دنیا کا امن بگاڑنے میں بڑی طاقتوں کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"mazharاگرچہ اقوام متحدہ اور متعدد مغربی ممالک دنیا میں قیام امن کے لئے کوششیں کر رہے ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا امن تباہ کرنے میں اقوام متحدہ کی جانب سے ماضی میں اختیار گئے غیر منصفانہ طرز عمل اور عالمی طاقتوں کی دنیا پر سیاسی، فوجی اور معاشی برتری کے حصول کے لیے اختیار کی گئی مفاد پرستانہ پالیسیوں کا بالواسطہ یا بلاواسطہ ہاتھ رہا ہے۔

آج سے 36 سال پہلے دنیا کی ایک بڑی طاقت (امریکہ) نے دنیا کی دوسری بڑی طاقت (سویت یونین) کو شکست دینے کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کی مدد سے دنیا بھر کے مذہبی جنگجوؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے جس \” مقدس جہاد\” کا آغاز کروایا تھا اس کے سائیڈ ایفیکٹس نے پوری دنیا کا امن و امان داؤ پر لگا دیا ہے۔

امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان کی مالی، اخلاقی اور فوجی مدد سے پروان چڑھنے والے مجاہدین اور جہادیوں کی آپس کی پانچ سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں جہاں ایک طرف افغانستان میں شدت پسند طالبان حکومت نے خطے کے ممالک کے لیے مسائل کھڑے کیے تو دوسری طرف القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے امریکی نائن الیون جیسی دہشت گردی کی سب سے بڑی کارروائی کر کےدہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع کرنے کے لئے امریکہ بہادر کو مجبور کر دیا۔

نائن الیون کے سانحے میں تین ہزار افراد جاں بحق جبکہ 6000 کے قریب زخمی ہوئے جبکہ امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کی عالمی جنگ کے نتیجے میں افغانستان، لیبیا، عراق اور شام میں تین لاکھ سے زائد افراد جاں بحق اور اس سے دوگنا زخمی ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک وہاں امن کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔

آج جہاں ایک طرف امریکہ روس، سعودی عرب، ایران، ترکی اور پاکستان کی اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر عراق، شام اور افغانستان میں لڑی جانے والی پراوکسی وارز کے نتیجے میں دنیا کا امن تباہ ہو چکا ہے تو دوسری طرف فلسطین اور کشمیر جیسے علاقائی مسائل کی وجہ سے دنیا کا رہا سہا امن داؤ بھی پر لگا ہوا ہے۔

دنیا کا امن بحال کرنے کے لئے امریکہ، روس اور چین جیسی طاقتوں کو نہ صرف آپس کی کشمکش اور سرد جنگیں ختم کرنا ہوں گی بلکہ بھارت، اسرائیل، سعودی عرب، ایران، ترکی اور پاکستان جیسے کھلاڑیوں کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں لڑی جانے والی جنگیں اور تنازعات بھی ختم کرانے ہوں گے۔

گزشتہ سال امن کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک نے 2030 تک دنیا سے غربت کے خاتمہ‘ کرہ ارض کی حفاظت اور انسانیت کی خوشحالی سمیت 17 اہداف مقرر کئے تھے۔ آج عالمی یوم امن مناتے ہوئے دنیا کے تمام ملکوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ غربت کے خاتمے اور انسانیت کی خوشحالی سمیت مقرر کیے گئے 17 اہداف کا حصول دنیا میں قیام امن کے بغیر ممکن نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *