EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کی غنڈہ گردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"saleemلڑکیاں پنجاب یونیورسٹی لاہور کی“ ہم سب میں چھپا تو بڑا شور ہوا۔ جمعیت نے اپنا باقاعدہ ردعمل شائع کرایا لیکن پھر واپس لے لیا۔ لوگوں کے اتنے زیادہ تبصرے اور سوالات آئے کہ مجھے لگا لوگوں کو مزید معلومات درکار ہیں لہٰذا اگلی قسط حاضر ہے۔

میں یہ وضاحت بھی کر دینا چاہتا ہوں کہ میں جمعیت کے تمام لوگوں کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ ان کے ساتھ میرا نظریاتی اختلاف بالکل واضح ہے لیکن میں پرامن مکالمے کا قائل ہوں۔ گالی کا جواب بھی گالی سے نہیں دیتا۔ میں انہیں کافر، غدار یا انسانیت کا دشمن نہ سمجھتا ہوں نہ ہی ایسا کہتا ہوں۔ بات صرف اتنی ہے کہ میری ناقص رائے میں جمعیت کے نظریات ہمارے معاشرے میں پسماندگی کی اہم وجوہات میں سے ایک ہیں۔ اس لئے یہ موضوع بحث ہیں۔

جمعیت کے دوستو، میرا اور آپ کا نظریاتی فرق کچھ یوں ہے۔

(1) میرے لئے عقیدہ میرا اور میرے خدا کا معاملہ ہے۔ کسی کو اس میں دخل دینے کا حق نہیں ہے۔ جب کہ آپ ہر وقت دوسروں کے عقائد کو درست کرنے میں لگے رہتے ہو۔

(2) میں \”لا اکراہ فی الدین\” کا قائل ہوں۔ آپ دوسروں کو کافر قرار دیتے ہیں اور پھر اس کی سزا کا نعرہ لگاتے ہیں جو میرے نزدیک مذہبی آزادی سے لگا نہیں کھاتا۔

(3) میں مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کا مخالف ہوں۔ جبکہ آپ مذہب اور فرقہ کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کرتے ہیں۔ آپ اہل تشیع، احمدی اور ہندؤوں کے بارے میں اپنی سوچ اور بیانات کو ذرا پرکھ لیں۔

(4) میرے نزدیک سب لوگوں کی مذہبی آزادی بہت اہم معاملہ ہے۔ اور کسی بھی ملک کے سب لوگوں کو مذہبی آزادی صرف اسی صورت میں میسر آ سکتی ہے جب ریاست غیر جانب داری سے لوگوں کے اس حق کی حفاظت کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ صرف سیکولر ریاستوں میں سب لوگوں کو مذہبی آزادی ملتی ہے۔ میرا خواب ایک سیکولر پاکستان ہے جس میں سب لوگ برابر کے شہری ہوں جب کہ آپ کے نزدیک سیکولرزم گالی ہے۔

(5) میں تمام انسانوں کے لئے بنیادی انسانی حقوق کی برابری کا قائل ہوں جبکہ آپ عورتوں کو مردوں سے کم تر سمجھتے ہیں اور بچوں اور بچیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے بھی قائل نہیں ہیں۔ ان کے خلاف تشدد کو جائز قرار دیتے ہیں۔

(6) میں عورتوں اور بچوں کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کا مخالف ہوں جبکہ آپ عورتوں اور بچوں کے خلاف گھر، سکول یا مدرسہ میں جسمانی اور جنسی تشدد کے خلاف نہیں ہیں۔ تبھی تو آپ اس سلسلے میں کسی بھی قانون سازی کی مخالفت کرتے ہیں۔

(7) میں ریپ کو ایک گھناؤنا جرم سمجھتا ہوں جبکہ آپ اس کو دو بالغ لوگوں کے مرضی سے قائم کردہ جنسی تعلق کے ساتھ مکس کر دیتے ہو۔ اسی لئے آپ کے خیال میں ریپ کو ثابت کرنے کے لئے عورت چار چشم دید گواہ لائے ورنہ چپ رہے۔ مولانا منورحسن صاحب کا بیان آن ریکارڈ ہے۔ چار چشم دید گواہ تو دوسروں پر زنا کا الزام لگانے والے کی ذمہ داری تھی تاکہ لوگ بہتان تراشی سے باز رہیں۔

(8) آپ عورتوں کے خلاف ہونے والے جنسی تشدد کا الزام عورت کے سر ہی تھونپتے ہیں۔ مثلاً آپ کے خیال میں عورتوں کے خلاف جنسی ہراسانی کی اصل وجہ عورتوں کا لباس ہے۔ اس جرم کو روکنے کے لئے قانون سازی کی کوششوں کے آپ مخالف تھے۔

(9) میرے نزدیک موجودہ دور میں بچوں یا بچیوں کی شادی کرانا یا بڑوں کو اپنی مرضی کی شادی سے روکنا جرم ہے۔ آپ اس زمانے میں بھِی کم عمر بچیوں کی شادیوں کے حامی ہو حالانکہ میڈیکل سائنس کی رو سے یہ ان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا موجب ہو سکتی ہے۔ اور عورتوں کو مرضی کی شادی کرنے پر قتل کرنے والوں کو بچانے کے بہانے ڈھونڈتے ہو۔ آپ ان دونوں جرائم کے خلاف قانونی سازی کی مخالفت کرتے ہو۔

(10) میں فیملی پلاننگ کو سب لوگوں، خاص طور پر عورتوں، کا بنیادی حق سمجھتا ہوں جب کہ آپ فیملی پلاننگ کے مخالف ہو۔ عورت کو اس کی بچہ دانی کی ملکیت بھی نہیں دیتے ہو۔

(11) میرے نزدیک انسانوں کا ایک دوسرے سے منہ چھپائے پھرنا انسانی عظمت کے خلاف ہے جب کہ آپ چاہتے ہو کہ انسانوں کی آدھی آبادی دوسری آدھی آبادی سے منہ چھپائے پھرتی رہے۔

(12) میں بچوں کو سکولوں میں سچ پڑھانے کا قائل ہوں جب کہ آپ ہمارے جھوٹ سے بھرے سلیبس میں کسی بھی تبدیلی کے مخالف ہو۔

یہ تو ایک جھلکی ہے۔ ہمارے نظریاتی اختلافات کی باقی فہرست پھر کبھی۔ اب آتے ہیں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں جمعیت کی کارکردگی کی جانب، تو ملاحظہ ہوں چند حقائق؛

میں درجنوں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنہیں جمعیت نے اغواء کیا اور ان پر تشدد کیا۔ ان میں میرے قریبی دوست اور میرے جاننے والے بھی شامل ہیں۔ میں نے ایسے زخمی لوگوں کی تیمارداری بھی کی ہوئی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھنے والوں سے یہ بات چھپی نہیں ہے۔

یہ کھلا راز ہے کہ جمعیت کے پاس جدید اسلحہ کے انبار ہوتے تھے۔ یونیورسٹی کیمپس میں اتنا مہلک اسلحہ رکھنے کا کیا مطلب ہے۔ یہ اسلحہ طالب علموں کی ضرورت ہوتا ہے یا غنڈوں کی۔

میں 1983 میں سائنس کالج وحدت روڈ کا طالب علم تھا۔ بلیک ایگلز الیکشن جیتی تھی۔ لیکن یہ کالج نیو کیمپس کا پڑوسی ہونے کے ناطے جمعیت کے عتاب میں رہتا تھا۔ کالج کے ایک فنکشن میں جمعیت نے ہلڑ بازی کی۔ تشدد کے خوف سے سب لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ عبداللہ، بلیک ایگلز کا لیڈر بالکل میرے پاس کھڑا تھا۔ جمعیت کا ایک لڑکا آیا اور چند فٹ دور کھڑے ہو کر پستول عبداللہ پر تانی اور گولی چلا دی۔ ادھر گولی چلنے کی آواز آئی ادھر عبداللہ کے پیٹ سے خون کا فوارہ پھوٹا۔ کئی سال بعد بھی گولی چلانے والے اس لڑکے کو نیو کیمپس کے ایک نمبر ہاسٹل میں میں نے خود دیکھا۔ یہ ایک کھلا راز تھا کہ جمعیت نے کئی مجرموں کو لڑائیوں میں استعمال کرنے کے لئے پناہ دے رکھی تھی۔

پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کا قانون تھا کہ مردوں اور عورتوں کا مکس گروپ کسی کنٹین پر بیٹھ کر کچھ کھا پی نہیں سکتا۔ میں یونیورسٹی چھوڑنے کے تین سال بعد 1991 اپنی بیوی کے ساتھ نیو کیمپس گیا۔ ہم نے ہاسٹل کی فروٹ شاپ پر موٹر سائیکل روکی۔ سب لوگ پہچان گئے اور بڑی آؤ بھگت کی۔ ہم نے جوس کے دو گلاس آرڈر کئے تو بیچارے معذرتیں کرنے لگے۔ کہنے لگے \”آپ کو پتا ہے وہ ہماری دکان کی دھجیاں اڑا دیں گے\”۔ پاکستان کی باقی کسی جگہ پر ایسا کوئی قانون نہیں ہے آخر پنجاب یونیورسٹی میں یہ قانون کیوں تھا اور کس نے بنایا تھا؟

یونیورسٹی میں آدھی رات کو اچانک دوستوں کا فروٹ شاپس چلا جانا عام تھا۔ ایسی ہی ایک رات کو ہم چند دوست جوس کا آرڈر دے کر بیٹھے تھے کہ جمعیت کے لوگوں نے ہم سے بدتمیزی کی اور ڈرایا دھمکایا فروٹ شاپ کو منع کر دیا کہ وہ ہمیں جوس پیش نہ کریں۔ وجہ صرف یہ تھی کہ ہم میں ایک لڑکے نے برمودہ شارٹ پہن رکھی تھی۔ ہم نے بد تمیزی برداشت کی اور واپس کمرے میں آ گئے۔ ورنہ اگلا مرحلہ تشدد ہی تھا۔

لڑکیوں کے خلاف جنسی ہراسانی کے بہت سارے واقعات کئی خواتین نے پچھلے آرٹیکل پر تبصروں میں لکھ دئے ہیں۔ اپنے پچھلے بلاگ \”لڑکیاں پنجاب یونیورسٹی لاہور کی\” میں جس خاتون کا واقعہ میں نے بیان کیا ہے اس خاتون کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ اس نے یہ واقعہ روتے ہوئے بیان کیا تھا۔

دو اہم سوالات۔ (1) کیا وجہ ہے کہ اسی کی پوری دہائی میں پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے علاوہ کبھی کسی سٹوڈنٹ تنظیم نے نئے داخلوں کے موقع پر سٹال تک نہیں لگایا۔ (2) کیا وجہ ہے کہ حافظ سلمان بٹ صاحب کو ہرانے والا پنجاب یونیورسٹی کا جنرل سیکرٹری اپنے پورے دور میں پنجاب یونیورسٹی میں نہیں دیکھا گیا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جمعیت کے پاس تھانیدار اور جج بننے کا کیا جواز ہے۔ ایک تہذیب یافتہ معاشرے میں اگر کوئی طالب علم، ملازم یا ٹھیکیدار یونیورسٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یونیورسٹی انتظامیہ ایکشن لے سکتی ہے۔ جمعیت کو ایکشن لینے کا حق کس نے دیا ہے۔ کیوں کر جمعیت لوگوں کو مجرم قرار دیتی ہے اور تشدد کر کے سبق سکھاتی ہے۔ کیا ریاست کے قانون کو یوں اپنے ہاتھ میں لینا فساد فی الارض نہیں کہلائے گا؟  ڈسپلن، اخلاقیات اور مذہب کے نام پر خود ہی تھانیدار اور جج بن بیٹھنا صریح غنڈہ گردی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 277 posts and counting.See all posts by salim-malik

5 thoughts on “پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کی غنڈہ گردی

  • 21/09/2016 at 2:24 شام
    Permalink

    Dear Saleem sb
    Ehtelafat apkay jameyat say nhy lgtay Allah T.A say aor Kitaab Ullah say dekaye daitay hain. kion keh oper maximum nazreyaat to aasmany hy bharhaal bqool aapkay ye apkaa zaty muaamelaa hy. laikn 30 saal pehlay aap kion khamoosh thay? apkay samnay etnay wardaat huway apkaa zameer aby kion jaagaa? qesoor sirf jameyat ka nhy apkaa b hy, apnay zulam may tashadud may ghunda grdy may Haq talfy may edaaray ky badnaamy may nizaam ky hraaby may 99% saath deyaa hy awr belhusoos ab 30 saal baad ek taalemy edaaray ko entezaameyaa ky badnaami ko meray hyaal may badnaamy ky kooshish ho rhy hy?. 30 saala purany files ko apnay qalam say taaza kraana koyee other motive show kar rhaa hy. per kiaa kray yahy to kamzory hy apnay qabeleyat ,ehtyaarat ,uhday aor asar o rasooh najayez estemaal karnay ka. kia hy aisaa? jis nay apkay 30 saala murday zameer ko ghezaa bakhshy, kiaa hy aisaa jameyat may Jo anpny 4 5 seats per apkay Secular Pakistan bannay k khwaab ko pura hunay nhy daitaa? apkay dono columns may aisa koye nhy Jo apkay Sahaafat ko credit day, kionkeh sahaafy hazraat tazaadat nhy raktay. naa sahaafat may seyaasat ka traz apnaatay hy. chloo teek hy aglay column may ek zemadaar sahafy aor mukhlis shehry humay Zahir karaaday Jo kisy formula per apkay 30 years mazlomeyat ky tlaafy karday and aayenda k leye ye zulam na honey dain.

    Reply
  • 21/09/2016 at 5:57 شام
    Permalink

    درست لکھا ہے۔ خود ان کے لئے سب حلال ہے۔ میں نے خود کچھ جماعتیوں کو وی۔سی گراونڈ میں ڈیٹ پر دیکھا ہے۔ اور اسی گراونڈ میں لڑکے لڑکیوں کو پکڑتے بھی۔

    Reply
  • 21/09/2016 at 9:45 شام
    Permalink

    2008 میں یونائٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کچھ لڑکوں کو ہاسٹل کے فرسٹ فلور سے تشدد کر کے نیچے گرایا گیا تھا جن میں سے ایک لڑکا مر بھی گیا تھا

    ہمارا ہی ایک کلاس فیلو اپنی سابقہ کلاس فیلو کے ساتھ اور ایک اور جوڑا ایک ہی دن میں پکڑا اور شدید طریقے سے مارا جبکہ پروفیسر خالد رشید صاحب نے جب روکا تو انہوں نے پہچانا کہ سب بدمعاش یونیورسٹی سے خارج کئے ہوئے ہیں

    Reply
    • 22/09/2016 at 7:48 شام
      Permalink

      جو حضرات شور مچاتے رہتے ہیں کہ جمیعت والے پنجاب یونیورسٹی میں طلباء بالخصوص لڑکیوں کی آزادی کے خلاف ہیں تو ایسے تمام حضرات کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ آپ بے غم ہو کر اپنی بہنوں’ بیٹیوں اور گھر کی دیگر خواتین کو پنجاب یونیورسٹی میں داخل کروائیں… ہم انھیں مکمل آزادی دیں بھی دیں گے اور ہمارے لائق جیسی بھی خدمت ہو گی وہ بھی کریں گے- شکریہ

  • 24/09/2016 at 9:00 صبح
    Permalink

    جی آپ کا تبصرہ یقینا آپ کے معیار کے مطابق ہے۔ اور آپ کے معیار کی اسی پستی کی وجہ سے اس معاشرے میں ساری منافقت ہے۔ یہ آپ ہی کا حوصلہ ہے کہ آپ اپنی ماں بہن کو انسان نہں سمجھتے۔ اس پر شک کرتے ہو۔ اور سمجھتے ہو کہ اسے اگر انسانی حقوح مل گئے تو وہ تھرتھلی ڈال دے گی۔ اپنی ماؤوں بہنوں اور بیٹیوں پر رحم کرو۔ وہ انسان ہیں۔ اس لئے سیکس باقی تمام ضروریات میں سے صرف ایک ہے۔ آپ تو اس کے متعلق ہر وقت یہی سوچتے رہتے ہو۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر آپ کی ماں بہن پر تم اتنی پابندیاں نہیں لگاؤ گے پھر بھی وہ ایک معقول زندگی گزارے گی اور آپ کی طرح ہر وقت سیکس کا ہی نہیں سوچ رہی ہو گی۔ آپ یہ سوال اپنی ماں یا بہن سے بھی پوچھ سکتے ہیں وہ میری بات کی ضرور تصدیق کریں گی۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے