میٹرک پاس اور فیل طلبہ میں کیا فرق ہوتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ماہ محترم وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے بعد سے وطن عزیز کی سیاسی و خارجی صورت حال کے حوالے سے پرنٹ و الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان سا آیا ہوا ہے۔ فی زمانہ سوشل میڈیا بھی اظہار رائے کا ایک موُثر ذریعہ ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر سیاسی و سماجی اور معاشرتی مسائل پر اہنی رائے کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔

گزشتہ دنوں فیس بک پر مسئلہ کشمیر کے موضوع پر دوست احباب اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے۔ تو ایک کمنٹ نظر سے گزرا کہ ”میٹرک فیل طلباء کو یہی سب کچھ پتا ہے، جو آپ نے اوپر لکھا ہے۔“ سارے کمنٹس پڑھے تو اندازہ ہوا کہ صاحبِ کمنٹ کا معیار اظہارِ رائے برائے مسئلہ کشمیر، ہمارا شمار بھی میٹرک فیل طلباء میں ہی ہوتا ہے۔

جب مذکورہ کمنٹ پڑھا تو ذہن میں ایک سوال کلبلایا کہ آخر میٹرک پاس اور فیل طلباء کی پہچان کیسے کی جائے۔ سوال کا جواب ضخیم کتابی شکل میں سامنے پڑا تھا۔ نوکر شاہی کے جن اعلی افسر نے وہ کتاب لکھی ہے، وہ یقینًا میٹرک پاس ہیں، اور تمام میٹرک پاس اہل قلم، سیاسی و عسکری سابق و حاضر افسر کے لیے وہ کتاب کسی آسمانی صحیفے سے کم نہیں۔

ایک بات تو طے ہو گئی کہ میٹرک پاس طالب علم سرکار میں اعلی عہدے پر ضرور فائز ہوتا ہے۔ اور دوران ملازمت چپ چاپ نوکری کرتا رہتا ہے۔ اور ریٹائر ہوتے ہی ایک کتاب لکھ مارتا ہے۔ جس میں یہ ضرور پڑھنے کو ملتا ہے کہ کب کب اور کس کس حکمران نے مجھ سے خلاف قانون و مزاج کام کرنے کو کہا تو میں نے معذرت کر لی۔ حکمران پھر بھی بضد رہا تو کس طرح روحانی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے، اس محکمے سے ہی ٹرانسفر کروا لیا جس محکمے میں حکمران یا اس سے بھی اعلی افسران نے خلاف قانون یا مزاج کام کرنے کا حکم دیا۔

یہ تمام باتیں کسی بھی ریٹائرڈ نوکر شاہی سے وابستہ افسر یا فوجی افسر کی بعد از ملازمت تحریر کی جانے والی کتاب و کالم پڑھ کر، الیکٹرونک میڈیا پر بطور تجزیہ نگار تبصرے سن کر پتا چل جاتی ہیں۔ ایسے میٹرک پاس افسران کو عمومًا الٹے سیدھے کام کرنے کا مشورہ سیاست دان ہی دیتے ہیں۔ آمروں کے دور میں ایسے افسران صراط مستقیم پر چلتے ہیں۔ اور اپنے راستے میں آنے والے ہر افسر، صحافی اور سیاست دان کو وہ سبق سکھاتے ہیں جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو جاتا ہے اور قوم بھگتتی ہے۔

ایسے میٹرک پاس افسران، صحافی، کالم نویس، دفاعی و سیاسی تجزیہ نگار اور ہینڈسم قسم کے وزیر اعظم آمریت کو جمہوریت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اپنے اور اپنے ساتھیوں، دفتری رفیقوں اور بھائی بہنوں کے علاوہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والا ہر سیاست دان ان کو چور اور غدار نظر آتا ہے۔ اگر مخالف سیاسی رہنما یا سابق وزیر اعظم مخالفت پر قائم رہے، تو ان سیاست دانوں اور سابق حکمرانوں کو بذریعہ احتساب عدالت و عدالت عالیہ چور، بد عنوان اور غدار ثابت کرنا، ان کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ اور آج کل تو یہ کھیل زور و شور سے جاری ہے۔

جو میٹرک فیل طلباء ہوتے ہیں۔ وہ جمہوریت اور سیاسی استحکام کو ملکی ترقی کا ضامن جانتے ہیں۔ مغربی ترقی یافتہ ممالک کی جمہوریت کی مثال دیتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں اکثریت میٹرک فیل صحافیوں، کالم نویسوں، سیاسی تجزیہ نگاروں اور عوام کی ہے۔ لیکن میٹرک فیل ہونے کی وجہ سے نہ ان کو کوئی سرکاری و عسکری ملازمت ملتی ہے اور نہ سرکار یا مقتدر حلقوں سے۔ کسی قسم کا وظیفہ زبان و قلم کی طاقت کے علاوہ کوئی طاقت ان کے پاس ہوتی نہیں، اس لیے میٹرک پاس مقتدر حلقے، ان کی زبان و قلم کی حرکت ساکت کرنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ میٹرک فیل لوگ وطن عزیز کی باگ ڈور سیاست دانوں کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

میٹرک پاس اور فیل طلباء میں ایک فرق بہت واضح ہوتا ہے۔ میٹرک پاس طلباء کا پسندیدہ مضمون ’مطالعہ پاکستان‘ ہوتا ہے اور یہی مضمون وہ امتیازی نمبروں سے پاس کر کے میٹرک پاس بن جاتے ہیں۔ اور میٹرک فیل طلباء کو مذکورہ مضمون کی کتب کے حوالے ہضم نہیں ہوتے، اس لیے وہ میٹرک میں فیل ہو جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •