ایک بگڑے ہوئے عسرت زدہ فلمی ہیرو کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بجائے اس کے کہ میں مقبوضہ کشمیر کو بھارتی اکائی میں شامل کرنے کے شرمناک اقدام پر بلوائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی پر کچھ لکھوں، مناسب ہے کہ آپ کو مقبوضہ کشمیر کے ایک نوجوان شاعر کے جذبات سے روشناس کرادوں، نوجوان کشمیری شاعر کا یہ کلام کئی سال پرانا ہے اورآج کل انٹر نیٹ پر اسے خوب پذیرائی مل رہی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت بہتر سال تک کیا کیا مظالم ڈھاتا رہا؟ یہ شاعری اس کی ہو بہو تصویر ہے، اگر میں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے تصویر کشی کی تو ڈرتا ہوں کہ میری اپنی تصویر بھی مسخ ہوجائے گی، مجھے خود اپنا منہ چھپانے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔

نہ بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر ہوں نہ میں جنت سی اب کوئی تصویر ہوں جس کو مل کر تھا صدیوں سے لوٹا گیا میں وہ اجڑی ہوئی ایک جاگیر ہوں ہاں۔ میں کشمیر ہوں، ہاں، میں کشمیر ہوں پورے بھارت میں کچھ بھی کہیں بھی ہوا میرے معصوم بچے اٹھائے گئے خوں میں ڈوبی ہوئی ایسی تحریر ہوں ہاں، میں کشمیر ہوں، ہاں میں کشمیر ہوں.

کئی بار اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والا ایک سیاستدان جوآج بھی حکومت میں شامل اور ایک اہم عہدے پر فائز ہے، اپنے ہم عصر اور دور جدید کے سیاستدانوں سے مختلف ہے، مختلف اس لئے کہ حکمرانی کے دنوں میں وہ براہ راست لوگوں کی دسترس میں رہتا ہے، اس سیاستدان کو بھی دوسرے سیاستدانوں کی طرح مجھ سے شکایت رہی کہ میں ملنے نہیں آتا، حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ میں سیاستدانوں اور حکمرانوں سے دوستیاں رکھتا ہی نہیں ہوں، البتہ وہ بہت سارے سیاستدان اور سیاسی ورکرز میرے جگری یار ہیں جو مجھ جیسے ہیں اور میرے طبقے کے ہیں۔

مذکورہ سیاستدان اور حکمران نے ایک بار اپنے گھرآنے اور اپنے ساتھ کھانا کھانے کی ضد ہی لگالی۔ ایک رات آٹھ بجے کے قریب جب میں ایک مارکیٹ میں تھا میرے موبائل کی گھنٹی بجی، دوسری جانب وہی سیاستدان تھا ”“ ”، دیکھیں جی آج آپ نے ڈنر ہمارے ساتھ کرنا ہے۔ اگرآج آپ نہیں آتے تو روٹی ہم بھی نہیں کھائیں گے“ ”“ ”اس بلاوے میں اتنی اپنائیت تھی کہ میں نے حامی بھرتے ہوئے گاڑی ان کے گھر کی طرف موڑ لی، وہ ڈرائنگ روم میں میرا منتظر تھا۔

حالات حاضرہ پر بات چیت چلتی رہی، پھرملازمین نے کھانا لگانا شروع کر دیا، سب کچھ مزیدار تھا، گاؤں کے خالص پکوان، ہر دو منٹ بعد تازہ تندوری روٹی آ رہی تھی، جب ہم سیر ہوگئے تو اس نیک دل سیاستدان نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چلیں تھوڑی دیر باہر لان میں ٹہلتے ہیں، ہم دونوں صحن میں آگئے، چکر پر چکر لگ رہے تھے، مگر دونوں جانب سے خاموشی تھی۔ وہ تو پتہ نہیں کن سوچوں میں غلطاں تھا مگر میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے اٹھ رہے تھے، میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہے جو میرا میزبان مجھ سے کرنا چاہتا ہے لیکن کہہ نہیں پا رہا، وہ کیا بات ہو سکتی ہے؟

اب آخر میں ایک اداکار کی کہانی۔ وہ اب مر چکا ہے، مرنے سے ایک سال پہلے مجھے اس کے فون آنا شروع ہوئے، اوئے مجھے مل لو، میں بیمار ہوں، تمہارا باپ میرا بھی باپ تھا، وہ ایسے مکالمے بولتا اور پھر رونا شروع کر دیتا، سمجھ نہیں آتا تھا کہ کون ہے وہ؟ وہ مجھے اپنا نام بتانے سے بھی گریز کر رہا تھا، ایک دن میں نے اس کے پاس جانے کا ارادہ کر ہی لیا، میں اس کے دروازے پر کھڑا تھا، اندر سے آواز تو آ رہی تھی لیکن کوئی دروازہ نہیں کھول رہا تھا، دس منٹ بعد دروازہ کھلا تو بیساکھیوں کے سہارے ایک فالج زدہ شخص سامنے تھا، میں نے اسے پہچاننے میں دیر نہ لگائی، پنتالیس برس پہلے وہ ڈائریکٹرمنور رشید کی فلم ”انجان“ میں ہاشمی صاحب کا بیٹا بنا تھا، 1976 ء میں جب ہاشمی صاحب کا انتقال ہوا تو اگلی صبح دو آدمی ہمارے گھر آئے تھے اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے کہہ رہے تھے، وہ اداکار ایک دن پہلے ہاشمی صاحب کے جنازے میں شرکت کا کہہ کر گھر سے نکلا تھا، ابھی تک واپس نہیں لوٹا، جبکہ تو جنازے میں شریک ہی نہیں ہوا تھا۔

