خوشی و لطف سے بیگانگی اور جمالیاتی حس کی کمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں عورت کو لولی پاپ سے تشبیہ اور اس کو ڈھانپ کر رکھنے کو ترجیح دی جاتی ہے، اس کو پاکیزگی کے نام پر فیشن سے دور رکھا جاتا ہے۔ یہی لوگ پھر جنت کے پاکیزہ حوروں کو ننگا کر کے پیش کرتے ہیں اور ان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں۔ گھر بیٹھی حور تو ان کو نظر نہیں اتی، جس کو خدا نے انتہائی نزاکت سے تراش کر حسن و جمال سے بھرپور پیدا کیا ہے، جس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر انسان جنت کی حور کو بھی بھول جائے۔ لیکن حسن کو محسوس کرنے کے لیے بھی جمالیاتی حس کی ضرورت ہے۔ یہاں جمالیاتی حس کم اور جنسی ہوس زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اپنی بیوی کے سوا ان کو ہر لڑکی اچھی لگتی ہے۔

جہاں دنیا میں خوبصورت تصاویر، فن کے نمونوں اور مجسموں سے شہراہوں و شہروں کو سجایا جاتا ہے، وہاں ہمارے ہاں ٹینک، تھوپ، میزائیل، فوجی، بندوق وغیرہ شہراہوں پر خوف و وہشت کی علامت تاری کرتے ہیں۔ جنگی تیاروں کو آہم شہراہوں پر نصب کر کے لوگوں کی اجتماعی سوچ کو بھی جنگجو بنا دیا گیا ہے۔ یہاں فن کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی، مجسمہ سازی کو گناہ جبکہ فنکار کو ایک فارغ انسان سمجھا جاتا ہے۔

ارٹ کی نمائش دیکھنے چند ہی لوگ جاتے ہیں جبکہ فوجی نمائش میں ٹینک میزائیل و بم دیکھنے کے لیے ہر کوئی بے تاب و بے قرار رہتا ہے۔ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ چھ ستمبر کے روز کسی فوجی نمائش کا ٹکٹ حاصل کر لے۔ اب تو سعودی ولی عہد کی بھی کوشش ہے کہ میوزیک کنسرٹس اور آرٹس نمائش کا انعقاد کیا جا سکے۔

ہمارے ہاں سکول و کالجوں میں بھی طالب علموں کو چند کہانیوں اور چند مغالتوں کے سوا کچھ نہیں سکھایا جاتا۔ نہ ان کو پہننے کا سلیقا سکھایا جاتا ہے اور نہ معاشرے میں جوبصورتی لانے کی سوچ ڈالی جاتی ہے۔ ان کو پینٹینگ کی ایک کلاس دی جاتی ہے جس میں پاکستان کا نقشہ و مزائل سرفہرست ہوتا ہے۔ باہر ممالک میں بچوں کو ہر قسم کے فن سے ہم اہنگ کرایا جاتا ہے تاکہ ان کے ذہن خوشگوار ماحول میں بڑھے۔

ہمارے ہاں تہوار بھی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ انسانوں پر بوجھ بن جاتے ہیں، خوشی و جمال کا تو ان سے تعلق ہی نہیں ہوتا، اگر ہوتا بھی ہے تو بچوں کی حد تک۔ عید پر غریب نئے کپڑے و جوتے خریدنے کے لیے پریشان ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ نہ خریدے تو گلی محلے میں بدنامی ہوگی۔ عید کی نماز اور اپنوں کے پاس عید کی حاضری صرف ایک فرض و ذمہ داری بن چکی ہے۔ نئے کپڑوں کے علاوہ، حسن و جمال تو ویسے ہی جانوروں کے خون میں لت پت ہو کر انتڑیوں کی شکل میں جگہ جگہ مل جاتا ہے جس سے یہان کے لوگوں کا صفائی کے حوالے سے ذوق کھل کر سامنے اجاتا ہے۔

اس ملک کے باسی یا تو حسن، جمال و خوشی کے احساسات سے واقف نہیں اور یا لیکن کچھ مجبوریوں و غلطفہمیوں کی وجہ سے خود ان احساسات سے منہ موڑتے ہیں۔ وجہ جو بھی ہو، یہاں جمالیاتی حس و لطف کا فقدان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امیر حمزہ قریشی کی دیگر تحریریں
امیر حمزہ قریشی کی دیگر تحریریں