ابا قربانی کتوں کے لیے تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر میں سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اور بڑی عید یعنی عیدالاضحیٰ کی آمد آمد تھی، ہمسائے میں بچے اپنے اپنے بکروں کے ساتھ کھیل ر ہے تھے۔ اتنے میں چھوٹی بیٹی عالیہ بولی ”ابا جان پانچ دن رہ گئے ہیں بڑی عید میں، آپ نے پچھلے سال کہا تھا اللہ نے چاہا تو اگلے سال ہم ضرور بکرا لیں گے تو اب تو پانچ دن رہ گئے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ مجھے بھی کھیلنا ہے بکرے کے ساتھ، اسے چارہ ڈالوں گی، پانی پلاوں گی، خوب سیوا کروں گی۔“

باپ نے بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا ”بیٹی! یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم بکرا خریدیں، کیوں کہ ہمارا گھر بھی چھوٹا ہے۔ باندھنے کے لیے جگہ بھی نہیں ہے۔“ بچی چھوٹی تھی مگر چھوٹی عمر میں ہی کافی سمجھدار ہوگئی تھی۔ کیوں کہ حالات آپ کو بہت کچھ سکھا دیتے ہیں، لیکن خیر تھی تو بچی ہی اور بولی ”ابا ابا اب تو چند دن رہ گئے ہیں بکرا عید میں، تو کیا عید پر گوشت ہمیں بھی ملے گا؟“

باپ بولا، ”ہاں بیٹی کیوں نہیں ضرور ملے گا۔“ ”لیکن ابا مجھے اچھی طرح یاد ہے پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں گوشت نہیں بھیجا تھا۔ اوراب تو کافی دیر ہو گئی ہے گوشت کا منہ دیکھے ہوئے بھی۔“ ”نہیں عالیہ اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا۔ میری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ حاجی امام دین صاحب قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں۔ اور مولوی صاحب بھی تو اس بار بکرا لے کر آئے ہیں۔ ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے۔ امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں۔“

آج عیدالاضحیٰ کے دن کے موقع پر مولوی صاحب بیان فرما ر ہے تھے کہ قربانی میں غریب، مسکین، اور ایسے لوگوں کو جو قربانی کے لیے جانور نہیں خرید سکے انہیں نہیں بھولنا چاہیے۔ ان کے ہم پر بہت حقوق ہوتے ہیں۔ اور ان سب کو قربانی کا گوشت لازمی بھجوائیں اور ان کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کریں۔ ماشاءاللہ کافی بڑا مجمع تھا، سب نے اونچی آواز میں انشاءاللہ کہا اور غریبوں کو گوشت دینے کا وعدہ کیا۔

خیر عالیہ کا باپ بھی نماز ادا کر کے گھر پہنچ گیا۔ گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد عالیہ بولی،”ابا ابھی تک گوشت نہیں آیا؟“ بڑی بہن نادیہ بولی ”چپ ہو جاؤ عالیہ ابا کو تنگ نہ کرو۔“ باپ چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظرانداز کرتا رہا۔ کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو عالیہ کی ماں بولی،”سنیئے میں نے تو پیاز اور ٹماٹر بھی کاٹ دیے ہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا۔ کہیں بھول تو نہیں گئے ہماری طرف گوشت بجھوانا، آپ خود جا کر مانگ لائیں۔“ ”عالیہ کی ماں تمہیں تو پتہ ہے آج تک ہم نے کبھی کسی سے مانگا نہیں اللہ کوئی نہ کوئی سبب ضرور پیدا کرے گا۔“

دوپہر گزرنے کے بعد چھوٹی بیٹی کے اسرار پر پہلے حاجی امام دین صاحب کے گھر گئے۔ اور بولے ”حاجی صاحب میں آپ کا پڑوسی ہوں۔ کیا قربانی کا گوشت مل سکتا ہے؟“ یہ سننا تھا کہ حاجی صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا، اور حقارت سے بولے ”پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں؟ نہیں ہے گوشت، مانگنے آ جاتے ہیں۔“ زور سے دروازہ بند کر دیا۔ توہین کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو گئے۔ اور بوجھل قدموں سے چل پڑا۔ راستے میں مولوی صاحب کے گھر کی طرف قدم اٹھے اور وہاں بھی وہی دست سوال۔ مولوی صاحب نے گوشت کا سن کر عجیب سی نظروں سے دیکھا اور بولے ”مولویوں کو دیتے ہیں ان سے لیتے نہیں“ اور اندر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد باہر آئے تو شاپر دے کر جلدی سے چلے گئے۔ جیسے اس نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔

گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف ہڈیاں اور چربی تھی۔ چپکے سے اٹھ کرکمرے میں چلے گئے اور خاموشی سے رونے لگ گئے۔ بیوی آئی اور بولی ”کوئی بات نہیں، آپ غمگین نہ ہوں میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔ یا رات کی آلو پالک بھی کافی پڑی ہے۔“ تھوڑی دیر بعد عالیہ کمرے میں آئی اور بولی ”ابا ہمیں گوشت نہیں کھانا۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ویسے بھی۔“ یہ سننا تھا کہ آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے لیکن رونے والے وہ اکیلے نہیں تھے۔ دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا ر ہے تھے۔

اتنے میں پڑوس والے انکل، انکل اسلم کی آواز آئی، جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا ”انور بھائی دروازہ کھولو!“ انور بھائی نے دروازہ کھولا تو اسلم نے تین چار کلو گوشت کا شاپر پکڑا دیا۔ اور بولا ”گاؤں سے چھوٹا بھائی لایا ہے۔ اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے سوچا تمہیں بھی دے دوں تم لوگ بھی کھا لینا۔“ خوشی اورتشکر کے احساس سے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اور اسلم کے لئے دل سے دعا نکلنے لگی۔

گوشت کھا کر ابھی فارغ ہوئے ہی تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا۔ بارش شروع ہو گئی اس کے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔ دوسرے دن بھی بجلی نہیں آئی۔ پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمر جل گیا۔ تیسرے دن عالیہ کو لے کرباہر آیے تو دیکھا کہ مولوی صاحب اور حاجی صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک ر ہے تھے جو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔ اور اس پر کتے جھپٹ ر ہے تھے۔

عالیہ بولی، ”ابا! قربانی کتوں کے لیے تھی؟“ وہ عالیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔
اور مولوی اور حاجی صاحب نے یہ سن کر گردن جھکا لی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •