جمعیت، پنجاب یونیورسٹی اور …سلیم ملک کی مبالغہ آرائی!


سلیم ملک کا مضمون نظر سے گزرا ۔ مضمون کے نیچے کمنٹس سے اندازہ ہوا کہ مضمون میں حد درجہ مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے اور \"waqarسلیم ملک صاحب نے پنجاب یونیورسٹی کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ تیس سال پہلے کا ہے ۔ اب کی پنجاب یونیورسٹی ایک ایسا ادارہ ہے جہاں عورت مرد صرف انسان ہیں جن کے شب وروز تحقیق اور علمی جستجو کے لیے وقف ہیں ۔

میراپنجاب یونیورسٹی سے تعلق قلمی دوستی تک محدود رہا ہے (پرائیویٹ بی اے کیا تھا) اس لیے کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں ۔

لیکن سلیم ملک کا مضمون اور میرے ساتھ پیش آئے چند واقعات میں عجب مماثلت ہے ۔

آج سے تین یا چار سال پہلے کا واقعہ ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی میں پہاڑوں کے حوالے سے تحقیق کا ایک ڈیپارٹمنٹ ہے۔ میں کیونکہ سفر ہے شرط پروگرام کر رہا تھا اور انہی دنوں پہاڑوں کا عالمی دن آگیا جس کی مناسبت سے ایک ڈاکیومنٹری \”پہاڑوں کی جنت : پاکستان\” بنانی تھی۔ ڈاکیومنٹری میں انٹرویو کی غرض سے پہاڑوں کے اس ڈیپارٹمنٹ کی خاتون سربراہ کو فون کیا۔بہت ہی شفیق خاتون تھیں انہوں نے انٹرویو کی حامی بھری اور میں انٹرویو کے لیے یونیورسٹی پہنچا۔ انٹرویو ہوا اور انٹرویو اور آف ائیر گپ شپ کے دوران اندازہ ہوا کہ ان کی تحقیق میرے پروگرام سفر ہے شرط کے لیے بہت کام آسکتی ہے۔ میڈیم نے کہا کہ اس حوالے سے آپ کل یا پرسوں آ جائیں۔ میں اس سے اگلے دن گیا اور میڈیم نے کچھ تحقیقی کتابچے میرے حوالے کیے اور اپنی ایک اسسٹنٹ لڑکی کو کہا کہ ان کو بریف کر دیں۔ میڈیم کے پاس ایک ہی کمرہ تھا جہاں اور مہمان بیٹھے تھے اس لیے ہم لوگ باہر آ گئے اور برآمدے میں بیٹھ گئے ۔ شاید دس منٹ بھی نہیں گزرے ہوں گے جب چند باریش نوجوان آئے اور انتہائی بدتمیزی اور تحمکانہ لہجے میں کہا ، \’\’تم کون ہو\’\’

میں نے ساری صورتحال بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی بات کرنی ہے میڈیم کے کمرے میں جا ئیں اور ان کے سامنے دونوں باتیں کریں۔ میں نے عرض کی کہ حضور وہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں مصروف ہیں اور ان کے پاس مہمان بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے ہی ہمیں باہر بھیجا ہے ۔

اس کے بعد ان نوجوانوں نے جس لہجے میں بات کی اس کو رہنے دیں ۔ میں نکل کر اپنے آفس آ گیا اور میڈیم کو شکایت بھرے لہجے میں روداد سنانے کے لیے فون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جمیعت والے ہیں ۔میں اس ساری صورتحال میں کچھ نہیں کر سکتی ۔ آپ کو کچھ اور تحقیقات ای میل کر دیتی ہوں کوئی سوال ہو تو مجھے ڈائریکٹ فون کر لیجئے ۔

ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ شومئی قسمت پنجاب یونیورسٹی کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ جانا پڑ گیا۔ چلاس میں پتھروں پر کندہ تحریروں پر اس ڈیپارٹمنٹ نے کام کیا ہے۔ قصہ مختصر آرکیالوجی کی ایک لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا جب وہ افتاد ٹوٹی۔

تین باریش نوجوان جن کے ساتھ سر ڈھانپے ایک لڑکی بھی تھی میری طرف تیزی سے آئے اور ان میں سے ایک نے چیختے انداز میں کہا ۔۔یہی ہے یہی ہے ۔۔ میں حیرت سے دوچار کہ یا خدا ماجرا کیا ہے ۔ ایک نے میری شرٹ کا بازو پکڑا اور کہا ۔۔

اچھا تو تم ہو جس نے نہر پر اس لڑکی کو چھیڑا تھا اور اس کا پرس لے کر غائب ہو گئے تھے ۔

یہ کہہ کر اس نے سر ڈھانپے لڑکی کی طرف دیکھا اور اس نے کہا یہی ہے یہی ہے ۔۔۔

یہاں ایک طرف تو میرا دماغ بھک سے اڑ گیا کہ یہ ہو کیا رہا ہے لیکن دوسری طرف ایک تھوڑا سا اطمینان یوں ہوا کہ ہر تھوڑی دیر بعد سر ڈھانپے ہوئے لڑکی ہنسی کو روکنے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھتی اور چہرہ نیچے کر لیتی ۔ جبکہ آرکیالوجی والی لڑکی کے چہرے پر غصہ ضرور تھا اور وہ یہ بھی کہہ رہی تھی کہ جاؤ تم لوگوں کو کیا مسئلہ ہے وہ ٹی وی چینل سے ایک تحقیق کے حوالے سے آئے ہیں ۔

یہ سن کر باریش نوجوان کچھ دھیمے پڑے اور تفصیلات پوچھیں۔

تفصیلات جاننے کے بعد وہ انتہائی نرم پڑ گئے اور انتہائی تہذہب اور شائستگی لیے لہجے میں کہنے لگے۔۔۔

\”اب نکل یہاں سے ۔۔اور دیکھ چندا ٗ آئندہ یونیورسٹی کے حدود میں کسی لڑکی کے ساتھ نظر آئے تو بچانے والا کوئی نہیں ہو گا\’\’

میں نکل آیا ۔۔نکل کیا آیا بھاگ آیا۔یہ سوچتے ہوئے کہ چلاس اور پہاڑوں کی تحقیق کی اہمیت اپنی جگہ لیکن یہ یونیورسٹی لڑکیوں کو داخلہ کیوں دیتی ہے ؟ اساتذہ میں خواتین کو کیوں بھرتی کیا جاتا ہے ؟ حکومت کروڑوں روپے کیوں ان خواتین پر ضائع کرتی ہے جب ان کو کسی سے بات تک کتنے کا حق حاصل نہیں ۔

ویسے تو ان دو واقعات کے علاوہ بھی بیسیوں دفعہ یونیورسٹی جانے کا اتفاق ہوا لیکن کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا کیونکہ ان مواقع پر ملاقات مرد حضرات سے تھی اور اس معاملے میں ٗ میں نے جمعیت کو بہت فراغ دل پایا ہے۔

سلیم ملک کے ساتھ ان چند باتوں کی مماثلت اتفاقیہ ہو سکتی ہے ۔ ان کی مبالغہ آرائی کے امکان کو رد کر نا میرے بس میں نہیں۔۔

کیا پتہ انہوں نے مبالغہ آرائی سے ہی کام لیا ہو!

Facebook Comments HS

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 180 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “جمعیت، پنجاب یونیورسٹی اور …سلیم ملک کی مبالغہ آرائی!

  • 22/09/2016 at 12:12 شام
    Permalink

    وقار احمد کی باتوں سے زرا برابر اختلاف نہیں کیا جاسکتا، بالکل درست منظر کشی کی ہے انہوں نے جماعتی اخلاق بلکہ خوش اخلاقی کی۔ سماج سدھار کے ان خود ساختہ جماعتی ٹھیکیداروں کے ساتھ کالج کے دور سے واسطہ رہا ہے۔ ہوسٹل میں ان کی پوشیدہ غیر اخلاقی حرکات کسی سے چھپی نہیں تھیں۔ اور فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کا جماعتی ذمہ دار تو خود چھت کے پوشیدہ حصہ کی آڑ میں ایک جونئیر لڑکی کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔ یہ لوگ دھڑلے سے بدمعاشی کی حد تک کسی بھی اجنبی وہی رویہ اپناتے ہیں جو عام معاشرے میں پنجاب پولیس۔ ایسا میرے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ ان لوگوں کو یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم جو کے خالص اسلامی نقطہ نظر سے جائز نہیں وہ کیوں نظر نہیں آتی؟ اگر اتنا ہی اسلامی انقلاب لانا ہے تو پھر اس کے لیے انتظامیہ سے الگ یونیورسٹی جہاں صرف خواتین ٹیچرز ہوں اور لڑکیاں ہی داخل ہوں پڑھنے کے لیے، تقاضہ کریں، تحریک چلائیں اور پاکستان بھر کے جامعات کو مکمل طور پر زنانہ الگ اور مردانہ الگ تعلیمی ادارے بنا دیں۔۔ نہیں ہوسکتا نا؟
    پھر اس طرح کے رویے کی اجازت کون دیتا ہے ان شریف جماعتی ٹھیکیداروں کو۔

Comments are closed.