح مطالعہ پاکستان کے مطابق اب تک سب جنگیں مسلمانوں نے ہی جیتی ہیں اس طرح قیام پاکستان کے حوالے سے تمام تر جدوجہد کو مسلمانوں سے منسوب کردیا گیا ہے اور جو تحریک 1800 ء میں شروع ہو گئی تھی اسے 1906 تک محدود کردیا گیاہے۔ نصابی کتابوں میں یہی پڑھایا جا رہا ہے کہ پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا جس کی تعبیر محمد علی جناح کی سربراہی میں مسلمانوں کی بھرپور جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں ملی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیام پاکستان کے خواب کی تکمیل علامہ محمد اقبال کی انقلابی شاعری، خطبات اور قائد اعظم کی قیادت سے ممکن ہوئی ہے تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کے لئے جدوجہد کا آغاز 1906 ء میں ہوا تھا۔

یہ ایک تاریخی مغالطہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد تو 1800 ء میں اس وقت ہی رکھ دی گئی تھی جب لارڈ ویلزلی نے فورٹ ولیم کالج کے قیام کی منظوری دی تھی۔ تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی مملکت کی تشکیل کے لئے مذہبی مما ثلت، مشترکہ ثقافت اور سب سے بڑھ کر اظہارو بیان کے لئے ایک ”زبان“ کا ہونا ضروری ہے۔ فورٹ ولیم کالج کے قیام سے قبل برصغیر پاک وہند میں مشترکہ رائج زبان  ہندی  تھی۔

تاہم مسلمانوں نے اظہار و بیان کے لئے کسی حد تک فارسی کو قومی زبان کا درجہ دے رکھا تھا۔ اسی کی بڑی مثال شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری اور مقالہ جات کی ہے۔ جوکہ زیادہ تر فارسی میں ہی ہیں۔ یا پھر ہمارے قومی ترانہ کو ہی دیکھ لیں اس میں شاید ایک یا دو لفظ اردو کے ہیں باقی تمام الفاظ فارسی کے ہیں یا پھر یوں کہہ لیں کہ فارسی سے مستعار لئے گئے ہیں۔ انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں جب برصغیر پاک و ہند میں قدم رکھا تو وہ اس بات کو بھانپ گئے تھے کہ اگر اقتدار کو طول دینا ہے کہ تو پھر یہاں کے باشندوں کی زبان و بیان میں اختلاف ہونا ضروری ہے۔

اس بنا پر لارڈ ویلزلی نے 1800ء میں فورٹ ولیم کالج کی منظوری دے دی۔ یہ برصغیر پاک و ہند کی پہلی درسگاہ تھی جس میں صرف اردو زبان کوذریعہ تدریس بنایا گیا تھا۔ جان گلکرائسٹ جو کہ اس کالج کے پہلے سربراہ مقرر ہوئے انہوں نے برصغیر پاک و ہند کے کونے کونے سے اردو زبان سے شناسائی رکھنے والوں کو اکٹھا کیا۔ یو ں اسی کالج میں اردو کی پہلی لغت تشکیل پائی اور رسم لحظ مرتب بلکہ کسی حدتک ایجاد کیا گیا۔ طوطا مینا کی کہانی سے شروع ہونے والے اردو ادب کو فورٹ ولیم کالج نے ہی بام عروج تک پہنچایا اور اس طرح سے اردو زبان برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے اظہار و بیان کا ذریعہ بن گئی۔

یہ ایک الگ بحث کے کہ انگریز کے اس زبان کو ترویج دینے کے پیچھے انگریزوں کی نیک نیتی تھی یا نہیں مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ یہی اردو زبان بعد میں مسلمانوں کے نئے بننے والے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی زبان بنی۔ فورٹ ولیم کالج نے جس زبان کی ترویج کی وہی زبان برصغیر پاک و ہند کے باشندوں خاص کر ہندوں اور مسلمانوں کے مابین تضادات کو اجاگر کرنے کا سبب بننی۔ اسی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات نے مسلمانوں کو آگہی دی کہ ان کے لئے علیحدہ وطن ضروری ہے جبکہ قائدین نے اپنے خطابات کے لئے اسی زبان کو ذریعہ اظہار بناتے ہوئے برصغیر پاک وہندکے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور مملکت خداداد کے حصول کے لئے جدوجد شروع ہوئی۔ اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ قیام پاکستان کی بنیاد سن 1800 ء میں رکھ دی گئی تھی اور اس کا خواب لارڈ ویلزلی نے دیکھا تھا تو یہ قطعی طور پر غلط نہ ہوگا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •