یہ قوم کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غلط اور ٹھیک کی جنگ دنیا میں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ ہر وہ شخص جو غلط ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو ٹھیک ہی سمجھتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک اوسط درجے کے آدمی کو کو کیسے پتہ چلے گا وہ غلط ہے یا ٹھیک۔ اس کے لئے دنیا میں کچھ معیار بنائے گئے ہیں۔ آسمانی مذاہب نے بھی ٹھیک اورغلط کی نشاندہی کی ہے اور اپنی کتابوں میں بتا دیا کہ فلاں چیز غلط ہے تو فلاں چیز ٹھیک، اور پھر غلطی پر سزا او ر اچھے اعمال پر جزا کا بھی پیغام دے دیا۔

مذہبی معاشرے میں انسانوں کے نزدیک ان کا مذہب بھی ان کا معیار ہوتا ہے۔ آپ جتنے بھی مذاہب کا مطالعہ کرلیں ان میں نیکی اور بدی کی باتیں تقریبا تقریبا مشترک ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک میں کچھ آئین اور قانون بنائے گئے ہیں جس کے تحت وہاں کے رہنے والے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ قانون توڑنے کو کو برا سمجھا جاتا ہے اور اس کی باقاعدہ سزا اور جرمانہ بھی ہے۔ اچھا انسان وہی سمجھا جاتا ہے جو قوانین کی پابندی کرتا ہے اور معاشرے کو پرامن رکھتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں میں آپ کو کو قانون پر عملدرآمد د بڑے سختی سے نظر آئے گا۔ وہاں پر بسنے والے لوگ مساوات اور قانون کے قائل ہیں۔ قوانین پر عمل درآمد ان کی گھٹی میں شامل ہے۔ اگر ٹریفک کے اشارے پر رکنا ہے تو وہ ہر صورت رکیں گے چاہے وہاں پر پولیس والا موجود ہو یا نہ ہو اور بے شک وہ ٹریفک کا اشارہ کسی جنگل میں ہی کیوں نہ لگا ہوا ہو۔

اور یہی قانون کی پابندی ان کی زندگی کے ہر شعبے میں نظر آتی ہے چاہے سرکاری دفاترہوں، عوام الناس کی جگہیں ہوں یا ان کی ذاتی زندگی ہو۔ اور شاید یہی ان لوگوں کی ترقی کا راز ہے۔

فطرت کا اپنا ایک قانون ہے۔ فطرت کبھی کسی کے لیے قانون نہیں بدلتی۔ فطرت کے پاس کوئی جذبات نہیں۔ فطرت صرف قانون کی پابند ہے۔ آپ دیکھ لیں سورج ہمیشہ مشرق سے نکلے گا اور مغرب میں غروب ہوگا۔ کبھی خود جذباتی ہوکر یا کسی انسان کے جذبات سے متاثر ہوکر، یا انسان کی دعاؤں کے اثر کی وجہ سے مغرب سے کبھی نہیں طلوع ہوگا۔ چاند ستارے زمین کی حرکت بھی فطرت کے قانون کے مطابق ہے۔ یہ کسی کے جذبات احساسات اور خواہشات کو نہیں دیکھتی۔ جن قوموں نے فطرت کے قانون کو سمجھ لیا وہ آج دنیا پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ جبکہ کہ ضرورت سے زیادہ جذباتی، دل میں بہت ساری خواہشات اور فطرت کے خلاف کام کرنے والی اقوام ذلت کے گہرے کھڈوں میں گر جاتی ہیں۔

ہماری پاکستانی قوم میں سب سے زیادہ چیز جو دیکھنے میں آئی ہے وہ اپنے آپ پر ضرورت سے زیادہ اعتماد ہے اور باقی رہی سہی کسر ہمارے موٹیویشنل سپیکرز نے پوری کر دی ہے۔ اس میں میڈیا کا بھی بہت اہم کردار ہے جس نے اس قوم کو حقیقت سے دور اور خوابوں کی دنیا کے بہت قریب کر دیا ہے۔ میں نے اپنے اس معاشرے میں دیکھا ہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے۔ ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ غلطی کسی اور سے ہونی ہے وہ تو غلطی کر ہی نہیں سکتا۔

ایک شخص کی خواہشات پر ملک کے قوانین بن جاتے ہیں۔ ایک درمیانی عقل رکھنے والا شخص پوری قوم کے سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے۔ اس کا ذاتی فیصلہ اس غریب قوم کے کئی انسانوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ آپ جہاں کہیں بھی کام کرتے ہیں آپ کو ایسے خود غرض، ہڈحرام، جاہل اور ضرورت سے زیادہ پراعتماد لوگ نظر آئیں گے۔ ان کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ غلطی کا لفظ بنا ہی دوسرے لوگوں کے لئے ہے۔ اور اوپر سے سے ان لوگوں کے پاس اگر اختیارات بھی ہوں ہو تو یہ معاشرے کے ناسور ثابت ہوتے ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ایسے لوگوں کی ہمارے ملک میں بہت کثرت ہے۔

شوق بہرائچی نے کیا خوب کہا تھا

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

اس دنیا میں بہت سے قوموں نے اپنی غلطیوں کو سدھار کر اپنے آپ کو سنوارا ہے۔ ہمارے ساتھ چائنہ اس کی بہترین مثال ہے۔ جس کے لیڈر نے ایک نشئی قوم کو دنیا کے لیے ترقی کی ایک مثال بنا دیا۔ جب کسی نے ماؤزے تنگ سے پوچھا کہ آپ نے ایک نشہ کرنے والے قوم کو کیسے سیدھے راستے پر لگا دیا تو اس نے جواب دیا۔ میں نے قرآن سے سیکھا کہ علم والے اور بغیر علم والے کیسے برابر ہو سکتے ہیں۔ یہ سوچ کر میں نے علم والوں کو فیصلے اور بغیر ان والوں کو صرف کام کا حکم دے دیا۔ یہ اس قوم کی ترقی کا راز ہے۔

اسی طرح ایک سی آئی اے کا ایجنٹ جب روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد امریکہ میں بیٹھا تھا تو کسی نے اس سے پوچھا کہ آپ کا روس میں کیا کام تھا۔ اس نے کہا ہاں میرا کام صرف اتنا تھا کہ طاقتور لوگوں سے تعلقات بناؤں اور ملک کے بڑے بڑے عہدوں پر نا اہل اور سفارشی لوگوں کو بھرتی کرواؤں۔ ان دو مثالوں کے بعد آپ کو چائنا کی ترقی اور روس کی بدحالی کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔

اس وقت ہمارے ملک اور قوم کا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص خود کو بہت عقلمند اور علم کا سمندر محسوس کرتا ہے۔ آپ ایک حجام کی دکان پر چلے جائیں وہاں پر آپ کو دنیا کے بہترین ماہر معاشیات، سائنسدان، سیاست دان، دفاعی تجزیہ نگار، ماہر تعلیم، ڈاکٹر، انجینیئرز اور وکلاء مل جائیں گے۔ اس ملک میں آپ کو میٹرک فیل سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے ڈائریکٹر اور مالک ملیں گے۔ جس نے خود میٹرک نہیں کیا وہ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بانٹ رہا ہوتا ہے۔

جس ڈاکٹر کے اپنے سر کے بال نہیں ہوتے وہ لوگوں کا بال لگا رہا ہوتاہے۔ جس کو ساتھ بیٹھا بندہ نظر نہیں آتا وہ عید کا چاند دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جس کے گھر میں کوئی نہیں سنتا تا وہ حکومت کو مشورہ دے رہا ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ اس ملک میں آپ کو ان پڑھ جاہل لوگ زیادہ خوداعتماد اور اعلی تعلیم یافتہ لوگ کنفیوز نظر آئیں گے۔ ہم میں سے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ فلاں انسان اپنے آپ کو کیوں نہیں بدلتا، حکومت کیوں نہیں بدلتی، یہ نظام کیوں نہیں بدلتا، لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ میں خود کیوں نہیں بدلتا۔

جب آپ اچھی سوچ اور نیکی کو اپنے ساڑھے پانچ فٹ کے جسم پر نافذ نہیں کر سکتے تو اسے پورے ملک میں کیسے نافذ کریں گے۔ ملک اور لوگوں کو بدلنے کے بجائے آئیے پہلے اپنے آپ کو بدلیں۔ ہر وقت حکومتیں بدلنے کی بجائے آئیے پہلے اپنی سوچ کو بدلیں۔ کاش یہ میرا گمان غلط ہو مگر مجھے ایسا لگتا ہے ہے یہ قوم کبھی نہیں بدل سکتی کیوں کہ جب ہم اپنے آپ کو بدلنے کی بات کرتے ہیں تو ہر شخص لاکھوں دلائل دینا شروع کر دیتا ہے مگر اپنے آپ کو بالکل نہیں بدلتا۔ وہ آپ کو بتائے گا یا فلاں غلط ہے فلاں غلط ہے مگر وہ غلطی خود بھی کر رہا ہوگا لیکن اسے ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

کوئی بھی غلطی اس وقت ٹھیک ہوتی ہے جب غلط کو غلط سمجھا جائے۔ ہم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو غلط سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں تو پھر کیوں کر اپنی اصلاح کر پائے گا۔ یہ ہمیشہ تیزی سے زوال پذیر ہونے والی قوموں کا کا انداز ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •