حج کا فلسفہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 الفت، محبت اور عشق کے لطیف عناصر ابتداء ہی سے انسانی فطرت کامسلمہ جزو ہیں جن کے وجود اور حقیقت سے کسی دور میں انکار نہیں کیا گیا اور وقتاً فوقتاً ان کا اظہار کسی نہ کسی صورت میں ہوتا چلا آرہا ہے۔ دنیائے فانی میں قدم رکھنے کے بعد انسان کواپنی کمزوری اور محتاجی کا احساس ہوا اور اسے معلوم ہوگیا کہ الہامی ہدایت، خدائی علم اور معاشرتی اصولوں کے بغیر اس کی تعلیم ناقص اور سوچ نامکمل ہے۔ جب یہ احساس مزید پختہ ہوگیاتو انسان نے معاشرتی وسماجی ضروریات کی تکیمل کے لیے سہارے کی تلاش کی جو اللہ کے بنائے ہوئے اجتماعی ضوابط کی صورت میں مل گیا۔

رفتہ رفتہ انسان نے اپنے محسنِ عظیم کو پہچانا اور اپنی محبتوں کا قبلہ اس کی جانب پھیردیا۔ اس احساس کو ایک قاعدہ دینے کے لیے دینِ اسلام نے عبادت کا ایک منظم نظام تشکیل دیا جو انسان کی روحانی تسکین کابھی باعث ٹھہرا۔ حج بھی اللہ اور عبد کے درمیان محبت کاثبوتِ اعلیٰ ہے کہ جب انسان محض دو چادروں میں اللہ کا گھر کاطواف کرتاہے جیسے عاشق اپنے محبوب کی گلیوں اور اس کے گھر کے گرد بے چینی میں چکر لگاتا پھرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حاجی کون ہے؟ ”آپ نے فرمایا وہ جس کے بال پراگندہ ہوں اور جومیلے کچیلے کپڑے پہنے رہے“۔ ( ابن ماجہ)

اس حدیث سے معلوم ہواکہ حج کرنے والے کس طرح کے لوگوں کواللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ حضور کے ارشاد کامطلب یہ ہے کہ حج ایک عاشقانہ قسم کی عبادت ہے۔ جو لوگ محبوب کے گھر زیارت کوجائیں انہیں ہروقت غسل کرنے اور کھانے پینے میں دلچسپی نہیں لینی چاہیے۔ انہیں تواپناوقت محبوب کے ذکرو مناجات، دعا و استغفار اور گریہ وزاری میں صرف کرنا چاہیے اور یہی حالت نتیجتاً انسان کوخدا کے عشق کی انتہاء تک پہنچاتی ہے۔ ارشادالہی ہے :

” تم میں سے جوکوئی استطاعت رکھتا ہو تو وہ اللہ کے گھر کاحج اداکرے۔ اور جوکفر کرے تواللہ تمام عالم سے بے نیازہے“۔ (آل عمران: 98 )

اس آیت کی تشریح کے اعتبار سے تین قسم کے انسانی رویے سامنے آتے ہیں۔ ایک وہ جن کو اللہ نے مال و دولت عطا کیا ہے، ان کے لیے فرض ہے کہ اللہ کے گھر کاحج ادا کریں۔ دوم وہ کہ جن کہ پاس سرے سے مال وزر ہی نہیں اور وہ حج کے اخراجات اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ سوم وہ جن کے ہاتھ تو خالی ہیں مگر ان کے دل میں حج کاشرف حاصل کرنے اور کعبے کی زیارت کاشوق کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ علماء کی ایک کثیر تعداد کے مطابق مزکورِ بالا آیت میں بتائی گئی تنبیہ دوسری قسم کے گروہ کے لیے ہے۔

حج ایک بامشقت عبادت ہے جس کے ذریعے انسان کویہ باور کرایاجاتاہے کہ وہ اپنے جسم، عقل، فکر، رجحانات اور معاملات کو محض اللہ کے سپرد کردے۔ جسم کی سختی سے انسان میں جہادی صفات کاپیداہونابھی ناگزیر ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بوڑھوں، کمزوروں اور عورتوں کے لیے حج اور عمرہ کرنا ثواب میں جہاد کے برابرہے“ (سنن نسائ)

دورانِ حج انسان کی حالت ایک تباہ حال عاشق کی سی ہوتی ہے کہ جب وہ چلتاپھرتا، اُٹھتا بیٹھتا، روتادھوتا، چکرلگاتا صرف اپنے محبوب کاہی تزکرہ کرتا ہے۔ اس کے لبوں پہ ہردم خدا کی تسبیح ہوتی ہے، اس کادل ہمہ وقت اپنے مالک سے توبہ اور استغفار کررہا ہوتا ہے، زبان رب کی مدح سرائی میں محو ہوتی ہے، قرآن اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے، کانوں میں اذانیں رس گھول رہی ہوتی ہیں، ہاتھ اللہ کے آگے عاجزی سے پھیلے دکھائی دیتے ہیں، الغرض دورانِ حج ایک ایسی ایمانی کیفیت اور اسلامی فضا قائم ہوتی ہے کہ جو انسان کے تزکیہ نفس، دلی پاکیزگی، مغفرت، عبادات کی باقاعدہ مشق اور خود احتسابی کے معاملات کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے۔ یہاں تک کہ انسان کہہ اُٹھتا ہے :

”حاضر ہوں میں اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ تیرے سواکوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ تمام تعریفیں، بادشاہت تیرے لیے ہیں اور تیرے سواکوئی شریک نہیں“

جب انسان اللہ کی طرف چل کرجائے تو اللہ اس کی طرف دوڑ کرآتا ہے۔ منکسرالمزاجی سے کہے گئے انسان کے ان الفاظ کے جواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث روایت میں آتی ہے۔

رسول صلی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”جب حاجی لوگ عرفات میں ٹھہر کر گریہ وزاری میں مشغول ہوتے ہیں تو اللہ تعالٰی آسمانِ دنیا تک آجاتے ہیں اور فرشتوں سے کہتے ہیں میرے ان بندوں کو دیکھو! بال بکھرے ہوئے، غبار سے اٹے ہوئے۔ دیکھو! میرے پاس یہ اس حالت میں آئے ہیں“۔ (ترغیبِ کتاب الحج)

بلوغت کی عمر کے بعد حج کی بابت دوچیزوں کی حاجت طلب ہیں۔ صحت کی تندرستی اور روزی کی فراخی۔ ان تمام وسائل کے باوجود بھی اگر انسان اللہ کے گھر کی زیارت سے محروم رہے تو یہ اس کے لیے بہت بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔ حضرت ابوسعیدخدری بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس بندے کو میں نے صحت اور تندرستی بخشی اور روزی میں فراخی اور کشادگی دی۔ پھر پانچ سال کی مدت گزر جائے اور وہ میرے پاس ناآئے توایسا شخص محروم القسمت اور بد قسمت ہے“ (ترغیبِ کتاب الحج)

بظاہر تو کعبتہ اللہ اینٹوں اور پتھروں کی بنی ہوئی ایک سادہ عمارت ہے جسے کالے غلاف سے سجایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سادے گھر میں ایسی کون سی کشش ہے کہ ساراسال عازمین اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں؟

خانہ کعبہ مسلمان کاوہ مقدس مقام ہے جہاں جمالِ خداوندی کی عظیم تجلیات کا ظہور ہوتاہے جسے صرف راسخ العقیدہ مومنین ہی محسوس کرسکتے ہیں۔ کعبے کی زیارت میں جتنی جلدی کی جائے اتنا ہی افضل ہے کیونکہ موت کا کوئی بھروسا ہے نا وقت سے کوئی امید لگائی جاسکتی ہے۔ حج کی فرضیت کے بعد اس میں تاخیر کرنا اسلام میں برافعل قرار دیا گیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے لوگو! اگرتم پرحج فرض ہوچکا ہوتو اس کی ادائیگی میں جلدی کرو اس لیے کہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ کب کیارکاوٹ پیش آجائے“ (ترغیبِ کتاب الحج) ایک اور موقع پرارشاد فرمایا: ”اگر کسی شخص کوواقعی کوئی محتاجی نہیں ہے، وہ بیمار بھی نہیں ہے اور کسی ظالم اقتدار کی طرف سے اسے رکاوٹ بھی لاحق نہیں ہے لیکن پھر بھی اس نے حج نہیں کیا تو وہ چاہے یہودی یانصرانی ہوکرمرے“ ( بیہقی) حج اسلام کاپانچواں اور اہم رکن ہے۔ حج کافلسفہ انتہائی پرحکمت اور عظیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کعبہ تمام مسلمانوں کے لیے مرجع گاہ ہے۔ اس فلسفے کے چند نکات کاتزکرہ کیاجارہا ہے۔

1) حج انفرادی واجتماعی تربیت کا بے حد منظم ذریعہ ہے۔ چالیس روز ایک اسلامی ماحول میں گزارنے کے بعد انسان نیکی کے لامتناہی سلسلے سے منسلک ہو جاتا ہے جو نتیجتاً اس کی بخشش کا سامان کاباعث بنتاہے۔

2) حج مسلمانوں کاعظیم اجتماع ہے جس میں دنیا کے مختلف گوشوں سے آئے تمام مسلمان خاص تاریخوں میں، ایک خاص وقت پر، خاص لباس پہن کراجتماعی عبادت سرانجام دیتے ہیں اورمل کرحج کے مناجات اداکرتے ہیں تو نظم وضبط کی لاثانی نظیر قائم ہوتی ہے جو اسلام کے نظامِ کامل کا پتا دیتی ہے۔

3) رنگ، نسل، زبان، ذات اور علاقے کی تفریق کیے بغیر جب مسلمان ”لبیک اللھم لبیک“ کی صدا بلند کرتے ہیں تو اتحاد اور مسلم یکجہتی کی فضاقائم ہوتی ہے۔ جس کی مثال دنیاکے کسی مذہب میں نہیں ملتی۔

4) چونکہ حج میں مختلف ممالک سے لوگ آتے ہیں، اس طرح بین الاقوامی سطح پربھی مسلم ممالک کے درمیان اچھے تعلقات قائم رہے۔

5) حج کے دوران لاکھوں عازمین بیت اللہ تشریف لاتے ہیں اور اس طرح خریدوفروخت کاسلسلہ جاری رہتاہے، نتیجتاً معیشت کو تقویت ملتی ہے۔

۔ 6 ) حج کے دوران مسلمان دنیا کے کونے کونے سے آکر ایک عرب ملک میں قیام کرتے ہیں۔ اس طرح زبانِ عربی کو سیکھنے کا نادر موقع ہاتھ آتا ہے جو انسان کی دین فہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

7) حج کاخطبہ ایک ہی وقت میں تمام مسلم میڈیا چینلز اور بعض غیرمسلم چینلز پر بیک وقت دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح اسلام کی طوقیرمیں اضافہ ہوتا ہے اور شجرِ اسلام پھلتا پھولتا ہے۔

الغرض، حج ناصرف عظیم اسلامی فریضہ ہے بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں میں اتحاد کاباعث ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ ہمیں بھی بیت اللہ اور روضہُ رسول کی حاضری کاشرف بخشے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ریان عبداللہ کی دیگر تحریریں
ریان عبداللہ کی دیگر تحریریں