ضمیر کی پاتال اور فلک کی نارسائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمل: انعام راجہ

مجھے یاد ہے کہ اس محلے سے پہلے میں جہاں رہتا تھا، وہاں حنیف نام کا ایک جاہل دکاندار اپنی خوبصورت اور پڑھی لکھی بیوی کو صرف اس لیے پیٹا کرتا تھا کیونکہ اسے اس سے نفسیاتی تسکین ملتی تھی، ایک رات اس نے بیوی کو اتنا مارا کہ اسے ہسپتال میں داخل کرنا پڑا، لڑکی کے گھر والوں نے اس کا گریبان پکڑا، پولیس میں شکایت درج کی گئی، جب اسے گرفتار کرکے لے جایا جارہا تھا تب اس کے تکیے پر سے ’شوہر کے حقوق‘ نامی ایک کتاب دریافت ہوئی تھی۔

ایک روز فلک سر سے پیر تک ایک کالے برقعے میں ملبوس ہوکر آئی، میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے سخت تاکید کی ہے کہ کہیں بھی جاؤ، برقعہ پہنے بغیر بالکل گھر سے نہ نکلو، چاہے پڑوس کا شفاخانہ ہو یا پھر سبزی فروش کی دوکان۔ یہ عجیب نفسیاتی مسئلہ ہے کہ جن عورتوں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غیر مرد کی نگاہ پڑتے ہی بہک اٹھیں گی، ان کے لمس کی ایک چھون سے پگھل جائیں گی، انہیں بچانا اور محفوظ رکھنا ضروری ہے، ایسی ہی عورتیں سماج کے اندرونی فرسٹریشن سے اگنے والے مردوں کی توجہ کا انتہائی مرکز بن جاتی ہیں۔

فلک کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ایک روز وہ دوپہر کے وقت آئی، گرمی زیادہ تھی، میں کھانا کھانے کے لیے شفاخانے کا شٹر گرانے ہی والا تھا، مگر اسے دیکھ کر رک گیا۔ اس کی بیٹی اپنے نانا نانی کے گھر تھی اور شوہر دو دنوں کے لیے کسی کام سے دوسرے شہر گیا ہوا تھا۔ اس کے پاس وقت ہی وقت تھا، چونکہ میری اور اس کی بات چیت اب کافی آگے بڑھ گئی تھی، ہمیں ایک دوسرے کی پسند، ناپسند، تاریخ پیدائش، حالات، تبدیلیاں اور کچھ پوشیدہ خواہشوں کا علم بھی ہوگیا تھا۔ وہ مجھ سے اکیلے میں تکلف نہیں برتتی تھی، ہم آپ جناب سے تم تہار تک کی سیڑھیوں تک پہنچ گئے تھے۔ میں نے اس سے کہا۔

’برقعہ اتار دو، میں پنکھا چلادیتا ہوں۔ بس کھاناکھانے کے لیے اوپری منزل پر جارہا تھا۔ ‘

’اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں بھی آپ کا گھر دیکھ سکتی ہوں؟ ‘

میں نے کوئی جواب نہیں دیا مگر کندھے اچکا کر اشارہ کردیا کہ مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ تھوڑی دیر میں شفاخانے کو تالا لگا کر ہم اوپری منزل پر پہنچ گئے۔ دوپہر کا وقت تھا، گلی میں سناٹا تھا۔ جب ہم اوپر آئے تو مجھے یہ سو چ کر شرمندگی ہوئی کہ مجھ جیسا ایک کنوارہ ہومیوپیتھی کا ڈاکٹر جس طرح کی سیلن اور بو باس میں رہتا ہے، اس میں ایک جوان لڑکی کو لے جانا کیا ٹھیک ہوگا۔ دروازہ کھولا تو حسب توقع ایک گرم بھبھکے نے ہمارا استقبال کیا۔

وہ میرے پیچھے پیچھے اندر آگئی۔ ڈرائنگ روم اور ایک کمرہ تھا، ملحقہ کچن اور باتھ روم۔ مگر اتنے سے علاقے میں بھی چیزیں بے ترتیبی سے بکھری پڑی تھیں۔ کسی کرسی پر تین دن پرانے کپڑے لٹکے دھول پھانک رہے تھے، لکڑی کے ایک پلنگ پر شیو بنانے کا سامان اور آئنہ ایسے دراز تھا جیسے کسی نے پھینک مارا ہو۔ سامنے ایک قد آدم آئنہ تھا مگر زنگ نے گویا اسے لقوہ مار رکھا تھا، اس میں اپنا ہی منہ بسا اوقات ایسا نظر آتا کہ شام کے وقت جب وولٹیج کم ہو تو انسان خود پر بھوت یا آسیب کا شبہ کربیٹھے۔

جگہ جگہ کونوں میں جالے لگے تھے، ایک بوسیدہ سی ٹوٹی پھوٹی کھراٹا جھاڑو کونے سے لگی اس گرد آلود منظر کو دیکھ کر اپنی بے بسی پر روتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ الیکٹرونک کا سامان جیسے ٹی وی، ریفریجریٹر اور پنکھا وغیرہ اپنی ایجادات سے بھی پہلے کے معلوم ہوتے تھے۔ میرے نہائے دھوئے، پرفیوم میں بسے حلیے کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں ایسی گندگی میں اپنے دن رات گزارتا ہوں۔ ایک پل کے لیے مجھے ایسا لگا جیسے فلک ابھی ناک پر ہاتھ رکھ کر قے کرتی ہوئی دروازہ کھول کر بھاگے گی۔ مگر مڑکر دیکھا تو وہ اپنا برقعہ اتار رہی تھی۔ برقعہ اتار کر اس نے مجھ سے پوچھا۔

’آپ کو بھوک لگی تھی نا، کچھ بنا ہوا ہے یا میں بنادوں؟ ‘

میں اسے روکتا، اس سے پہلے وہ کچن میں داخل ہوگئی۔ کچن کی صورت تو اور زیادہ بگڑی ہوئی تھی۔ سنک میں تین چار دنوں کے پرانے برتن مٹی اور پانی کی ملی جلی کیچڑ سے لتھڑے پڑے تھے۔ میں نے اسے منع کرنا چاہا تو اس نے آنکھ کے اشارے سے مجھے ایک جانب بیٹھنے کو کہا۔ میں کمرے میں چلا گیا، کافی دیر تک کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ قریب آدھے گھنٹے بعد جب میں باتھ روم سے نہادھو کر نیکر اور ٹی شرٹ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ جس ٹیبل پر روزانہ اخبارات گرد پوش کے فرائض انجام دیا کرتے تھے، اس پر بڑے سلیقے سے ایک لال کپڑا بچھا ہے، مجھے خود اندازہ نہیں تھا کہ یہ کپڑا کہاں سے اور کیسے حاصل کیا گیا ہوگا۔ اس پر ایک پلیٹ میں دو پراٹھے، برابر کی ایک کٹوری میں سلیقے سے پگھلا کر رکھا گیا مکھن، اور چائے کی دو پیالیاں ڈھکی ہوئی رکھی تھیں۔ میں نے پہلا نوالہ توڑ کر فلک کے منہ میں رکھنا چاہا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر وہ نوالہ مجھے ہی کھلا دیا۔ اس نے بڑے پیار سے کہا۔

’میرا بس چلتا تو میں روز اسی طرح آپ کو کھانا کھلانے آجایا کرتی۔ ‘

عمل: انعام راجہ

جتنی دیر میں کھانا کھاتا رہا، اس کی آنکھوں میں جھانکتا اور اس سے طرح طرح کی باتیں کرتا رہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے اندر ایک حس لطیف بھی ہے، جو اس لڑکی کے سامنے اپنے جوہر دکھارہی ہے، کیونکہ وہ میری باتوں پر کبھی مسکراتی تو کبھی کھل کر ہنستی۔ عام طور پر میں جس طرح زندگی بسر کرتا تھا، مجھے خود محسوس ہوتا تھا کہ شاید میں ایک بارعب اور انتہائی سنجیدہ شخص ہوں، جس کی زندگی کی چوتھی دہائی بڑے انہماک کے ساتھ سفید گولیوں کو مختلف قسم کے عرق میں بھگوتے بھگوتے بسر ہورہی ہے۔

کھانا کھانے کے بعد میں نے اور اس نے ساتھ میں چائے پی، میں نے ہاتھ دھوئے اور اس نے برتن اٹھاکر کچن میں جاکر انہیں دھودھا کر رکھ دیا۔ اصولی طور پر میں مجھے اب قیلولہ کرنا تھا، یعنی دوپہر کا کھانا کھاکر پاؤں پسارنے تھے، باہر نکلا تو پلنگ کو دیکھ کر بھی یک گونہ حیرانی ہوئی، چادر وہی تھی مگر اس کا رنگ کچھ نکھرا ہوا معلوم ہورہا تھا، جیسے کسی نے جھاڑ کر بڑے سلیقے سے دوبارہ بچھائی ہو۔ فلک نے اس پر پڑا ہوا سامان بڑے سلیقے سے کھڑکی کے پاس سجادیا تھا۔

مجھے زندگی میں ایک دوپہری کو اچانک مل جانے والی اس سوگھڑ لڑکی سے یکدم عشق ہوگیا۔ اب یہ عشق اس سے تھا، یا اس بیٹھے بٹھائے کے آرام دہ لمحوں سے مجھے خبر نہیں۔ مگر آج قیلولے کا ارادہ ترک کرکے میں اس کے ساتھ پلنگ پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ اچانک بات کرتے کرتے اس کے دوپٹے کو میں نے اپنی کلائی پر لپیٹنا شروع کردیا، وہ بہت گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی، اس نے مجھے ٹوکا نہیں، بس ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا۔ ’کیا کررہے ہیں‘ ۔

میں نے جواب نہیں دیا اور تھوڑی دیر میں پورا دوپٹہ میری کلائی پر تھا، اس کے ہرے جمپر کی گردن کچھ زیادہ گہری تھی، جس سے اس کے سینے کی درمیانی لکیر اور اٹھانوں کی گوری چمک واضح ہورہی تھی۔ میں نے کپکپاتے ہوئے آگے بڑھ کر اس کے گال کو چوم لیا۔ میرے لیے یہ کسی کے گہرے لمس کا بالکل پہلا پہلا تجربہ تھا، معلوم ہوتا تھا جیسے بلڈ پریشر اچانک ہائی ہوگیا ہے، بدن کے رونگٹے چیونٹیوں کی شکل میں ڈھل کر میرے ہی اپنے شریر پر کلبلانے لگے تھے۔ میں محسوس کرسکتا تھا کہ اس کا سانس بھی تیز ہوگیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •