کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ: اب ہوگا کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت نے اپنے آئین سے ریاست جموں کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے نکال دیا، یوں اس کے ساتھ ہی کر ریاست جموں کو کشمیر کی امتیازی حیثیت ختم کر دی گئی۔ تقسیمِ برصغیر کے وقت مسلم اکثریت والے علاقوں اور ریاستوں کو پاکستان حصہ بنایا گیا جبکہ ہندو اکثریتی علاقے بھارت کے ساتھ رہے۔ ریاست جموں و کشمیر کی اکثریتی آبادی مسلمان تھی لیکن وہاں کا ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھا۔ راجہ ہری سنگھ نے پہلے تو خودمختار رہنے کا فیصلہ کیا تاہم بعدازاں سازش کے تحت کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف ریاست کامشروط الحاق بھارت کے ساتھ کر دیا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت برقرار رہے گی۔

ریاستی حکمرانوں کے مطالبے پر 1951 میں آئین ساز اسمبلی کے قیام کی اجازت بھی دے دی گئی۔ اسی معاہدے کی روشنی میں بھارت کے آئین میں شق 370 کو شامل کیا گیا جو مرکز اور ریاستِ جموں و کشمیر کے تعلقات کے خدوخال کا تعین کرتا تھا۔ آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں ان کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے تحت ریاست کو اپنا آئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا جبکہ انڈیا کے صدر کے پاس ریاست کا آئین معطل کرنے کا حق بھی نہیں تھا۔

اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر بھارتی قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔

اب آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی 1954 میں صدارتی حکم کے تحت اس میں شامل کیا جانے والا آرٹیکل 35 اے بھی ختم ہو گیا ہے۔ آرٹیکل 35 اے کی رْو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک بن سکتا ہے نہ ہی یہاں نوکری حاصل کرسکتا ہے، غیر ریاستی شخص کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری بھی نہیں کرسکتا۔ یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو 1954 میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے بھارتی آئین میں شامل کر لیا گیا تھا۔

اب ریاست کی خصو صی حیثیت کے خاتمے کے ذریعے نہ صرف ریاست بھر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی بلکہ ریاست کے وسائل پر قبضہ کیا جائے، آزادی پسند رہنما ہوں، عبد اللہ خاندان ہو یا مفتی، سبھی اس معاملے پر متفق ہیں کہ بھارتی آئین میں موجود یہ حفاظتی دیوار گرنے کے نتیجے میں وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے، کیونکہ غیر مسلم آبادکاروں کی کشمیر آمد کے نتیجے میں ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قبضہ ہو سکتا ہے اور مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیاجائے گا۔

بھارت انتہائی قدم اٹھا چکا توبات اس سے آگے کی ہونی چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کا مثالی حال کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہے جب کہ قابل قبول اور امکانی حال اس سے مختلف ہوگا۔ انصاف کے تقاضے ایک طرف زمینی حقائق الگ ہیں، اقوام متحدہ کی قرادادوں، ستر سال میں پاک بھارت تین جنگوں اور لاکھوں کشمیروں کی قربانیوں کے بعد مسئلہ کشمیر پر ایک انچ پیشرف رفت نہیں ہو سکی۔ 1949 کے معاہدہ کراچی کے تحت آزادکشمیر کی حکومت نے عارضی طور پر گلگت، بلتستان کا انتظامی نظم و نسق پاکستان کے حوالے کیا لیکن ریاست پاکستان نے 1981 میں فاش غلطی کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں سٹیزن شپ ایکٹ نافذ کر کے اسٹیٹ سبجیکٹ یعنی ریاستی باشندوں کو حاصل خصوصی حقوق ختم کر دیے جس کے بعد پاکستانیوں کے لیے گلگت بلتستان میں زمین خریدنے اور سرمایہ کاری سمیت تما م راہیں کھل گئیں۔

پرنس کریم آغا کی سرمایہ کاری سے لے کر پرل کا نٹینینٹل ہوٹل تک ہر طرح کی سرمایہ کاری  ہوئی۔ 1991 میں بے نظیر بھٹو بر سر اقتدار آئیں تو انہوں نے سیٹزن شپ ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا۔ گلگت بلتستان کے آئینی حقو ق کے حوالے سے 1999 میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ بھی آیا لیکن پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد اس پر عملدر آمد نہ سکا اور بات 2009 سے 2018 کے آڈر تک آن پہنچی جس میں گلگت، بلتستان اور پاکستانی شہریوں کے حقوق پھر مساوی ہو گئے۔ جو قدم پاکستان نے 1981 میں اٹھایا وہ بھارت نے آج 2019 میں آکر اٹھایا یہ حقیقت ہمیں بھولنی نہیں چاہیے، ہاتھوں سے لگائی ہوئی گرہیں اب ہمیں دانتوں سے کھولنی پڑیں گے۔

مودی سرکار نے اپنے عزائم اپنے انتخابی منشور میں بھی واضح کر دیے تھے اور فروری کے مہینے میں ہی امریکہ کو سرکاری سطح پر یہ بتا دیا تھا کہ بھارت ریاست جموں کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے فلسطین کی طرز پر ریاست بنانے جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو امریکہ اور ا سرائیل دونوں بھرپور تائید حاصل تھی، لیکن ہماری حکومت کو حالات کی سنگینی کا احساس ہوا نہ مقتدر حلقو ں کو۔ شاید ہماری تمام تر توجہ داخلی محاذ فتح کرنے پر مرکوز تھی۔

بھارت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ امریکہ اب مزید کسی تاخیر کے ا فغانستان سے جانا چاہتا ہے، یوں اب اس کا ا فغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو زچ کرنے کا وقت بھی ختم ہو چکا۔ لہذا کشمیر کے حوا لے سے انتہائی قدم ا ٹھانے کا یہ موزوں ترین وقت ہے، پاکستان کی مغربی سرحد مکمل محفوظ ہوگئی تو بھارت کی کسی ایسی مہم جوئی سے نمٹنا پاکستان کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے آ ئینی ماہرین کے نزدیک چونکہ ریاست جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ ا لحاق اس بات سے مشروط تھا کہ ریاست کی نیم خود مختار حیثیت ہر صورت برقرار رکھی جائے گی، ریاستی باشندوں کے تمام حقوق محفوظ رہیں گے اور ان میں کسی بھی تبدیلی کے لیے ایک نیا معاہد ہ کیا جائے گا، اب جبکہ بھارت نے یک طرفہ طور پر ہی یہ معاہدہ ہی ختم کردیا ہے تو ریاست جموں کشمیر کی حیثیت 1947 والی ہوچکی ہے، یعنی ایک آزاد اور خود مختا ر ریاست، کیونکہ بھارت نے نام نہاد آئینی تعلق کو بھی از سر نو ناجائز قبضے میں تبدیل کر دیا ہے۔ مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال نے عالمی برادری کو بھی یہ جاننے کا موقع دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اٹوٹ انگ محض ایک ڈھونگ تھا اور کشمیریوں کو ستر سال سے بزور طاقت اپنے ساتھ رکھنے کی ناکام کوشش کی جا تی رہی ہے۔

اب پاکستان کے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ، بھارت کو یہ باور کروایا جائے کہ ریاست جموں کو کشمیر ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اس کا مثالی نہیں تو قابل قبول حل سے کم کچھ قبول نہیں ہوگا۔ غیر معمولی سفارت کاری سے پوری دنیا کے مسلمان ممالک کو پوری طرح جگانا ہوگا کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں، امریکہ اور برطانیہ سمیت عالمی طاقتوں کو بھی یہ باور کروانا ہوگا، کہ کشمیر کے لیے ہم اب کی بار آخری جنگ لڑیں گے جو جیتا وہی اسکندر۔

پاکستان بھارت اور دنیا کو پوری قوت کے ساتھ اپنا پیغام دینے میں کامیاب ہو گیا تو اب بھی ممکن ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر مودی سرکار کو اس غیر آئینی اقدام سے پیچھے ہٹنے کا جواز فراہم کر دے کیونکہ ریاستوں کے اسٹیٹس کے ساتھ چھیڑ خانی ناگا لینڈ، گوا اورآسام سمیت بھارت کی دوسری کئی ریاستوں کو بھی عدم تحفظ سے دوچار کر دے گی کیونکہ ان میں زمینی ملکیت اور انتقال اراضی کے خصوصی قوانین کسی نہ کسی شکل میں رائج ہیں، مرکز پر ان ریاستوں کا اعتماد متزلزل ہو گیا تو بھارت کے لیے کئی محاذ کھل سکتے ہیں۔

دوسرا راستہ وہی ہے جو ہم نے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ترک کر دیا تھا، پاکستان کو وادی میں حریت پسندوں کی بھر پور پشت پناہی کرنی چاہیے اور بھارت کو بتانا چاہیے کہ انگلی ٹیڑھی کرنا ہم بھولے نہیں۔ دنیا شور مچائے گی تو پاکستان یہ کہنے میں حق بجانب ہوگا کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ستر سال انتظار کیا لیکن اقوام متحدہ بھی خاموش تماشائی بن گیا۔ کشمیر فلسطین ہے نہ بھارت اسرائیل۔ اس تمام صورتحال کے باجود زمینی حقائق کو مذ نظر رکھیں تو آنے والے چھ ماہ میں مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب فیصلہ کن پیشرف ہوگی۔

امریکہ اور چین کی ثالثی کہیں پاکستان کومہنگی نہ پڑ جائے کیونکہ امریکہ کی ثالثی نے یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنوا دیا جبکہ چین پہلے دن سے پاکستان سے ایک ہی مطالبہ کر رہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحفظ کی ضمانت مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے اور اس کے لیے گلگت، بلتسان، پاکستان کا آئینی حصہ بننا ناگزیر ہے۔ اب فیصلہ ریاست پاکستان کو کرنا ہے کہ گلگت، بلتستان سے گزرنے والا سی پیک عزیز ہے یا کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کے تنازع کا حل۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سردار عمران اعظم کی دیگر تحریریں
سردار عمران اعظم کی دیگر تحریریں