ہر ٹٹ پونجیا سینئر صحافی اورہر کن ٹٹا استاد


آج کل صحافت کے میدان میں شاید ہی کوئی صحافی ہو۔ہر ایرا غیرا نتھو خیرا ہر ٹٹ پونجیا سینئر صحافی ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ بی \"muhammadبی سی اردو بھی گدھے اور گھوڑے میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔ صحافت کے لیجنڈ جناب ضیاالدین صاحب سے بات کریگا تو ’سینئرصحافی ‘ کہہ کر تعارف کروائے گا۔ کل کے لمڈے (کوئی بھی ٹی وی ینکر سمجھ لیں) سے رائے لے گا تو وہ بھی سینئر صحافی!سوچتا ہو کہ اب کی بار نئے وزِٹنگ کارڈ چھپواﺅں تو \’journalist\’ کے بجائے \’junior journalist\’کی اصطلاح استعمال کرو۔ انشااللہ ایسا ہی کرونگا!

بالکل اسی طرح کلاسیکل موسیقی کے میدان میں بھی ہر بے سرا بے تالہ استاد یا پنڈت بن گیا ہے۔ کچھ سچے واقعات آنکھوں دیکھے ملاحظہ فرمائیے۔

حال ہی میں یو ٹیوب پر اپنے دوست استاد شاہد پرویز کے بیٹے شاکر شاہد پرویز کے ستار کی ویڈیو دیکھی۔ شاکر بہت اچھا بجاتا ہے اور ابھی بہت آگے جانا ہے۔ پر یہ نوٹ کر کے افسوس ہو ا کہ شاکر اپنے آپ کو اب ’استاد‘ لکھتا ہے۔ یو ٹیوب پر تو ’استاد شاکر شاہد پرویز‘ ہی لکھا تھا۔ ہم نے فوراً ایک ای میل لکھی شاکر کو اور کاپی کیا شاہد بھائی کو کہ ایسا نہ کرو اور اگر کرنے پر بضد ہو تو سمجھ لو تمہارے ستار کے زوال کی شروعات ہو چکی ہے۔مگر جواب نہ آیا۔ نہ شاکر کا نہ ہی شاہد بھائی کا۔

 ذرا سوچئے ابھی تو باپ زندہ ہے اور عروج پر ہے اور کہتا ہے کہ میں موسیقی کا شاگرد ہوں اور میرے سیکھنے کا عمل جاری ہے۔ اور واقعی شاہد بھائی کا ستار مسلسل نمو پا رہا ہے۔ باپ کو دنیا کہتی ہے استاد۔ اب اگر باپ کو سٹیج پر متعارف کروانا ہو تو کیا ایسا کہا جائے کہ: ’اب تشریف لاتے ہیں استادوں کے استاد جناب شاہد پرویز!‘ اگر بیٹا استاد تو باپ پھر استادوں کا استاد۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے استاد بننے کی۔ اور ستار بھی کیاہے صرف باپ کی کاپی ہے۔ ظاہر ہے کہ اچھی کاپی ہے مگر نقل اور اصل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ہاں استاد کہلوا سکتا تھا شاکر اگر باپ کے کام سے ہٹ کر کچھ نیا کرتا جسے اساتذہ اور پنڈت لوگ مانتے۔ اسکی بہترین مثال ذاکر بھائی (استاد ذاکر حسین) کی ہے۔ ذاکر بھائی تو بیس بچیس برس میں ہی استاد بن گئے تھے۔ گو کہ انہوں نے سختی سے آرگنائزرز کو منع کر رکھا تھا کہ انکے نام کیساتھ استاد نہ لگایا جائے۔ مگر ذاکر بھائی کو پنڈت روی شنکر کنسرٹ میں پدما شری استاد ذاکر حسین کہہ کر متعارف کرواتے تھے۔ یہ ہوئی نہ بات! خود ہی اپنے آپ کو استاد کے درجے پر فائز کر لینا نا اہلی کا بہترین ثبوت ہے۔

خان صاحب ولایت خان کے بیٹے شجاعت خان اور ہداےت خان خود شناسی کے معاملے میں شاکر سے بھی دو ہاتھ آگ نکلے۔ ےقین ما نئے دونوں شاکر کے آس پاس کا بھی نہیں بجاتے مگر دونوں کے دونوں اپنے آپ کو استاد کہلواتے ہیں۔ شجاعت تو اپنے آپ کوآجکل legendary maestroکہہ کر متعارف کروا رہا ہے۔ دو آنے کا ستار نہیں بجتا۔ بجاتے بجاتے اپنی بھونڈی آواز میں گانے لگ جاتا ہے۔ یار گانا ہی سیکھ لو! سوال یہ ہے کہ اگر شجاعتlegendary maestro ہے تو پھر استاد ولایت خان کیا تھے۔ اور پھر شاہد پرویز کیا ہیں؟ اگر شجاعت کو legendary maestro مان لیا تو پھر شاہد پرویز کو تو ستار کا خدا ماننا پڑے گا!

ایک طبلیا ہے جسکا نام ہے وجے گھاٹے۔ 1997میں پنڈت جسراج کے ساتھ اسلام آباد آیا تھا۔ اب پنڈت جی کوئی لے کار نہیں۔ سیدھا سیدھا ٹھیکہ لگواتے ہیں۔ گھاٹے کی تہائی میں ہی گھاٹا ہو رہا تھا۔ تینوں پلے برابر نہیں آئے۔ میریٹ کے ہال میں پاکستانی مراثی بھی موجود تھے۔ ہمارے مراثی الحمد للہ کمال کے چیزہ باز ہیں۔ زبردست داد دی گھاٹے کی بے تال تہائی پر۔ سمجھ گیا کہ چیزہ لیا ہے۔ مسکر ا دیا۔ اب اپنے نام کیساتھ پنڈت لکھتا ہے۔ گھاٹے کے استاد جناب پنڈت سریش تلوالکر ہیں۔ کیا جن آدمی ہے طبلے پر۔ دائیں ہاتھ پر ایک لے رکھتے ہیں۔ بائیں ہاتھ پر دوسری اور منہ سے تیسری لے پڑھتے ہیں۔ دو شاگرد علیحدہ علیحدہ لے پر گنتی رکھتے ہیں اور کیا کمال سے سم پر آتے ہیں۔ تینوں مختلف تالیں اور لے آپس میں ایک مقام پر ملتی ہیں۔ گننے والا پاگل ہو جائے! اب اتنا بڑا آرٹسٹ بھی پنڈت اور وجے گھاٹے بھی پنڈت! دل ایسا کیسے مان سکتا ہے؟ مزے کی بات ہے کہ گھاٹے کو پدما شری بھی مل گیا۔ پدما شری اسکے استاد بھی ہیں۔ لگتا ہے انڈیا کا پدما شری ہمارے تمغہ حسنِ کارکردگی کی طرح ہے۔ کسی بھی گدھے کو مل سکتا ہے۔ شایدےہی وجہ تھی کہ استاد ولایت خان صاحب نے پدما شری، پدما بھوشن اور بدما وبھوشن لینے سے انکار کر دیا یہ کہہ کر کہ کمیٹی کے ممبر انکی ستار کی قابلیت جانچنے کے اہل نہیں۔

دلی میں ایک عام سے طبلے والا ہے۔ نام ہے اکرم خان۔ 2006میں کراچی آیا تھا استاد شاہد پرویز کیساتھ۔ ریکارڈنگ موجود ہے۔ تہائی کے پلے ہی برابر نہیں آئے۔ پورا ایک پلہ غائب! کیا تہائی دو پلوں کی ہوتی ہے؟ شاہد بھائی عیب چھپانے کے لئے دو پلوں کے بعد ہی سم پر آ گئے تا کہ سننے والوں کو ایسا لگے کہ سب ٹھیک چل رہا ہے۔ اکرم خان آج کل ’استاد اکرم خان‘ ہیں!

سوال یہ ہے کہ ابھی تو ذاکر حسین، آنندو چٹر جی، سواپن چوہدری، کمار بوس اور سریش تلوالکر، شاہد پرویز، بدھے دتیا مکرجی جیسے نابغہ روزگار نہ صرف زندہ ہیں بلکہ اپنے فن کے عروج پر ہیں۔ جب یہ لوگ اپنے آپکو موسیقی کا بھگت مانتے ہیں تو کس منہ سے گھاٹے، اکرم، شاکر، شجاعت یا ہدائت اپنے آپکو استاد یا لیجنڈ کہلوانے پر مضر ہیں؟ ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ ایک سچے آرٹسٹ کو اپنے فن کو منوانے کیلئے استاد، پنڈت یا لیجنڈ جیسے الفاظ کی بیساکھی کی ضرورت نہیں۔شاہد پرویز ستار میں خود اک گھرانہ ہے۔ ذاکر بھائی طبلے میں خود ایک معجزہ ہیں۔ انہیں ضرورت نہیں کہ اپنے آپ کو استاد کہلوائیں۔ایسا ہلکا کام صرف چھوٹے فنکار ہی کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک تو ذاکر بھائی یا شاہد بھائی کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا اگر اپنے نام کے آگے tabla or sitar maestro لکھے تو یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہے۔ اس بات کو موسیقی سمجھنے والے اور سننے والے سچے لوگ ہر گز اچھا نہیں سمجھیں گے۔

دوسرے علوم میں آپ اپنے آپ کو ڈاکٹر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہی لکھ سکھتے ہیں۔ مگر صحافت اور موسیقی میں کوئی معیار نہیں۔ جو بھی چاھے اپنے آپ کو کسی بھی لمحے سینئر صحافی، استاد یا پنڈت کے اعزاز سے نواز سکتا ہے شاکر، شجاعت، ہدایت، گھاٹے یااکرم کی طرح۔ ویسے یہ لفظ ’استاد‘ بھی اپنے اندر عظیم وسعت رکھتا ہے۔ اگر کوئی ہمیں دھوکا دے جائے تو ہم کہتے ہیں : ’ہوشیار رہنا، استاد آدمی ہے!‘ موٹر مکینک کے پاس جب ہم جاتے ہیں تو یہ ہی کہتے ہیں: ’یار استاد تو کام ٹھیک نہیں کرتا پھر خراب ہو گئی ہے!‘جیب کترے تو اپنے گرو کو کہتے ہی استاد ہیں۔

 

Facebook Comments HS

محمد شہزاد

شہزاد اسلام آباد میں مقیم لکھاری ہیں۔ ان سے facebook.com/writershehzad پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

muhammad-shahzad has 41 posts and counting.See all posts by muhammad-shahzad

One thought on “ہر ٹٹ پونجیا سینئر صحافی اورہر کن ٹٹا استاد

  • 23/09/2016 at 3:01 صبح
    Permalink

    آپ آ ج کے صحافیوں سے ناراض ھیں ایسا رویہ ھمارے نامور صحافی بھی کر چکے ھیں لیکن اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ھیں لیکن اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں. ملاحظہ فرمائیے

    I.A.REHMAN
    45 سال بعد حقوق انسانی کے لے سچ بول دیں

    ” ادھر هم ادھر تم ” ایک مجرمانہ خونی اور پاکستان دشمن جھوٹی اخباری شپ سرخی جو پیر 15 مارچ 1971 کو روزنامہ آزاد لاہور میں خاص مقصد کے تحت شائع کی گئی.
    جهوٹ ٹابت هونے باوجود روزنامہ آزاد کے ایڈیٹوریل بوزڈ طرف سے آج تک اس کی تردید نہیں کی گئی نہ ہی غیر مشروط معافی مانگی گئی هے .

    میں نے دوستوں کے آسرار پر اپنی گزشتہ فیس بک پوسٹ میں "آ زاد” میں چهپنے والی جهوٹی شہ سرخی
    ” ادھر هم ادھر تم” کی خبر کا مکمل متن تصویری صورت میں فیس بک پر پوسٹ کیاتها تاکہ ابہام دور ھو جائے. خبر کا متن بآسانی پڑھا جاسکتا ھے. متن میں ” ادھرتم ادھرھم ” کا کوئی ذکر نہیں.
    میں نے روزنامہ آزاد کے صفحہ اول کی واضع تصاویر مختلف زاویوں سےبهی پوسٹ کی ہیں
    میں 20 سالوں سے پاکستان سے ہزاروں میل دور سویڈن میں رہ رہا ھوں.

    سچائی کی بلندی اور تاریخ کو درست اور تاریخدانوں کو حقیقت بتا نے کے لئے اگر میں یہ کچھ کر سکتا ھوں . پاکستان کے صحافی تو سب کچھ کر سکتے ہیں.

    ھم سب کو تسلیم کرنا ھو گا کہ
    ” ادھر هم ادھر تم ” کی سرخی ایک بدترین صحافتی بد دیانتی ھے .اس سرخی کے نتیجے میں ہزارون معصوم اور بے گناہوں کا خون ناحق ھوا. اور دشمنوں نے اس خونی ،جهوٹی اور Terrorist شہ سرخی کا ہتھیار استعمال کر کے بھٹو کو تختہ دار پر پہنچا دیا. جبکہ بنگلہ دیش میں آج بھی تختہ دار سجا ھوا ھے خون ناحق کا سلسلہ جاری ھے

    روزنامہ آزاد کے ایڈیٹوریل بوزڈ کےباقی اراکین ملک عدم کو سدھار گئے.لیکن
    آئی اے رحمان تخت لاہور میں رونق افروز ہیں اور حیات ہیں.

    یہ کیا خوب ھو گا کہ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پلیٹ فارم سے سچائی کا بول بالا کریں عوام سے دو ٹوک غیر مشروط معافی ما نگیں اور اپنی عاقبت سنوار لیں.
    موجودہ حالات کے پس منظر میں یہ قدم الطاف حسین کی غلطی سے ہزار گناہ بڑا جرم ھے.
    احسان اللہ خان سویڈن سے 5 ستمبر 2016
    ممبر رپورٹنگ ٹیم براے جلسہ مینار پاکستان لاہور 14.03.1971
    https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=10154490980027726&id=831317725

Comments are closed.