خواجہ سرا، کروموسوم کا کھیل اور جنسی دفعات


\"naseerہماری ارتقا پذیر، بظاہر چادر چاردیواری کی تقدیس میں لپٹی مگر درحقیقت جنس زدہ، معاشرت میں خواجہ سراؤں کے حوالہ سے جرم و سزا اور قانونی موشگافیوں پر آئے دن سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔  خواجہ سراؤں کے ساتھ ریپ کے ایک حالیہ واقعہ کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ریپ کرنے والوں پر کون سی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا جائے؟ زنا بالجبر کا نشانہ بننے والی مخلوق کو مرد سمجھا جائے یا عورت؟ اگرچہ اس تنازعہ یا مخمصہ کے سائنسی اور تذکیر و تانیث سے زیادہ  معاشرتی اور ریاستی پہلو اہم ہیں کہ ایک جرم تو سرزد ہوا ہے اور وہ عورت ہے یا مرد ایک انسان زیادتی کا شکار ہوا ہے، ایک گھناؤنے جرم کا نشانہ بنا ہے اور جرم کرنے والا بہرحال سزا کا مستحق ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹروں کا اور پولیس کا اور عام لوگوں کا طرزِ عمل مبنی بر جہالت اور قابلِ مذمت ہے۔ خاص طور پر ڈاکٹروں کا رویہ زیادہ افسوس ناک ہے کہ وہ ایک انسان کے خواجہ سرا ہونے کے جینیاتی، طبی اور نفسیاتی عوامل سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ خواجہ سراؤں پر سماجی ظلم و تذلیل کی داستان طویل ہے اور ایک ٹرانس جینڈر (بین صنفی) بچے کی پیدائش ہی سے شروع ہو جاتی ہے۔ والدین ایسے بچوں کو دیگر نارمل بچوں کی طرح پروان چڑھانے اور تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کے اس عیب کو چھپاتے ہیں۔ حالانکہ اگر شروع ہی سے ایسے بچوں کے طبی اور نفسیاتی علاج کی طرف توجہ مرکوز کی جائے تو وہ ایک مکمل مرد نہ سہی ایک نارمل صحت مند انسان کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ والدین کی عدم توجہی، حقائق سے چشم پوشی، شرمندگی اور مجرمانہ غفلت، بہن بھائیوں اور دوستوں \"transg01\"کے نامناسب طرزِ عمل اور سماجی سطح پر ناقبولیت سے مایوس ہو کر بالآخر یہ خواجہ سراؤں کے گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور اپنے ہم جنسوں میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔

ایک خواجہ سرا کے ساتھ جنسی زیادتی کی صورت میں کون سی دفعہ لگانی چاہیئے اس سوال کے جواب سے پہلے آئیے انسانی ڈی این اے پر ایک نظر ڈالی جائے۔ ایک مکمل انسان کے ہر سیل میں 46 کروموسومز یعنی کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں۔ کروموسوم دو مالیکیولز ڈی این اے اور پروٹین سے مل کر بنتا ہے۔ 22 جوڑے انسانی شخصیت کے کریکٹر سے متعلق ہوتے ہیں مثلاً قد، ظاہری بناوٹ، رنگ، ذہانت وغیرہ جبکہ ایک جوڑا انسان کی سیکس متعین کرتا ہے جو فیمیل میں ڈبل ایکس اور میل میں ایکس وائی اور ٹرانس جینڈر انسان یعنی خواجہ سرا میں ایکس ایکس وائی ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بعض پودوں پر کچھ پھول صرف میل ہوتے ہیں، کچھ صرف فیمیل اور کچھ پھولوں میں دونوں خصوصیات ہوتی ہیں۔ اسی طرح کچھ قدیم ابتدائی دور کے جانور یا ایسے جانور بالخصوص آبی جن میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی، ان میں دونوں صفات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر جونک، پیرٹ فش، کیچوے وغیرہ۔ کچھ سمندری جانور پہلے چند سال میل رہتے ہیں پھر فیمیل بن جاتے ہیں مثلاً سٹار فش۔

ٹرانس جینڈر بچے میں کروموسوم کے 22 \"Inجوڑے جمع ایکس ایکس وائی کروموسوم ہوتے ہیں (44 آٹو سوم جمع 3 سیکس کروموسوم ٹوٹل 47) اور ایک نارمل بچے میں 22 جمع ایکس ایکس یا 22 جمع ایکس وائی کروموسوم ہوتے ہیں (44 آٹو سوم جمع دو سیکس کروموسوم ٹوٹل 46)۔ یعنی ٹرانس جینڈر (میانِ جنس) بچے مکمل طور پر عام انسانوں  جیسے ہی ہوتے ہیں، انہی کی طرح سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اور زندگی جینے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن سیکس ہارمون دونوں طرح کے ہوتے ہیں۔ وائی کروموسوم کی وجہ سے ان میں میل کریکٹر آ جاتے ہیں جیسے جسمانی ساخت، داڑھی اور آواز کا بھاری پن اور ایکس ایکس کروموسوم یعنی ایک اضافی فیمیل ڈی این اے کی وجہ سے فیمیل ہارمونز زیادہ بنتے ہیں۔ چنانچہ ان میں عورتوں کے کریکٹر آ جاتے ہیں اور وہ مردانہ ساخت رکھنے کے باوجود عورتوں کی طرح سوچتے، بنتے سنورتے ہیں، ان کا رہن سہن عورتوں جیسا ہو جاتا ہے۔ میک اپ سے لے کر کپڑے پہننے تک وہ عورت ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے انہیں ٹرانس وومن کہنا بظاہر درست لگتا ہے۔ جینیاتی سائنس دان کلائن فیلٹر جس نے یہ  جینیاتی بے ترتیبی یا بے قاعدہ تقسیم \"trasng345\"دریافت کی تھی اور جس کے نام پر اس ڈِس آرڈر کو کلائن فلٹر سنڈروم کہا جاتا ہے، کے مطابق 47 کروموسوم (44 آٹو سوم جمع 3 سیکس کروموسوم) کے حامل ایسے اشخاص  میں  ایکس وائی کی بجائے ایک فالتو ایکس کروموسوم آ جانے یعنی ایکس ایکس وائی کروموسومز کی وجہ سے ان کے میل کریکٹر متاثر ہوتے ہیں اور یہ زنانہ مرد بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی اور قانونی طور پر ان کے عورت یا مرد ہونے کے بارے میں الجھاؤ اور تذبذب پایا جاتا ہے۔ تاہم ان کا عام نارمل انسانوں کی طرح ایک انسان، ایک مکمل جیتی جاگتی زندگی، ایک جذباتی ذی روح ہونے میں کوئی ابہام نہیں۔

اس سنڈروم کی وجوہات کیا ہیں اور کم و بیش ہر پانچ سو انسانوں میں سے ایک ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی تفصیل میں جانا یہاں ہمارا مقصود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ قدرت کے اس کھیل تماشے میں سب کچھ ہمارے جیسا صرف ایک زاہد کروموسوم کے حامل ان \”زنانہ مردوں\” یا \”مردانہ عورتوں\” کا کیا قصور؟ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے تو ایسے پیدا نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ ان کی مرضی کے خلاف ہونے والے جنسی فعل پر مقدمات قائم کرنے میں تامل کیوں؟ اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں، جبری استحصال اور دیگر جرائم کے خلاف اگر وہ کوئی \"Inشکایت درج کرانا چاہیں تو اس پر پولیس اور ڈاکٹروں سے لے کر معاشرے کے معززین تک ان کی ہنسی کیوں اڑاتے ہیں؟ بیمار یا زخمی ہونے کی صورت میں اسپتالوں میں ان کے لیے زنانہ مردانہ وارڈ کے جھگڑے کیوں پڑ جاتے ہیں؟ اور تو اور مرنے پر بھی انہیں معاف نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ وہ سب جو پیدائش سے موت تک ہم اپنے لیے چاہتے ہیں ان کا دل بھی وہی چاہتا ہے۔ دفعہ کوئی بھی ہو، 375 ہو یا  377 قانون اور انصاف تک رسائی ان کا بھی بنیادی حق ہے۔ وہ بھی ہم سب کی طرح انسان ہیں، ریاست کے شہری ہیں اور کسی نہ کسی والدین کی اولاد ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ نسوانی ہم جنسیت، چپٹی، طبق زنی میں زور زبردستی کے واقعات پر کون سی دفعات لاگو ہوتی ہیں؟ کیا ایسے واقعات و حقائق کو بھی چھپایا یا ہنسی مذاق میں اڑایا جاتا رہے گا؟

Facebook Comments HS

One thought on “خواجہ سرا، کروموسوم کا کھیل اور جنسی دفعات

  • 23/09/2016 at 8:26 شام
    Permalink

    بہت ھی اھم اور نازک موضوع کو زیر بحث رکھا گیا ھے۔
    اس طرح کی باقاعدہ کوئی تحریک ھونی چاھیے جس کے زریعہ عام خلقِ خدا کو فہم وادراک مہیا جائے اللہ کرے کہ ھمارے معاشرے میں اتنا شعور تو جاگ ھی جائے کہ بحیثیت انسان ھر کوئی زندہ رہ سکے۔

Comments are closed.