کشمیر: قرارداد، وعدے اور خواب کی شکست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو پاکستان بننے کے فوراً بعد قائد اعظم کے حکم کی تعمیل میں قائد کے معتمد ساتھی اور ممتاز قانون دان سر محمد ظفراللہ خان اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی سربراہی کرچکے تھے لیکن انہوں نے قائد کی خواہش پر وزیر خارجہ کا حلف 25 دسمبر 1947ء کو اٹھایا۔ اس وقت تک نوزائیدہ ریاست پاکستان میں وزیرخارجہ کا تقرر نہیں کیا گیا تھا اور یہ قلمدان بہت سے دوسرے محکموں کی طرح وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے پاس تھا۔

 متحدہ ہندوستان میں پھیلی 564 ریاستوں کے دونوں ممالک میں ضم ہونے کے حوالے سے انڈیا کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا بظاہر موقف یہی تھا کہ ایسی ریاستیں جہاں والئی ریاست اوررعایا کی اکثریت کا مذہب مختلف ہو وہاں استصواب رائے کروایا جائے۔

کشمیر میں اکثریت کی مرضی کے خلاف اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے الحاق کا علان کردیا۔ جس پر پاکستان کی جانب سے قبائلی لشکر کشمیر گئے۔ہندوستان نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں اور یوں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ (مستند تاریخی شواہد کے مطابق قبائلی لشکر 22 اکتوبر 1947 کو کشمیر میں داخل ہوا۔ آزاد کشمیر حکومت کے قیام کا اعلان 24 اکتوبر کو ہوا، مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کا اعلان 27 اکتوبر 1947 کو کیا۔ تاریخی طور پر آصف منہاس صاحب کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ قبائلی لشکر الحاق کے ردعمل میں کشمیر پر حملہ آور ہوا۔ اس ضمن میں میجر جنرل اکبر خان سمیت متعدد براہ راست شریک عسکری کرداروں کی یادداشتوں سے استفادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ مدیر)

حلف برداری کی تقریب میں ہی سر ظفراللہ خان نے قائد سے عرض کی کہ ان کے علم میں آیا ہے کہ انڈیا کشمیر کا قضیہ اقوام متحدہ میں لے جا رہا ہے۔ جنوری 1948ء میں ہندوستان نے یہ معاملہ یو این او کی سلامتی کونسل میں پیش کردیا۔ افراتفری اور تیاری کے بغیر پاکستان کی طرف سے فوری طور پر وزیر خارجہ کی سربراہی میں ایک وفد نیویارک پہنچا جس میں چوہدری محمد علی، ایڈوکیٹ جنرل سید محمد وسیم اور کرنل مجید ملک شامل تھے۔ دوسری طرف ہندوستانی وفد کی قیادت کشمیر کے ایک سابق وزیراعظم دیوان بہادر سر گوپالا سوامی آئنگر (Gopalaswami Ayyangar)  نے کی۔ (یہی آئنگر صاحب آرٹیکل 370 کے خالق بھی تھے، جسے حال ہی میں نریندرا مودی کی حکومت نے کالعدم قرار دے کر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے)۔

 15 جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کے معاملہ زیر بحث لایا گیا۔ ہندوستان کا موقف تھا کہ کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے بلاجبروکراہ اس کا الحاق ہمارے ساتھ کیا ہے۔ پاکستان قبائلیوں کی سپورٹ کر کے اور انہیں کشمیر میں داخل کر کے وہاں کے امن کوتباہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔پاکستانی فوج بھی قبائلیوں کے ساتھ کشمیر میں داخل ہو کر ان کی مدد کررہی ہے۔ یہ تقریباً اسی طرح کا موقف تھا جو بعد میں کارگل کی جنگ میں بھی ہندوستان کی طرف سے اختیار کیا گیا تھا۔ (یہاں محترم آصف منہاس بظاہر کارگل پر پاکستان کے سرکاری موقف کی تائید کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کارگل کے قضیے میں واقعی کشمیری مجاہدین شریک تھے اور باقاعدہ فوج کو کوئی دخل نہیں تھا تو دو نشان ہائے حیدر سمیت بہادری کے درجنوں فوجی اعزازات کسے عطا کئے گئے؟ پاکستان کے سرکاری موقف سے قربت کی شہرت رکھنے والی تجزیہ کار نسیم زہرہ کی کتاب حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ محترم آصف منہاس اس پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔)۔ ہندوستان نے اقوام عالم کو یقین دہانی کرائی کہ اگر پاکستانی فوج اور قبائلی کشمیر سے نکل گئے اور امن قائم ہوگیا تو رائے عامہ کے مطابق الحاق کا فیصلہ کیا جائے گا۔

 ہندوستان سیکیورٹی کونسل سے صرف یہ چاہتا تھا کہ پاکستان قبائلیوں کو روکے اور کشمیر میں مداخلت بند کردے جبکہ پاکستان سیکیورٹی کونسل سے فوری استصواب رائے کی قرارداد منظور کرانا چاہتا تھا۔ سر ظفراللہ خان نے باوجود پوری تیاری نہ ہونے کے، جس لیاقت کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا زیادہ تر ممالک پاکستانی موقف کی تائید میں آکھڑے ہوئے۔ 20 جنوری تک 11 میں سے 9 ممالک چین، برطانیہ، فرانس، امریکہ،ارجنٹائن، بیلجیم، کینیڈا، کولمبیا اور شام قراداد کے حق میں تھے۔دو ممبران روس اور یوکرائن غیرجانبدار رہے۔ یہ ”سیکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر39“ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ صورتحال کو بھانپتے ہوئے ہندوستانی وفد نے اپنی حکومت سے مشورہ کرنے واپس دہلی جانے کے لئے اجلاس موخر کروا لیا۔

اس دوران ہندوستان کی طرف سے برطانوی وزیراعظم اٹیلی پر مختلف ذرائع سے دباؤ ڈالا گیا اور انہوں نے اپنے ہی وزیر جو اقوام متحدہ میں پاکستانی موقف کی حمایت کررہے تھے،کے برخلاف موقف اختیار کیا۔ چنانچہ ایک نئی قرارداد منظوری کے لئے پیش کی گئی جوپہلی قرارداد سے نسبتاً کمزور تھی۔ وزیراعظم ایٹلی سائمن کمیشن کے رکن بھی رہ چکے تھے اور پاکستان کے وجود کے ہی خلاف تھے۔ (لیبر وزیر اعظم وزیراعظم ایٹلی کا قیام پاکستان سے مخاصمت رکھنا ایک انکشاف ہے۔ 18 جولائی 1947 کو برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کا قانون منظور ہوا تو ایٹلی برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ مدیر)  یہ قرارداد نمبر47 کہلاتی ہے جو کہ 21 اپریل کو منظور ہوئی۔اس قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پانچ رکنی کمیشن قائم کیا گیا جسے عرف عام میں کشمیر کمشن کا نام دیا گیا۔

اس قرارداد میں بھی کمشن کا تقرر پاکستان کے ایک موقف کی کامیابی تھی کیونکہ انڈیا چاہ رہا تھا کہ سلامتی کونسل صرف لڑائی بند کرا دے۔ انڈیا کی طرف سے فوجی کاروائی میں تیزی اور حالات کے پیش نظر سر ظفراللہ خان نے وہیں سے وزیراعظم لیاقت علی خان کو پیغام بھجوایا کہ نیویارک میں فیصلہ حسب منشا نہیں ہو سکا اور یہ فیصلہ کشمیر میں ہی ہو گا چنانچہ پاکستان کو اپنی باقاعدہ فوج کشمیر میں اتار دینی چاہیئے۔اس طرح اپریل کے اوآخر میں کشمیر کے محاذ پر باقاعدہ جنگ چھڑ گئی۔ (ابھی اس پر تاریخ کا فیصلہ آنا باقی ہے کہ پاکستان کا کشمیر میں باقاعدہ افواج اتارنا درست فیصلہ تھا یا غلط۔ مدیر)

اقوام متحدہ کی طرف سے قائم کردہ کمشن خطے میں آتے اور مختلف تجاویز پیش کرتے رہے۔ پاکستان کی بعض قوتوں کے قصور اپنی جگہ پر مسلم ہیں۔ خود غرضی کا عنصر اس طرف بھی موجود رہا، لیکن انڈیا کی طرف سے ان معاملات کو استصواب رائے کی طرف نہ آنے دیا گیا۔ وجہ ظاہر تھی کہ اگر آزادانہ استصواب رائے ہوگیا تو بہرحال جموں و کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں رہ سکے گا۔ یواین او کی بھی کمزوری رہی، عالمی طاقتوں کے بھی مفاد میں رہا اور انڈیا پاکستان کی ناک کا بھی معاملہ رہا کہ یہ مسئلہ سلگتا رہے اورواحد منصفانہ حل یعنی کشمیریوں کی آزادانہ رائے تک نہ پہنچ پائے۔

سردار پٹیل نے نہرو کی موجودگی میں لیاقت علی خان کو حیدر آباد دکن کے بدلے کشمیر دینے کی بات کی لیکن شاید ہماری توقعات اس سے کچھ زیادہ تھیں۔ (سردار پٹیل کی اس پیشکش کی تصدیق سردار شوکت حیات سمیت متعدد رہنماوں نے کر رکھی ہے۔ محترم آصف منہاس نے اس ضمن میں پاکستان کی “خواہشات” کی صراحت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ مدیر) سیاست، بین الاقوامی تعلقات اور چال بازی میں ہندوستان، پاکستان سے کل بھی آگے تھا، آج بھی ہے۔ انہی کھیلوں کو دیکھ کرکل شیخ عبد اللہ نے کہا تھا کہ ہندوستان پر بھروسہ غلطی تھی آج یہی بات محبوبہ مفتی کہہ رہی ہیں۔ لیکن عام کشمیری کل بھی پابند سلاسل تھا، آج بھی کرفیو زدہ کشمیر میں بارود کی بو سونگھنے پر مجبور ہے۔ وزیراعظم اٹیلی سے لے کر پنڈت جواہر لال نہرو،کرشنا مینن سے لے کر نریندرا مودی تک اور ایوب خان سے لے کر مشرف تک ایک لمبی داستان ہے جو ظلم کی طویل رات بن کر تاریکی میں اضافہ کرتی رہی ہے۔کبھی کہیں واجپائی یا نوازشریف اور پھر مشرف کی شکل میں امید دکھائی دی تو وہ سراب نکلا۔ ڈل جیل کسی کشمیری کے اٹوٹ انگ یا شہ رگ سے نکلے خون سے سرخ ہوتی رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •