کشمیر میں منسوخ ہونے والے آرٹیکل اور ان کے منسوخ ہونے وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی انڈیا میں دوبارہ حکومت آئی ہے تب سے ہی بحث چل رہی تھی کہ کشمیر کے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کیا پالیسی اپنائے گی۔ کیونکہ اب کی بار پردے کے پیچھے رہ کر سیاست کرنے والے مودی کا دوسرا روپ سمجھے جانے والے امیت شاہ بھی پارلمینٹ کا حصہ بننے جا رہے تھے۔ ناجاننے والوں کے سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ امیت شاہ اور نریندر مودی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں ہی جبر، ظلم اور مسلمانوں پر تشدد کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ دونوں بھارتی گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام کرکے اور مسلمانوں کے ناموں پر رکھی گئی جگہوں کے ناموں کو ہندو بنانے کے لیے ہندوؤں کے ناموں پر بدل کر اس کا نمونہ پیش کر چکے ہیں۔

امیت شاہ کے اسمبلی میں آنے کے بعد سے الیکشن جیتنے کے بعد ہی کشمیر کے متعلق باتیں شروع ہو گئی تھیں۔ بعد میں جب شاہ کو وزیرِ داخلہ بنایا گیا تو ڈر آہستہ آہستہ تشویش سے ہوتا ہوا حقیقت میں بدلتا ہوا نظر آنے لگا۔ جولائی کے آخر میں امیت شاہ نے جموں کشمیر میں فوج کو بھاری تعداد میں اتارنا شروع کردیا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے صورتِ حال اس سے بھی ابتر ہوتی گئی اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ پاکستان کو وادیِ نیلم کو سیاحوں کے لیے بند کرنا پڑا۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں احتجاج بڑھنے لگا لیکن بھارت اپنے مکروہ عزائم کو عملی شکل دینے کی پہلے ہی مکمل تیاری کر چکا تھا۔ آج اس کو عملی شکل دیتے ہوئے امیت شاہ نے اسمبلی میں آرٹیکل 35 A اور آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ بھارت کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق 4 بل پیش کیے۔

‎مقبوضہ وادی کشمیر کو دو ریاستوں میں تبدیل کرنے کا بھی اعلان کردیا۔ ایک حصہ لداخ کہلائے گا جس کو ہندوستان مرکز سے کنٹرول کرے گا۔ دوسرا جموں و کشمیر کہلائے گا جس کی الگ اسمبلی ہو گی۔ بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے۔

اور دوسری طرف پاکستان گورنمنٹ کی یہ صورتحال ہے کہ جیسے روم کے متعلق مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو چین سے بانسری بجا رہا تھا۔ اسی طرح اب میں نے دیکھا ہے کہ جب بھارت کشمیر کے متعلق گھناؤنے اقدامات کر رہا تھا اور کشمیری ظلم اور جبر کی آگ میں جل رہے تھے تو ہمارے وزیراعظم صاحب اقوامِ متحدہ کو بھارتی رویہ پر نظر ثانی کرنے کا کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بری ہو کرپودے لگا رہے تھے۔ اور درباری مورخ چین ہی چین ہی لکھ رہے تھے۔

بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آرٹیکل 35 A اور 370 کیا ہے اور اس کے کشمیر اور کشمیریوں کو کیا نقصانات ہوں گے۔ آرٹیکل 35 A کو اسملبی میں پیش کیے بغیر براہ راست صدارتی حکم نامہ کے بعد آئین کا حصہ بنایا گیا تھا۔

میں نے آرٹیکل 35 A اور 370 کے اہم اہم نکات کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

آرٹیکل 370 کشمیر کو اپنا علیحدہ آئین، الگ جھنڈا، اور ہر طرح کے معاملات میں اپنی آزادانہ رائے رکھنے کی آزادی دیتا تھا ( صرف باتوں کی حد تک) سوائے خارجہ پالیسی، دفاع اور ابلاغ کے۔

اس آرٹیکل کے مطابق کشمیری شہری وہ تصور کیا جائے گا جو 14 مئی 1954 ء میں اس قانون کے بننے کے بعد سے کشمیر میں رہ رہا ہی۔ یا شہری وہ ہو گا جو دس سال سے وادی میں رہ رہا ہے۔ یہ قانون کشمیر اور لداخ دونوں پر لاگو تھا۔

آرٹیکل 35 A کے تحت کوئی بھی باہر سے آنے والا کشمیر میں پراپرٹی نہیں خرید سکتا۔ باہر سے آنے والے گورنمنٹ جاب یا سکالرشپ نہیں حاصل کرسکتے تھے۔ جو بھی شہری مانا جاتا تھا اس کو سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ موقف رہا تھا کہ یہ قانون جداگانہ تفریق پر مبنی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ قانون کشمیر کو ترقی کرنے سے روکتا ہے۔ کشمیر کے Land of opportunity بننے کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ صرف یہی قانون ہے۔

کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کو ختم کرنے سے بھارتی حکومت کشمیر کو خاص ریاست کا درجہ دینے کے اپنے وعدہ سے مکر رہی ہے۔ اس فیصلہ سے باہر سے آ کر لوگ کشمیر میں سکونت اختیار کریں گے۔ جس سے کشمیر کی زمینی حیثیت کو بہت نقصان ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •