اقوام متحدہ یا گورکھ دھندہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ کا قیام دوسری جنگ عظیم کے بعد اس وجہ سے عمل میں آیا کہ تاکہ مستقبل میں اس ادارے کے ذریعے ملکوں کے درمیان دوستانہ ماحول قائم کیا جائے اور ان کے درمیان امن بھائی چارگی کو پروان چڑھایا جائے اورمستقبل میں جنگ جیسی خطرناک چیز سے بچا جائے اور انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کا سب سے بڑا دفتر امریکہ کے شھر نیویارک میں جبکہ ذیلی دفاتر دنیا کے دوسرے ممالک میں قائم ہیں مگر جنیوا سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا دوسرے ممالک کے دفاتر سے زیادہ غیر معمولی افادیت رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے 193 میمبر اسٹیٹ ہیں جو اقوام متحدہ کے بجٹ میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں جس میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والوں میں جاپان، امریکہ، چائینہ، انگلینڈ، فرانس، جرمنی اور دوسرے بڑے یورپی ممالک بشمول کینیڈا، آسٹریلیا شامل ہیں۔

اگر ہم اقوام متحدہ کے سال 2019 کے بجٹ پے نظر ڈالیں تو سب سے بڑا بجٹ کا حصہ چائینہ نے contribute کیاھے۔

اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد جنگوں کو روکنا اور انسانی جان، بشمول انسانی حقوق کا تحفظ ہے مگر اقوام متحدہ کے قیام یعنی اینس سو پینتالیس سے آج تک لاکھوں معصوم افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور آج بھی روازنہ کی بنیاد پر دنیا میں معصوم جانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔

انیس سو پینتالیس کے بعد اگر ہم جنگوں اور معصوم انسانی ہلاکتوں یا انسانی حقوق کی پامالی کے متعلق تفصیل میں جائیں تو ہم کتاب کے کتاب لکھ سکتے ہیں، مگر جب کوئی ان جنگوں پہ کوئی ریسرچ یا کتاب لکھنے کو بیٹھ جائے تو عراق، ویتنام، افریقہ، افغانستان، کوسوو، بوسینیا، بنگلادیش، انڈیا، پاکستان، کے جنگوں اور وھاں پہ جو معصوم نا حق انسانوں کا خون بہہ چکا ہے تو اس کے متعلق ضرور لکھے گا۔

اگر آج کے دن ہم جنگوں پے نظر دوڑائیں تو شام، یمن افغانستان میں روزانہ کی بنیادوں پر عام معصوم انسانوں کا قتل عام ہورہا ہے، جبکہ اگر ہم انسانی حقوق کی بات کریں تو دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ہو جھاں پہ روزانہ کی بنیادوں پر انسانی حقوق کی پامالی نہ ہوتی ہو۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان جنگوں میں جو معصوم انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں اور روزانہ کے بنیاد پہ ان 193 ممالک میں انسانی حقوق کی جو پامالی ہورہی ہے اس کا الزام کس کو دیا جائے؟ کون روکے گا اس کو اور کس طرح؟ ظاھر ہے ان 193 ممالک جو اقوام متحدہ کے بجٹ میں سالانہ حصہ ڈالتے ہیں میں ہی وہ ممالک ہوں گے جو انیس سو پینتالیس سے آج تک مختلف جنگوں اور انسانی حقوق کی پامالی میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شامل تھے یا آج تک ہیں تو یہ ممالک کس کے سامنے کب اور کدھر جوابدہ ہوں گے؟

ویسے اگر کسی کے ہاں کوئی ملازم نوکری کرتا ہو یا کسی سیٹھ نے اپنے کام کاج کے لئے کوئی ملازم رکھا ہو تو سیدھی سی بات ہے کہ اگر ملازم کوئی غلط کام کرے تو مالک ہی کو حق ہے کہ ملازم کو ڈانٹ ڈپٹ کرے یا اس سے وضاحت طلب کرے بیچارے ملازم کی کیا اوقات کہ مالک کو اس کی غلطیوں پہ ڈانٹے یا پھر کچھ پوچھے آخر تنخواہ تو لینی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •