ضمیر کی پاتال اور فلک کی نارسائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمل: انعام راجہ

اس کے کانوں کی لوؤں کو اپنی زبان کی نوک سے بھگوتا ہوا، میں گردن تک پہنچ گیا۔ اس کی زلفوں سے ڈھکی گردن میں ایسا گرم اور گہرا سکون تھا کہ کیا بتاؤں، جی چاہتا تھا کہ ساری عمر اسی بھیگتی ہوئی ریت میں گزار دوں۔ اس کے بدن کی خوشبو میری آنکھوں میں اتر آئی تھی اور دور تک سوائے اڑتی اور چمکتی ہوئی تتلیوں کے مجھے کچھ نظر نہ آتھا۔ میں نے اس کی گردن کے پچھلے حصے کو کس کر پکڑ لیا تھا اور اس کے پورے چہرے کو اپنی تیزابی بارش سے تر کرتا جارہا تھا۔

جب میں نے اس کے ہونٹوں کو اپنی زبان سے چھوا تو وہ اچانک کسمسا اٹھی، اس کے پھیلے ہوئے بدن کو میں نے اپنے بازؤں میں سنبھالنے کی کوشش کی، مگر وہ نہ سنبھلا اور نتیجے کے طور پر ہم دونوں لیٹ گئے، وہ نیچے اور میں بالکل اس کے اوپر۔ دو گلابی طوفانوں کے آپس میں ملنے کی دیر تھی کہ دھواں دار آہوں سے کمرہ گونجنے لگا۔ ایسی سرگوشی میں دبی دبی اس کی سانسیں مجھ پر وصال کے کلمے برسارہی تھیں کہ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ اب کچھ اور سن پانا ممکن ہی نہیں ہے۔

انہی حیوانی لمحوں میں میں نے اس کا جمپر اٹھا دیا، پیٹ کی رسیلی دھاریوں کو جذب کرتا ہوا، جب میں سینے کی گولائیوں تک پہنچا تو وہ کالے رنگ کی دو کٹوریوں سے ایسی کس کر باندھی گئی تھیں کہ ابلی پڑتی تھیں۔ اس کپڑے کی گول دیوار کر کھسکا کر نیچے کرتے ہی میری انگلیوں نے اس کے سخت اور چکنے چربی دار چاندوں کو مسلنا شروع کردیا۔ میں نے بدن کی بے بسی سے جھنجھلاتے ہوئے اپنا ٹی شرٹ اتارا، اس کی شلوار کا ناڑا کھولا اور پینٹی میں انگلیاں گھسادیں، ہلکی سیاہی مائل گھانس میں رینگتی ہوئی انگلیاں جب اس کے فتنہ زن مقام تک پہنچیں تو وہ اچانک ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی، پانچ چھ سکینڈ خاموشی سے میرا منہ دیکھتی رہی، پھر اچانک ایک زناٹے دار تھپڑ مجھے رسید کرکے، اپنے کپڑے ٹھیک کرتی ہوئی، برقعے کی جانب لپکی اور الٹا سیدھا اسے خود پر ڈال کر دروازہ کھول کر تیزی سے سیڑھیاں اتر گئی۔

مجھے اب اپنی حیوانیت پر بڑی ندامت ہورہی تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے میں نے ایک شادی شدہ لڑکی کو بہکا کر اس کے بدن کا فائدہ اٹھایا ہے۔ اب تک جتنی لذت حاصل ہوئی، ساری ایک انجانے خوف اور دکھ کی ملی جلی کیفیت میں تبدیل ہوکر کسی سماجی موری میں بہتی چلی جارہی تھی۔

اس کے بعد کئی ہفتے میں نے اسے نہیں دیکھا، تھوڑی بہت تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے میکے گئی ہوئی ہے۔ میں اپنے کام میں منہمک رہتا اور خود سے بھی زیادہ تر نظریں چراتا رہتا۔ میرے ضمیر کا منہ اچانک اتنا بے باک ہوگیا تھا کہ وہ بہت سے لوگوں کے درمیان بھی مجھے چیخ چیخ کر گالیاں دیتا۔ بار بار فلک کا وہ حیادار گلابی چہرہ میری آنکھوں کے آگے آجاتا، جس میں مجھے ایک عدم اعتماد اور ندامت کے ملے جلے عناصر دکھائی پڑتے۔

راتوں میں نیند کھل جاتی اور بھیانک بھیانک خواب آتے۔ جیسے فلک کا شوہر میرا گریبان پکڑ کر مجھے گلی میں گھسیٹ رہا ہے، مجھ پر امانت میں خیانت کرنے کے الزام لگا کر مجھے بھدی بھدی گالیاں دے رہا ہے اور میں اس کے سامنے روتا بسورتا، گڑگڑاتا، معافی مانگ رہا ہوں۔ پانی کی کئی چھینٹیں پڑنے کے بعد میرے سینے میں لگی ہوئی آگ کو کچھ راحت ملتی۔ میں سوچتا تھا کہ بے چاری ایک لڑکی، جس سے مجھے ہمدردی سے پیش آنا چاہیے تھا، جس کا شوہر اسے ٹھیک طور پر نہیں سمجھتا، جس نے مجھ میں ایک دوست اور ہمراز تلاش کیا تھا، کیسے میں نے اس کے بھروسے کو تار تار کرکے رکھ دیا تھا۔ اس روز جب وہ میرے گھر آئی تو اس کے کام کاج میں کتنی ممتا تھی، اتنی جلدی میں اس نے کیسے اس کاٹھ کباڑ جیسے گھر کو پررونق اور لائق دید بنادیا تھا۔ جیسے بڑے عرصے بعد کوئی ماں یا بڑی بہن اپنے بیٹے یا چھوٹے بھائی کے گھر اچانک پہنچ کر اس کی بری حالت کو سدھارنے میں جٹ جاتی ہے۔

رفتہ رفتہ وقت بیتتا گیا، ایک ڈیڑھ سال اسی کشمکش میں نکل گیا۔ وہ کب اپنے گھر آئی، گھر سے نکلی، نہیں نکلی۔ میں نے اس بات کی ٹوہ بھی لینا چھوڑ دی تھی۔ اب یہ بات ہمیشہ کے لیے میرے دل میں ایک گہرے ندامت آمیز گھاؤ کی طرح چبھتی تو تھی مگر اس کی شدت میں کافی کمی آگئی تھی۔ ایک روز مجھے اپنی ماں کا خط ملا، ان کے ہر خط میں مجھ سے شادی کرلینے کی درخواستیں ہوا کرتی تھیں، وہ میرے سر پر سہرا سجتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ میں ان سے کافی دور تھا اور گھر میں سب سے چھوٹا تھا، ماں بڑے بھائی کے ساتھ رہتی تھیں، دو بہنیں تھیں، جن کی شادیاں مختلف شہروں میں ہوگئی تھیں اور جن سے سال چھ ماہ میں کبھی ملاقات ہوپاتی۔

اس بار ماں کا خط آیا تو نہ جانے کیوں میں نے ضمیر کی آگ پر ٹھنڈے پانی کی چھینٹیں ڈالنے کے لیے انہیں لکھ دیا کہ وہ کوئی سی بھی لڑکی میرے لیے تلاش کرلیں، میں شادی کے لیے رضا مند ہوں۔ اگلے خط میں انہوں نے ایک لڑکی کا ذکر کیا، جس کی تفصیلات پر غور کیے بغیر ہی میں نے ہامی بھرتے ہوئے جوابی خط انہیں بھیج دیا تھا۔ طے ہوا تھا کہ برسات کا پہلا چھینٹا پڑتے ہی منگنی کردی جائے گی۔ لوگ گاؤں میں میری اور برسات کی برابر سے راہ تکے جارہے تھے، مگر اس بار معلوم ہوتا تھا حبس یوں ہی سر پر سے گزر جائے گا، مگر بادل نامہربان ہی رہیں گے۔

اور آج رات فلک کو یوں سامنے چٹکی ہوئی چاندنی میں دیکھ کر میں اور ضمیر دونوں حیران رہ گئے تھے۔ مجھے احسا س ہوا جیسے میری آنکھ کسی کے اینٹا چھت پر پھینکنے کی وجہ سے کھلی ہے، اور وہ فلک کے علاوہ کون ہوسکتا تھا۔ قریب جاکر دیکھا تو اس کا چمکدار ہیولہ مجھ سے دو منٹ ملنے کی اجازت طلب کررہا تھا۔ گلی میں سناٹا تھا، ہلکی نیلی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی، دو بادل آسمان میں بھٹک رہے تھے اور میری دونوں ہتھیلیاں پسینے سے پسیجی ہوئی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •