مریم نواز کی گرفتاری اور کلبلاتے سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ حقیقت بہرحال سب کو یاد رکھنی چاہیے کہ جب فرعون اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے بنی اسرائیل کے سب بچے قتل کرا رہا تھا تو عین اسی وقت موسیٰ اسی کے محل میں پرورش پارہا تھا۔

احتساب اور سباب میں چنداں فرق نہیں رہتا اگراحتساب کی رتھ قانون کی بجائے خواہش کے کاغذی گھوڑے کے ناتواں کندھوں پر رکھی ہواوررتھ کھینچنے والے گھوڑے کی آنکھوں پر ”کھوپے“ رکھ کر اسے گردوپیش سے بے خبر کرکے صرف سامنے کا ”راستہ“ دیکھنے پر مجبور کر دیا جائے۔ سوال اٹھانا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے اور قدرت نے ازل سے اسے انسان کی فطرت کا جزولاینفک بنایا ہے۔ شیطان، حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکاری ہوا تو اللہ تعالیٰ نے سوال اٹھایا ”جب میں نے تمہیں حکم دیا کہ آدم ؑ کو سجدہ کرو تو انکار کیوں کیا؟“

کچھ لوگ مخمل کے حسین پردوں پر اقتدارکی گردشو ں میں محو طواف ارباب اقتدار کایہ قول زریں ستاروں کی صورت کڑھائی کراکرانہیں لہراتے پھرتے ہیں کہ قائد کے پاکستان میں پہلی باراحتساب کا چشمہ پھوٹا ہے اوراب وطن عزیز کے ریگزار بھی باغ ارم کا منظر پیش کرنے کو ہیں۔ ان کا ارشاد بجا لیکن سوال تو پھر بھی اٹھتا ہے کہ ”پانی اپنی سطح ہمواررکھتا ہے لیکن یہاں تو چراغ رخ زیبا لے کربھی شاید یہ دلفزا نظارہ دیکھنے کو نہ ملے۔“ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس چشمہ آب“ احتساب ”کا رخ تاباں صرف نشیبی علاقوں کی طرف ہو اور“ بالائی علاقے ”ہنوز اس کی پہنچ سے کوسوں دور ہوں؟

سوال اٹھانا غداری ہوتا ہے اور نہ ہی سائل کی نیت پر شک کرناحوصلہ افزا رویہ۔ ریاست مدینہ میں توفلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ والی ریاست کو کسی بڑھیا نے اشارے سے بلایا اور عرب کے ریگستان کی کڑکتی دھوپ میں کھڑا کر کے باتیں سنائیں لیکن مجال ہے جو تاریخ کے اس صادق وامین حکمران کے ماتھے پر شکن پیداہوئی ہو۔ ٹھہرے پانی میں پلچل مچانے کے لیے ایک ہی کنکر پھینکنا کافی ہوتا ہے یہاں تو بے یقینی کا ایک جنگل ہے جس میں سوالات کے اژدہے ”اگر مگر لیکن کیوں کیسے“ جیسے پھن پھیلائے سوچ کو ڈسنے کے لیے تیار ہیں لیکن جواب کا عصا اتنا کمزورکہ سوال کی چوٹ سے ٹوٹا ہی چاہتا ہے۔

اگرایک طرف پشاور میٹروکے دیوتاکے حضور سوارب سے زائد کے چڑھاوے چڑھائے جا چکے ہوں لیکن تعبیر کی برکھا ابھی تک برسنے سے شرمندہ، احتساب کا دولہا اپنی دلہن ”بلین ٹری“ کے رخ سے گھونگھٹ سرکانے سے کترارہاہو، ہیلی کاپٹر کیس ابھی تک فضامیں ہو اور کسی کا ہاتھ وہاں تک نہ پہنچ پارہا لیکن اپوزیشن مکھی مارنے کے جرم میں بھی پکڑی جا رہی ہو تو آہنی دیواربھی سوال کے سیل رواں کوروکنے سے قاصرہی رہے گی۔ اگر ایک طرف بابراعوان کو آزادی کا پروانہ دیا جا رہا ہو اور دوسری طرف قمر الاسلام مہینوں جیل کاٹ کربیگناہی کا کتبہ اٹھا کر رہا ہو رہا ہوتو سوال تو پیدا ہوں گے۔

اگر ایک طرف فردوس عاشق اعوان پربنے کیس مٹھی سے ریت کی مانند پھسلتے جا رہے ہوں اور دوسری طرف شاہد خاقان عباسی دیوار سے لگایا جا رہا ہو تو سوال کوکسی بھی زہر سے مارانہیں جاسکتا۔ اگر ایک طرف زبیدہ جلال کے کیس پارٹی وابستگی کی آتش میں جلا، خاک بناکر پھونک مار کر ہوا میں اڑائے جارہے ہوں اور دوسری طرف مفتاح اسماعیل اوراحد چیمہ کواحتساب کی سیخوں پر چڑھا کر ہلکی ہلکی آنچ پر تلاجارہا ہو تو سوال اپنی پیدائش کے لیے کسی ازدواجی بندھن سے ماورا ہوجاتے ہیں۔ اگر ایک طرف فہمیدہ مرزاکو پاکدامنی کے سرٹفکیٹ عطا کیے جا رہے ہوں لیکن دوسری طرف مریم نواز کو ایسے کیس میں پابند سلاسل کیا جارہا ہوجواپنی مضبوطی میں مکڑی کے جالے کو بھی شرماتا ہوتو دنیا کی کوئی بھی احتیاط سوال کو ”پیدا“ ہونے سے نہیں روک سکتی۔

یہ انصاف نہیں کہ خود ہی سوال کا موقع دو اور پھر خود ہی سائل پر پابندیاں لگاؤ۔ مریم نواز کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہم نے مانا کہ مریم نواز شریف کی گرفتاری احتساب کے سفر میں ایک سنگ میل ہے لیکن اس آشیانے کوتو ایک مضبوط شاخ چاہیے تھی تاکہ کوئی ناگ اس عمل صالحہ کے انڈے بچے نہ کھاتا۔ لیکن افسوس! بزعم خویش اس کارنمایاں کے تن نازک کو شک کے گردوغبار میں لپیٹ دیا گیا؟ وہ الزام جس پر ہائی کورٹ ایک تاریخی فیصلہ بھی دے چکی اور اپیل دائر کرنے کی مدت بھی گزر چکی، اسی الزام پر گرفتاری ایک ایسی چنگاری ہے جو خرمن کو جلانے کے لیے کافی ہے۔

نیب کا حکمنامہ نمبر 1 ( 9 ) HQ/ 2023 /IW۔ II/NAB۔ l میں واضح مندرج ہے کہ مریم نواز شریف کو تین بجے نیب لاہور کے حضور پیش ہونا ہے۔ وقت کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے وہ ایک بجے اپنے والد سے ملاقات کے لیے جیل پہنچیں۔ لیکن کمال کی بات ہے کہ ان سے پہلے وہاں نیب کی ٹیم پہنچی ہوئی تھی۔ انہیں وہیں اپنے والد کے سامنے گرفتار کر لیا گیا۔ سوال تو پیدا ہوگا کہ بلانے والے خودچل کر جیل میں کیسے وارد ہوگئے؟ بغیر کسی سوال جواب کے عدالت کے احاطے کی بجائے جیل سے کیوں گرفتارکیاگیا؟

وقت تین بجے کا طے تھا تو ایسی بھی کیا عجلت تھی کہ تین دوگھنٹے مزیدصبرنہ ہوسکا؟ اگر گرفتار ہی کرنا تھا باپ کے سامنے ہی کیوں کیاگیا؟ اگر نئے پاکستان میں ملزموں کو نشان عبرت بنانا ہی مقصود تھا تو بیچ چوراہے، پرہجوم شاہراہ اور لوگوں کے جم غفیر سے بڑھ کربھی بھلا کوئی اورجگہ ہوسکتی تھی؟ سوال تو پیدا ہوگا کہ گرفتاری کا وقت اور جگہ دونوں کو صرف اس لیے تو تبدیل نہیں کیاگیا کہ کسی کو ذلیل کرنا اور اس کے اعصاب توڑنا مقصود تھایا کسی کی انا کی تسکین؟

مریم نواز نے پندرہ اگست کو مظفرآباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک ریلی کا اعلان کیاتھا لیکن اس سے پہلے ہی انہیں گرفتارکرلیاگیا۔ احتساب کا عمل بے شک شفاف ہوگا لیکن ان کی گرفتاری کاعمل اورجلدبازی،ان کی سابقہ ریلیوں کا بلیک آؤٹ، جلسوں والی جگہوں پرپانی چھوڑنا، جلسہ گاہوں کو تالے لگانا، اپیل کی مدت گزرنے کے بعد اپیل دائر کرناجبکہ اسی بنیاد پر کئی ایک مقدمات داخل دفتر کیے جاچکے ہوں، تین بجے سوالات کی بجائے ایک بجے گرفتاری ڈالنا، بلانے والوں کا خود جیل پہنچ جانا اور وہ بھی مریم نواز کے جیل پہنچنے سے پہلے اوراس جیسے دیگر اقدامات شکوک و شبہات پھیلانے اور نون لیگ کے حامیوں کو یہ کہنے کے لیے کافی ہیں کہ مریم نواز کے جلسے کاخ امراء کی دیواروں کو لرزا نے اور والیاں ریاست کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی تھے اس لیے انہیں گرفتار کرنے میں جلدبازی کی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •