عورت کب مرتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت کو جو مقام اللہ نے عطا کیا ہے تمام لوگ اس سے بخوبی آشنا ہیں۔ مگر افسوس ہمارے معاشرے میں وہ مقام ایک عورت کو حاصل ہی نہیں ہے۔ عورت کو ہمیشہ دوسروں کی خدمت کرتے دیکھا گیا ہے۔ ماں باپ کے گھر ہوتی ہے تو گھر والوں کی خدمت کرتے نظر آتی ہے بیاہ کے جب اگلے گھر جاتی ہے تو شوہر کی اور اس کے گھر والوں کی خدمت کرتے نظر آتی ہے۔ پر اس پورے سفر میں وہ کب کب مرتی ہے یہ کوئی نہیں جانتا نہ کسی نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ عورت کب کب مرتی ہے؟

عورت تب بھی مرتی ہے جب اسے ایک غلط فیصلے پہ بھی صرف اس لیے سر جھکانا پڑتا ہے ماں باپ کی عزت ان کی خواہش اسی میں ہے۔ عورت تب بھی مرتی ہے جب ہزاروں لوگ رشتہ لے کے آتے ہیں اور ریجیکٹ کر کے چلے جاتے ہیں۔ عورت تب بھی مرتی ہے جب اس کی سیرت سے زیادہ اس کی ظاہری خوبصورتی کو دیکھا جا رہا ہوتا ہے عورت تب بھی مرتی ہے جب عورت کواپنی سانولی رنگت کا طعنہ سننا پڑتا ہے ایک عورت تب بھی مرتی ہے جب اسے بھائی کے جرم کی سزا میں اسے ونی چڑھا دیا جاتا ہے۔

عورت تب بھی مرتی ہے جب اسے طلاق صرف اس لیے دی جا رہی ہوتی یے کہ وہ اس دنیا میں رحمت یعنی بیٹی کو لے کے آئی عورت تب بھی مرتی ہے جب اسے بانجھ ہونے کا طعنہ دیا جارہا ہوتا ہے ایک عورت کو اللہ نے مضبوط چٹان بنایا ہے کہ کوئی آتش فشاں لاوا بھی اسے توڑ نہیں سکتا اسی لیے اللّھ نے عورت کو ماں کا رتبہ دیتے ہوئے جنت اس کے قدموں تلے لا کے رکھ دی۔ ماں کے روپ میں وہ اولاد اور بیوی کے روپ میں وہ شوہر کی خدمت کرتی ہے۔

لیکن افسوس روز کئی عورتوں کو غیرت کے نام پہ مار دیا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پہ تب کیوں نہیں کسی مرد کومارا جاتا جب وہ کس معصوم بچی کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مرد کے ہزاروں جرم پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور عورت کو مار دیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں روز عورت کی عزت کو اچھالا جاتا ہے۔ یہاں روز عورت کو مرد اپنی درندگی کا نشانہ بناتا ہے یہاں روز عورت کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اگر کوئی عورت اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہے تو اس پہ ایسے ایسے الزامات لگائے جاتے ہیں کہ وہ مجبور ہو کر خودکشی کر لیتی ہے اور یوں جیت پھر ایک مرد کی ہوتی ہے۔

اور ایسے حالات میں کوئی عورت ظلم کے خلاف کیسے آواز اٹھا سکتی ہے؟ ایک عورت کو تعلیم اس لیے نہیں دی جاتی کہ پڑھ لکھ کے خراب ہوجائے گی۔ چلو مان لیا عورت خراب ہو جاتی ہے تو پھر ہر مرد کی یہ خواہش ہی کیوں ہوتی ہے اسے پڑھی لکھی عورت ملے۔ کیوں جب ہم رشتہ کرنے جاتے ہیں پڑھی لکھی لڑکیوں کی تلاش کرتے ہیں وہ لڑکیاں جن کی تعلیم اس لیے چھڑوا دی جاتی ہے لڑکی ہے کیا کرے گی پڑھ لکھ کے آگے گھر ہی تو سنبھالنا ہے اور آگے سے لوگوں کی جانب اسے ان پڑھ سمجھ کے ریجیکٹ کردیا جاتا ہے۔

ہم بہو تو گھر پڑھی لکھی لانا چاہتے ہیں لیکن بیٹی کو نہیں پڑھانا چاہتے۔ ۔ نپولین نے کہا تھا تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں ایک پڑھی لکھی قوم دوں گا۔ عورت زندگی کی ہر مشکلیں برداشت کرتی ہے شاہد ہی کوئی ایسی عورت ہو جو دل سے زندہ ہو۔ جہاں مرد یہ کہتے ہیں اسلام میں مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے وہ یہ کیوں نہیں دیکھتے اسلام میں عورت کابھی اونچا مقام ہے وہاں نہ یہ حکم ہے کسی عورت کو روز تشدد کا نشانہ بنایا جائے اور نہ ہی یہ حکم اسے اپنے جرم کی ونی چڑھا دیا جائے۔

جس روز ہم عورت کو وہ عزت وہ مقام جو درجہ اسے اسلام نے دیا ہے وہ دے دیں گے تو یقین کریں کوئی عورت نہ کبھی کسی مرد کی درندگی کا نشانہ بنے گی اور نہ ہی ظلم کا شکار ہوگی۔ ہمیں اپنی خواتین کو نظر انداز نہیں کرنا چائیے بلکہ ان کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے اپنے فرض کو سمجھنا ہو گا۔ تعلیم سے ہی بچیوں میں خود اعتمادی آتی ہے عورت اپنی ذات کو پہنچانے کے قابل ہوتی ہے پڑھی لکھی خاتون ہی اپنے کنبے اور بچوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکتی ہے عورت ہی معاشرے میں بہتری لا سکتی ہے۔ عورتوں کو عزت دو تاکہ ایک بہترین مثالی معاشرے کی بنیاد رکھ سکو اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •