عورت کو غیرت کیوں نہیں آتی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فہمینہ ارشاد

\"fahmina-arshad\"غیرت کے نام پر صرف عورتیں ہی قتل کیوں ہوتی ہیں؟ یہ سوال بار بار ایک کیڑے کی طرح میرے دماغ میں کلبلاتا رہتا ہے۔ میں اپنے آپ سے یہ سوال بار بار کرتی ہوں مگر جواب ندارد۔ کتابوں میں بھی ڈھونڈا، سیانوں سے بھی پوچھا، حکیم ڈاکٹروں سے بھی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ عورت کا معاملہ ہو تو ہر قسم کی غیرت صرف مردوں میں ہی جاگتے دیکھی، بھائی ہوں، باپ ہوں یا شوہر نامدار سب کے سب با غیرت نکلے۔ اور بے غیرتی صرف عورت کے حصے میں آئی۔

بُری عورت کی اصطلاح نے بھی جنم لے لیا کیونکہ مرد تو بُرا ہوتا ہی نہیں۔ گویا عورت اپنے ساتھ برائی لے کر پیدا ہوئی اور اس کی برائی میں کوئی شریک ِ کار نہیں کوئی سہولت کار نہیں وہ اکیلی ہی اپنے گناہوں کی ذمہ دار ٹھہری۔

یہ وہ واحد گناہ ہے کہ جس میں صرف ایک فریق کو ذمہ دار اور گناہگار مانا اور جانا جاتا ہے۔ یہ تو معاملہ ہے معاشرے کی سطح پر۔

گھروں اور خاندانوں میں تو اس بُری عورت کو سزا دینے میں کوئی تاخیر نہیں کی جاتی اور دامے درمے سخنے اس کی مرمت ہوتی ہی رہتی ہے۔ روز مرہ کی گالی گلوچ، مار کُٹائی سے لے کر ہر قسم کا تشدد اور قتل سب جائز ہے کیونکہ مرد کو غیرت آتی ہے۔

آخر اس بے غیرت عورت کو غیرت کیوں نہیں آتی؟

علی شریعتی کہتے ہیں ’’ مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ کوئی عورت گناہ کرتی ہے مگر اُس کو چھپانے کے لئے داڑھی نہیں رکھ سکتی۔ ‘‘

خیر یہ تو ایک حوالہ تھا اور اس داڑھی سے بھی مجھے کوئی غرض نہیں، سمجھنے کی بات یہ ہے مرد سب کچھ کرکے بھی مکھن سے بال کی طرح صاف نکل جاتا ہے اور پھنس جاتی ہے یہ نادان عورت۔

بہن ہوکر بھائی کے خطوط خوشی سے اس کی محبوبہ کو پہنچاتی ہے۔ بیوی ہوکر خاوند کی بد کاریوں پر پردہ ڈالتی ہے اور طوائف ہو تو مردوں کی دل پشوری کا سامان تو ہے ہی۔ مگر مجال ہے جو ذرا سی بھی غیرت آئے۔ اگر اس جگہ کوئی مرد ہوتا تو لاشیں گرا دیتا۔ غیرت مند جو ٹھہرا!

تازہ مثال قندیل بلوچ کی ہے، سُنا ہے بہت ہی بُری عورت تھی، سارا زمانہ جانتا تھا، سُنا ہے بڑی بے باک تھی کبھی اپنی برائی کو چھپایا بھی نہیں ماں باپ بھائی بہنوں کی پوری ذمہ داری اٹھاتی تھی مگر بھائی کی غیرت اس وقت جاگی جب بھائی کو نشے کے لئے پیسے دینا بند کر دیئے۔ غیرت مند بھائی تھا برداشت نہ کرسکا اور اس بُری عورت کو دنیا سے ہی اٹھا دیا۔ کمال کردیا !

کاش ! ایک دن ایسا بھی آئے کہ کچھ عورتوں کو بھی غیرت آئے!

شیخ چلی کا خواب صحیح، دیکھنے میں کیا حرج ہے!

یہ جسم فروش عورتیں اس زمین پر اس معاشرے کے لئے ایک بدنما داغ ہیں انہیں صاف کردینا چاہئے۔ یہ دین کی بھی گناہ گار ہیں اور معاشرے کی بھی۔

لیکن یہ اپنا جسم اور جنس کس کو بیچتی ہیں؟

وہ کون ہے جو اس کاروبار کو کامیابی سے چلانے کا سہولت کار ہے؟

کہتے ہیں طلب اور رسد میں ایک براہِ راست تناسب ہوتا ہے، جتنی طلب اُتنا مال منڈی میں!

تو پھر صرف اس بُری عورت کا ہی قتل کیوں؟ شریک کار کی پردہ کُشائی بھی تو ہو، آخر پتا تو چلے کہ دن کی روشنی میں اپنی عزت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے رات کے اندھیروں میں کیا گُل کھلاتے ہیں؟

یہاں بات یہ نہیں کہ گناہ گار کون؟ بات یہ ہے کہ سزا ہر گناہ گار کو ملنی چاہئے نہ کہ صرف ایک کو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *