ریاستِ مدینہ کا پاکستانی نمونہ: اقلیت اور اکثریت یکساں بے حال ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ پچھلے ہفتے کا قصہ ہے کہ میرے ایک سٹوڈنٹ نے، جوکئی سالوں سے کوئٹہ کے ایک مقامی اخبار میں کیلی گرافی کا کام کررہا ہے، مجھے SMS کیا کہ ”سر قوم کے بارے میں تو آپ ہمیشہ لکھتے رہتے ہیں اس دفعہ کسی اور ایشو پر قلم اٹھائیے۔“ میں نے پوچھا کہ کس ایشو پر لکھا جائے؟ کہنے لگاکہ ”پاکستان کی تاریخ کی ہوشربا ء مہنگائی کو موضوع بنائیے کیونکہ ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور نکل چکی ہے۔ یقین مانئے غریب خاندانوں کا معیار ِزندگی بھکاریوں سے بھی بدتر ہوچکا ہے۔“

میرے اس طالب علم کا تعلق چونکہ اخبار سے ہے یعنی وہ حالات حاظرہ سے بخوبی باخبر ہے سو میں نے بھی بات کا آغازمیڈیا پر پابندی اور اشتہارات کی بندش سے کیا کہ جن سے اخبارات چلتے ہیں حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کیاکہ اخبارات کے اشتہارات بند کر دیئے یا بہت ہی کم کر دیے۔

یہی کچھ ٹی وی چینلز کے ساتھ بھی ہوا۔ اشتہارات بند کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے ٹی وی چینلز کی آزادی بھی سلب کردی اور کچھ کے لائسنس منسوخ کردیئے۔ مجبوراً پریس اور الیکٹرک میڈیا کے مالکان نے کام کرنے والے ورکرز کی سکروٹنی کی جن میں اکثریت ورکنگ جرنلسٹں شامل تھے جوبیروزگار ہوگئے۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ صحافی صرف قلم چلانا ہی جانتا ہے۔ سنا ہے کہ کئی صحافی پکوڑے بیچنے پر مجبور ہو گئے اور کئی آج تک در بدر پھر رہے ہیں۔

حقیت یہ ہے کہ دراصل حکومت کے پاس اکنامکس کے ماہرین کی شدید کمی ہے۔ جو ملکی معشیت کو بہتر کرنے کی منصوبہ بندی کرتے اور ملک کو مقروض ہونے سے بچاتے، ضروری اقدامات کرتے تاکہ غریبوں کا چولہا اور دیگر ضروریات زندگی بحال رکھے جا سکیں۔ مگرغریب کے چولہے کی فکر کرنے کی بجائے انہیں خوار وبے گھر کردیا گیا بلکہ گھر اور نوکریاں دینے کا سبز باغ دکھایا گیا۔ ایک سال ختم ہو چکا ہے۔ نہ گھر نہ نوکریاں۔ حکومت نیب کے ذریعے اپوزیشن کے تمام سیاستدانوں کو کرپشن کے الزام میں پکڑنے اور سابق حکومت کے اخراجات اور موجودہ اخراجات کی جمع تفریق میں ہی لگی ہوئی ہے اور ان سے وصولی کے منصوبہ بندی کے سوا کچھ سوچنے کو تیار نہیں۔

کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔ المیہ یہ ہوا کہ پاکستانی روپیہ کی قیمت گرتی اور گرتی ہی چلی گئی اور ڈالر مہنگے سے مہنگا تر ہوتا چلا گیا۔ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے معاشی بگاڑ پیدا ہوگیا۔ بین الاقوامی دباؤ بھی افراط زر کا باعث بن چکاہے۔ حکومت ٹیکس وصولی میں ناکام ہوچکی۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کا وعدہ سرعام کیا اور بار بار یقین دہانی کروائی مگر افسوس کہ عوام دیکھ اور جان بھی چکے کہ حکومت اپنا بھرم قائم نہ رکھ سکی۔

جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف اگر قرض دیتا ہے تو بھاری شرائط بھی عائد کرتا ہے اور قرض کی ادائیگی کی ریکوری کے لئے حکمرانوں کو مجبوراً عوام کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ مثلا ً ٹیکسز میں اضافہ، ٹیکس ریکوری کرنا، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ حکومت پر اسٹیٹ بنک سے بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لئے نیا قرض لینے پرپابندی عائد کردی گئی ہے اور کہا کہ پاکستان آئندہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم نہیں دیگا۔

پاکستان اکتوبر تک ”ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ“ سے نکلنے کے لئے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے فریم ورک پر موثر اقدامات اٹھا ئیگا۔ دسمبر تک پاکستان اسٹیل ملز اور پی آئی اے کا کسی نامور عالمی ادارے سے آڈٹ کرایاجائے گا۔ آئی ایم ایف چیف کا کہناہے کہ پاکستان کو معاشی نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا۔ ٹیکس آمدن بڑھانامعاشی استحکام کے لئے ضروری ہے۔ روپے کی قدرحقیقت کے قریب تر، تیل، گیس، بجلی اور خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ظاہرہے لاگت بڑھ جاتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

مہنگائی کی دوسری بڑی وجہ محدودیت ہے یعنی مارکیٹ میں مال کم اور خرید زیادہ۔ گذشتہ دور میں اگر مہنگائی 9 فیصد تھی تو اب 20 فیصد بڑھ گئی ہے۔ دراصل مہنگائی میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔ ریاست مدینہ کا بار بار تذکرہ کیا جاتا ہے۔ کیا خلیفہ عمر فاروق کے دور میں کوئی بھوکا سویا تھا۔ وہ خود کھردرالباس پہنتے تھے۔ بھیس بدل کر ریاست کی خیر خبر دریافت کیا کرتے تھے۔ یہاں تو سچ بولنے والے میڈیا کی زبان بندی کر دی گئی۔

حال ہی میں صحافیوں کی عالمی تنظیم ”رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز“ نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا کہ آپ کو آزادی صحافت سے متعلق یاتو معلومات درست نہیں دی جا رہیں یا آپ جان بوجھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آر ایس ایف کے خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ عمران خان جیسے ہی واشنگٹن پہنچے تو پاکستان میں جیو نیوز کو بند کردیا گیا اور عوام کو صرف سیاہ سکرین تک محدود کردیا گیا ایک ماہ پہلے سابق صدر آصف زرداری کے انٹرویو کو آف ایئر کر دیا گیا۔

حضرت عمر فاروق جن کی ریاست بائیس ہزار مربع میل پر پھیلی ہوئی تھی ان کے بہت سے گورنر تھے جو ہر سال اپنے اثاثے جمع کروایا کرتے تھے۔ اگر کسی گورنر کا اثاثہ مقررہ حد سے زیادہ ہوتا تو اْسکی تحقیقات ہوتیں اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزا دی جاتی۔ مگرآج کیا ہو رہا ہے۔ حکمران وسیع و عریض محلات میں رہائش پذیر ہیں۔ اور غریب کو سر چھپانے کے لئے چھت اوردو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ ان کی ریاست میں تمام انسانوں کوبلا رنگ و نسل و مذہب یکساں حقوق حاصل تھے۔

کیا آج پاکستان میں انسانیت اورمساوات نام کی کوئی چیز ہے۔ کیا مذہب کے نام پر مدینہ کی ریاست کے دعویدار انسانوں کی تضحیک نہیں کر رہے۔ اس کا زندہ ثبوت کچھ دن پہلے ہی دیا جا چکا ہے جب تین دفعہ انسانی حقوق کے صوبائی وزیر رہنے والے خلیل سندھو فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے 11 سالہ مسیحی لڑکے بادل کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کے قتل سے متعلق ”توجہ دلاؤ“ نوٹس جمع کروانے کے لئے مسٹر عنایت اللہ لک کے دفتر گئے تھے، تو عنایت اللہ لک نے انہیں نہ صرف ہراساں کیا بلکہ نہایت قبیح اور مکروہ ونفرت انگیز الفاظ سے بھی نوازا۔ یاد رہے اقلیتوں کے ساتھ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات منظر عام پر آچْکے ہیں مگر کون سنے گا پکار اور کون داد رسی کرے گا کیونکہ اب تو پاکستان میں اقلیت کے ساتھ اکثریت کے حقوق بھی ایک جیسی ڈھٹائی سے پامال کئے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •