میری بیٹی میری بخشش کی ضمانت دے گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی کے بعد سب سے بڑی خواہش یقیناً اولاد کی ہی ہوتی ہے سو ہم دونوں کو تھوڑی زیادہ تھی کیونکہ میں سعودی عرب میں جاب کرتا تھا اور چھٹی پہ پاکستان آیا تھا۔  اللہ کی مرضی کچھ ایسی تھی کہ 6 سال میں تین دفعہ مس کیرج ہو گیا جن میں اک بار سعودیہ میں بھی تھا۔ گھر والے دوسری شادی کی بات کرتے تو میں کہتا کہ اگر نئی بیوی کا رب کوئی اور ہے تو کر لیتا ہوں اور اگر وہی ایک رب ہے تو وہ اسی سے مجھے اولاد دے گا۔

6 سال بعد فائنل پاکستان آیا تو اللہ جی نے چوتھی مرتبہ ہماری سن لی لیکن خوشی سے کہیں زیادہ ڈر تھا کہ اس بار بھی پہلے جیسا نا ہو جائے۔ اور پھر 3 مہینے بعد انتہائی قابل ڈاکٹر نے پھر سے وہی خبر سنا دی جس کا بوجھ ہمارے کندھوں سے بڑھ چکا تھا۔ بیگم نے رونا دھونا شروع کر دیا اور میں حسب سابق اسے اور کبھی خود کو دلاسے اور تسلیاں دینے پہ معمور ہو گیا۔ دو دن بعد جب بیگم اک ہیلتھ ورکر کے پاس گئی تو عجیب خوشگوار حیرت ہوئی کہ پریگنینسی ابھی باقی ہے لیکن ڈاکٹر کے مقابلے میں اک ہیلتھ ورکر کی بھلا کیا حیثیت تھی یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں دوبارہ سے ٹریٹمنٹ شروع کی گئی اور پھر گجرات سے الٹراساؤنڈ اسپیشلسٹ سے فائنل مشاورت کا فیصلہ ہوا۔ ان کی طرف سے مثبت جواب نے تو اجڑا ہوا گلشن جیسے پھر سے بسا دیا ہو۔ وقت کبھی سختی اور کبھی آسانی سے گزرتا رہا اور آخر کار اللہ جی نے تقریباً 7 سال بعد ہمیں بہت پیاری سی گڑیا نور فاطمہ عطا کی۔

فاطمہ ایک سال دو ماہ کی ہوئی تو مالک نے پھر سے امید لگا دی اور ڈر پھر سے ساتھ ساتھ سفر کرنے لگا لیکن اس بار 3 یا 4 تو آرام سے گزر گئے لیکن 6 ماہ بعد اچانک سے بیگم کی طبیعت بہت ناساز ہو گئی۔ وزیرآباد کے اک گائنی ہسپتال میں داخل کروایا تو انہوں نے ابتدائی علاج کر کے دوبارہ تکلیف کی صورت میں گوجرانولہ جانے کا مشورہ دیا۔ رات 10 بجے گھر پہنچے اور دو دن بعد گوجرانولہ جانے کا پروگرام بنا کے سو گئے کہ رات 1 : 15 پہ طبیعت پھر سے کافی خراب ہو گئی فوری ایمبولینس منگوائی اور گوجرانوالہ جو کہ تیس بتیس کلومیٹر تھا سفر شروع ہوا۔

دن بھر تھکاوٹ اور نیند سے بھری آنکھیں لئے میں بیگم، اس کی بہن اور ان کے شوہر کے ساتھ رات 2:50 پہ گوجرانوالہ پہنچا۔ کچھ دوست وہاں ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ابتدائی چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ بہت سی سہولیات کے باوجود 6 ماہ کے بچے کے لئے یہاں نرسری نہیں ہے لہذا وقت ضائع کیے بنا لاہور لیڈی ولنگڈن ہسپتال کا مشورہ دیا گیا۔ اور پھر ہم 4:25 پہ وہاں پہنچ گئے نماز فجر یہاں پہنچ کے پڑھی اسی دوران بیگم کی ایک بڑی بہن اور ان کے شوہر بھی تشریف لے آئے۔

چیک اپ کے بعد داخل کر لیا گیا اور 8 بجے تک ڈاکٹرز کے آنے کا انتظار کرنے کا مشورہ ملا۔ ڈاکٹرز نے مزید اور آپسی مشاورت پہ مطلع کیا کہ نوعیت کافی سنجیدہ ہے لیکن نا امیدی ہرگز نہیں۔ جمعرات کا دن غنیمت جانا اور چند میٹر کے فاصلے پہ دربار داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ پہنچ گیا سلام دعا کے بعد مالک سے اس نیک بندے کی وساطت سے دعا چاہی اور واپس ہسپتال آن پہنچا۔ انتہائی قابل پروفیسر ڈاکٹرز کی ٹیم یہاں موجود تھی جو ہر صورت اس بچے کو بچانا چاہتے تھے سٹاف بھی کافی کواپریٹیو تھا اور اے ایم صاحب ڈاکٹر سید واجد کی شفقتیں ادھار ہیں مجھ پہ۔

تین دن اور راتیں یہاں گزر چکی تھیں جن کی اذیت بیان سے باہر ہے۔ یہاں بھی وہی سلسلہ چل نکلا کہ ”بچہ محفوظ ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں۔“ پھر کہا جاتا ”بچہ کمزور ہے چانس نہیں ہیں۔“ میں نے ساری کوششیں اور دعائیں کرنے کے بعد معاملہ مالک کائنات کی سپرد کر دیا تھا۔ آپریشن کی اجازت بھی دے دی۔ یوں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب تقریباً 12 بجے پیغام آیا کہ ہم بچے کو نہیں بچا سکے۔ یہ خبر تو دماغ میں ٹلیوں کی طرح بجے جارہی تھی۔ سوچ رہا تھا پہلا لفظ کیا ادا کروں پھر واصف علی واصف کی بات یاد آ گئی کہ، صبر وہ ہوتا ہے جو تکلیف کے آغاز میں کیا جاتا یے۔

بس پھر الحمدللہ کہا!

مجھے تو آپریشن کا بتایا بھی نہیں گیا تھا۔ پھر اچانک سے ایسی خبر جس نے ساری امیدوں اور آسوں کو ایک جھٹکے سے ختم کر دیا، اندر کہیں کچھ ٹوٹ سا گیا تھا۔ 4 راتوں سے مسلسل جاگتا ہوا جسم دن بھر کی تھکاوٹ اور غبار سے اٹا پڑا تھا لیکن ہمت قائم تھی سو وہ بھی جواب دے گئی۔ خیر بیگم کی فکر کھانے لگی لیکن وہ بہتر تھی۔ اس خبر سے بالکل بے خبر نیم بے ہوشی میں بیڈ پہ پڑے چھت کو گھورے جا رہی تھی۔ اندر سے آواز آئی کہ بچی کو لے جاؤ اور دفنا دو یہاں رکھنا منع ہے۔ اب رات کے 2 بجے چکے تھے ایسے وقت بھلا کہاں لے کے جاتا۔

اپنے ہم زلف بھائی کے مشورے سے کچھ پیسے سٹاف کی نظر کیے اور صبح فجر تک انتظار کا کہا۔ اور خود ٹانگیں گھسیٹتا ہوا کوئی خالی بینچ ڈھونڈنے لگا۔ چار راتوں سے بینچ پہ ہی تھوڑی بہت آنکھ لگ جاتی تھی بینچ تو مل گیا لیکن نیند سے بوجھل آنکھیں جن میں کھلنے کی سکت بھی ختم ہو چکی تھی پھر بھی بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ انہیں سوچوں میں گم تھا کہ رات 3 بجے کے قریب بیگم کی 263 ویں کال آئی کیونکہ 4 دنوں میں ہمارا رابطہ مسلسل تھا۔ میں کال کاٹ کے خود کی تو دھیمی سی پر سوز آواز آئی ”عمران ہمارے گھر کیا ہوا ہے بیٹی کہ بیٹا؟“

یوں لگا جیسے کسی نے الیکڑک شاک لگا دیا ہو۔ زبان سے پہلے آنکھیں بول پڑیں۔
لیکن پھر حوصلہ کر کے کہا کہ ”بیٹی ہوئی ہے۔“

پھر آواز آئی ”وہ ٹھیک تو ہے نا؟“
اب کیا جواب دیتا؟

بس اتنا کہا کہ ”کمزور ہے بہت ڈاکٹر کہہ رہے ہیں چانس بہت کم ہے۔“
وہ روتی ہوئی بولی ”عمران انہیں کہو اسے بچا لیں بچے بہت مشکل سے پیدا ہوتے ہیں۔ “

دل تو چاہ رہا تھا چیخیں مار کے روؤں لیکن مجھے حوصلہ دینے پہ فائز کر دیا گیا تھا۔ خیر جھوٹی تسلیاں دے کے اسے سلادیا۔ اور خود بے سدھ بینچ پہ لیٹ گیا کب آنکھ لگی یاد نہیں لیکن ٹھیک اذان سے ایک منٹ پہلے جیسے کسی نے اٹھا دیا ہو۔ اذان سنی تو آٹھ کے مسجد کی طرف چل پڑا نماز پڑھی تو کال دوبارہ آ گئی کہ بچی کو لے جائیے اب ہم نہیں رکھ سکتے۔ ہم زلف کو کال کی تو انہوں نے فوراً گاڑی بھیجی لیکن انتظار مشکل لگ رہا تھا اور حالت بھی نا قابل بیان تھی کسی کا سامنا کرنے سے پہلے اکیلے ہی رکشے پہ قبرستان جانے کا ارادہ کیا۔

آپی بچی کی میت رکشے میں دے کے چلی گئی۔ وہ مجھ سے ڈرتی نہیں رو رہی تھی اور میں اس سے ڈرتا۔ لیکن آنکھوں میں اشکوں کا سمندر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ خیر میانی صاحب قبرستان کا سفر شروع ہوا۔ چند گرام وزن کی ننھی سی کلی اپنے ہاتھوں میں اٹھائی تو بوجھ سے کندھے بھی جھک گئے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ سینے سے لگی بابا سے کچھ کہنا چاہ رہی ہو۔ چند کلومیٹر کے اس سفر کی مسافت آج ہزار میلوں سے دشوار دکھائی دیتی تھی۔ قبرستان پہنچ کے رسید حاصل کی اور قبر کشائی شروع ہوئی یوں لگ رہا تھا جیسے گورگن میرے اندر کہیں کھدائی کر رہا ہو۔ چہرہ دیکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی لیکن یقین تھا کہ پیاری ہے۔ نور فاطمہ جیسی !

اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈالی اللہ جی کی امانت ان کے حوالے کی تو غازی علم دین شہید کی قبر کا رخ کیا۔ سلام کیا ہی تھا کہ جیسے کسی نے سینے سے لگا لیا ہو۔ ذبح ہوتے جانور کے خون کے فوارے کی طرح آنسو سب بندھ توڑ کے باہر نکل آئے۔ لیکن اسی لمحے خیال آیا کہ کہیں بے صبر نا لکھا جاؤں۔ گورکن کو کچھ اضافی پیسے دیے کہ قبر کا خیال رکھے سید زادی ہے۔ اب آنکھیں تو نم ہونی تھیں نا۔ اہل قبرستان کہ لئے دعا کرتا ہوا واپس رکشے میں بیٹھا تو خالی ہاتھ بھی بہت بوجھل لگ رہے تھے۔ بہت سے سوال دل و دماغ پہ دستک دے رہے تھے اور خود ہی جواب بھی ملتے جاتے تھے۔

میری بیٹی میری بخشش کی ضمانت دے گئی تھی میں باپ ہو کہ اسے کچھ نا دے سکا۔
یہ سزا تھی یا امتحان مالک ہی جانتا ہے۔

لیکن ہسپتال واپس پلٹ کہ موبائل کھولا تو آج کی آیت جو مجھے بھیجی گئی تھی اس کا مفہوم کچھ یوں تھا: ”بے شک وہ جن سے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں! “

واپسی پہ اس کی ماں کی دوبارہ کال آئی تو اس نے پھر پوچھا کہ ”عمران ہماری بیٹی اب کیسی ہے؟“
اور میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید عمران علی شاہ کی دیگر تحریریں
سید عمران علی شاہ کی دیگر تحریریں