درجنوں اردو پنجابی فلموں کا یہ ہیرو یا سیکنڈ ہیرو کبھی پاپولر ایکٹرنہ بن سکا، اگر میں بتاؤں کہ اس کا نام یہ تھا تو آپ کہیں گے ہم نے تو پہلے کبھی اس کا نام نہیں سنا، اسی لئے میں اس کا نام ہی نہیں لکھ رہا، وہ 1968 ء میں فلم نگر میں داخل ہوا۔ اس کی چند فلموں کے نام بھی یاد آرہے ہیں مجھے، میری دوستی، میرا پیار (ہیروئن روزی) پنجابی فلم، پیار دا ویری میں فردوس اس کی ہیروئن تھی، دیا اور طوفان، آنسو، انہونی اور راجہ رانی وغیرہ وغیرہ ماڈل ٹاؤن کی بڑی بڑی کوٹھیوں کے درمیان یہ تین چار مرلے کا مکان مجھے کچھ عجیب سا لگا، بجلی کٹی ہوئی تھی گھر کی۔

چھوٹے سے صحن کے پیچھے تکون نما ایک بڑا کمرہ، روشن دان نے کمرے کو مکمل تاریکی سے بچایا ہوا تھا، شدید گرمی کا دن تھا، کمرے کے بائیں جانب ایک بی بی کرسی پر بیٹھی قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے مسلسل روئے جا رہی تھی، کمرے کے دائیں طرف اس ایکٹر کی چارپائی تھی اور ایک بوسیدہ ریک پر اس کی ادویات رکھی تھیں، میں نے بچوں کے بارے میں پوچھا تو جواب تھا، چھوڑو انہیں، نکمے ہیں سالے، میری ”ضرورتوں“ کا دھیان ہی نہیں رکھتے ”“ تکون نما کمرے کے اس اندھیرے کمرے کے پہلے کونے میں تلاوت کرتی ہوئی خاتون کا تعارف اس نے اشاروں سے کرایا، بیوی ہے، مگر بول چال نہیں ہے میری اس کے ساتھ۔

قرآن خوانی کرتے ہوئے مسلسل آنسو بہاتی اس خاتون نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا نہ جانے کیوں میرے دل میں یہ خیال آ رہا تھا کہ یہ معصوم خاتون کئی دنوں سے بھوکی بھی ہو سکتی ہے، میں نے انتہائی آہستگی سے اس ایکٹر سے سوال کرنے شروع کیے اور میرے علم میں آیا کہ اس کی بیوی کا تعلق لاہور کے ایک امیر گھرانے سے تھا، اس ایکٹر نے اس سے ”لو میرج“ کی تھی جس کا اس خاتون کا خاندان حامی نہ تھا اور وہ عورت شادی کے بعد دنیا میں تنہا رہ گئی تھی۔

وہ ایکٹر مجھے اپنی فلمی ہیروئنز کے قصے بھی سناتا رہا کہ کس کس ہیروئن کو اس نے ”فتح“ کیا تھا، اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ اپنے پرانے دوستوں سے پیسے منگواتا ہے اور شام ڈھلنے کے بعد موبائل پر کال کرکے رکشہ دروازے پر بلوا لیتا ہے اور اس میں بیٹھ کر پینے پلانے والے دوستوں کی محفل میں چلا جاتا ہے، مجھے اس پر غصہ بھی آ رہا تھا اور ترس بھی ”، میں اس کی بکواس سنتا رہا، مگر دھیان قرآن پڑھتی اور ہچکیاں لیتی اس کی بیوی کی جانب ہی رہا، واپس جاتے ہوئے اس کی اہلیہ کو کچھ پیسے دینا چاہا تو وہ رقم اس اداکار نے خود پکڑ لی، میں نے جاتے جاتے ہمت کر کے اس خاتون کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا“ باجی اللہ سب ٹھیک کر دے گا، میں آپ کے پاس آتا جاتا رہوں گا، لیکن ایسا نہ ہو سکا، مجھے چند دنوں بعد ہی اس با صبر خاتون کی موت کی اطلاع مل گئی تھی۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •