دہشت گردوں سے ایک مقابلے کی کوریج اور صحافیوں کی مشکل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ فیلڈ رپورٹر تقریباً تمام شعبہء زندگی سے بخوبی واقف ہوتے ہیں جن میں سیاست، حکومتی نظام، اداروں اور محکموں کے طور طریقے، کھیل کے میدان اور حادثوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سمیت دیگر شامل ہیں۔ یوں تو ہر شخص اپنی دلچسپی اور شوق سے متعلق معلومات حاصل کرتا رہتا ہے لیکن ہرشے کے بارے میں اطلاع رکھنا یقیناً آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے آپ کو خبر سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے ہر رنگ میں رنگنا پڑتا ہے۔

2014 میں رمضان کے مہینے میں ایک روز سحری سے کچھ دیر پہلے مجھے دفتر سے کال موصول ہوئی کے رائیونڈ کے علاقے پنڈ آرائیاں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی ہے اور اُن کے خلاف آپرشن کی تیاری کی جا رہی ہے لہٰذا آپ وہاں موقع پر پُہنچ جائیں۔ میں رات کے اندھیرے میں سحری سے کچھ دیر پہلے فٹافٹ کچھ کھا پی کے اپنی کیمرہ ٹیم کے ساتھ فوراً جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گیا کچھ دیر میں وہاں پُہنچا تو پولیس اور انسدادِ دہشت گردی فورس کے اہلکار جگہ کو گھیرے میں لے چکے تھے اور ایک حد سے آگے جانے کی اجازت ہر گز نہیں تھی۔

گرمی کی شدت اور برسات کی حبس کی وجہ سے سخت حالات تھے۔ ہم کچھ فاصلے پر کھڑے صورت حال کا جائزہ لے رہے تھے اور دن کی روشنی بھی ہو رہی تھی۔ جیسے ہی آسمان کا رنگ سفید ہوا تو علاقہ دھماکوں اور فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھا، شدید فائرنگ کی وجہ سے ہمیں لائیو رپورٹنگ کے لئے ایک محفوظ مقام کی چھت پر پُہنچا دیا گیا۔ ہم کافی فاصلے پر ہونے کے باوجود سارے آپریشن کو مانیٹر کر سکتے تھے۔ کچھ دیر فائرنگ کے بعد ایمبولینس جائے وقوع کی طرف جاتی دکھائی دی لیکن وہ بھی کچھ فاصلے پر جا کہ رک گئی۔

ہم ساری صورت حال کے بارے میں اپنے چینل کو آگاہ بھی رکھے ہوئے تھے روزے کی حالت میں پیاس کا احساس بھی بہت بڑھ چکا تھا۔ اب سورج پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا کچھ دوستوں نے سر پر گیلا کپڑا باندھ لیا اور کچھ چھاؤں کی تلاش میں لگ گئے۔ مجھے بھی سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی میں نے اپنے دفتر کال کی۔ میں چاہتا تھا کہ اب کوئی اور رپورٹر آئے جو آگے صورتحال کو سنبھالے لیکن دفتر سے پنڈ آرائیاں کا فاصلہ کافی زیادہ ہونے کی وجہ سے فوراً متبادل ممکن نہ تھا۔

صبح کے دس بج چکے تھے اور دوپہر کا خبرنامہ بھی سر پر تھا۔ واقعے کی حساسیت اس لئے بھی زیادہ تھی کہ سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب ہی دہشتگرد ٹھہرے ہوئے تھے۔ اطلاعات یہی تھیں کہ وزیراعظم پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ کچھ دیر میں انسدادِ دہشت گردی کے وزیر کرنل شجاع خانزادہ شہید کو اپنی طرف آتے دیکھا تو لگا کہ شاید آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے آکر بتایا کہ ”سکیورٹی کے اہلکاروں نے کافی حد تک صورتحال پر قابو پا لیا ہے مگر دہشگردوں کے پاس بھاری اسلحے کی موجودگی کی اطلاع ہے لیکن سب سے بڑی رکاوٹ عورتیں اور بچے ہیں جو دہشت گردوں کے ہمراہ ہیں لہٰذا ابھی بھی کچھ وقت لگے گا۔ “

یہ اطلاع بھی کسی حملے سے کم نہ تھی۔ لگتا تھا کہ شاید اب زندگی یہیں گزرنے والی ہے۔ جب دوپہر کا خبرنامہ ختم ہوا ہم چھت سے لائیو رپورٹنگ کر کے فارغ ہوئے تو ہمت جواب دے چکی تھی۔ حلق صحرا کی طرح خشک ہو چکا تھا لگتا تھا کہ گولی نہیں تو پیاس سے ضرور مر جائیں گے۔ اب روزہ توڑ دینے کہ علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں نے ایک مولوی صاحب کو کال کی اور ساری صورتحال بتائی اور کوئی فتویٰ لینے کی کوشش کی تو انہوں نے بات گول مول کردی۔ خیر فیصلہ کر لیا کہ پانی پی لیا جائے کچھ فاصلے پر ایک کریانہ سٹور تھا لیکن آپریشن کی وجہ سے بند کروا دیا گیا تھا۔ دوپہر کا وقت ہوچکا تھا پانی کی تلاش میں نکلتے ہی ایک بار پھر زور دار دھماکہ کے ساتھ فائرنگ کی آواز آئی۔ ہم چھت کی طرف بھاگے اوپر پہنچتے ساتھ ہی دیکھا کہ ایک گھر سے شدید دھواں اٹھ رہا ہے، اس کہ ساتھ ہی پورا گاؤں اور علاقہ اللّٰہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھا۔ انسدادِ دہشت گردی فورس کے اہلکاروں نے اسلحے کو لہراتے ہوئے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

دہشت گردوں کی لاشوں کو ایمبولینس میں ڈال کر روانہ کردیا گیا۔ سابق صوبائی وزیر کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ جو کہ بعد ازاں 16 اگست 2015 کو اٹک میں اپنی رہائش گاہ پر دہشتگردانہ حملے میں شہید ہوئے، وہ ایک بہادر، محب وطن اور نفیس شخص تھے، انہوں نے پولیس اور آرمی افسرز کے ساتھ آکر میڈیا کو بتایا کہ تمام دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ آپریشن مکمل کر لیا گیا تھا اور میڈیا کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت مل چکی تھی۔ میں گاؤں کہ اندر پیدل چلتا ہوا اس گھر تک پہنچا تو ایسا منظر کبھی نہ دیکھا تھا ایک گھر پر گولیوں کے اتنے نشان دیکھ کر حیرت زدہ تھا لگتا تھا جیسے عراق میں جنگ کا کوئی منظر ہو۔

ابھی ہم یہ سب دیکھ ہی رہے تھے کہ گھنے کالے بادلوں نے اتنی بارش برسائی کہ پورا گاؤں ہی دھل گیا ایسا لگا کہ اس گاؤں یا شہر پر سے کوئی بہت بڑا عذاب ٹل گیا ہو۔ ٹھنڈی ہوا کے چلتے ہی پیاس کی شدت میں بھی کمی آگئی اب واپس جانے کا وقت ہوچکا تھا عصر کے وقت ہم نے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ گھر پہنچتے ہی شربت بنوایا لیکن آنکھ لگ گئی اور روزہ بھی بچ گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •