غلام رسول مہر بنام عاشق حسین بٹالوی


Lord and Lady Mountbatten visiting the riot affected areas in Lahore – July 1947.

14۔ فسادات پر بحث کا معاملہ بہت نازک ہے اور بے حد طویل ہے۔ بلاشبہ سکھ فسادات کے بعد تقسیم پر آمادہ ہو گئے مگر اس عزم کے ساتھ کہ تقسیم کے بعد مسلمانوں کو مشرقی پنجاب سے نکالیں گے اور سکھوں کو مغربی پنجاب سے لا کر ایک صوبہ بنائیں گے۔ لیکن ہمارے کوتاہ نظر سیاست دان، جن کے نام میں بتا سکتا ہوں۔ مسلسل اس وہم میں مبتلا رہے کہ سکھوں کو باتوں سے رام کیا جا سکتا ہے۔ ’ڈان‘ میں ایسے بیانات چھپتے رہے کہ آبادیوں کا مبادلہ ضرور ہو لیکن صرف ہندوؤں کے ساتھ نہ کہ سکھوں کے ساتھ۔ جیسا کہ نواب ممدوٹ نے کہا تھا۔

15۔ اگر 1944 ء میں خضر حیات یونینسٹ پارٹی توڑ دیتا تو پنجاب کی وزارت اسی وقت ختم ہو جاتی اور نئی وزارت نہ بن سکتی۔ جیسا کہ 1947 ءمیں لیگ کی غالب اکثریت کے باوجود نہ بن سکی۔ اس لیے کہ 1935 ء کے قانون کے مطابق اقلیتوں کو ساتھ لینا ضروری تھا اور واضح رہے کہ پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت ایسی نہ تھی جیسی مثلاً یو پی، سی پی، بہار، بمبئی، مدراس وغیرہ میں ہندوؤں کی تھی۔ اگر لیگ دو چار سکھوں اور ہندوؤں کو ساتھ ملا کر وزارت بناتی تو کشمکش اسی وقت شروع ہو جاتی۔ وہ زمانہ جنگ کا تھا اور انگریز کسی کشمکش کے روادار نہ تھے۔ وہ دفعہ 192 الف لگا کر حکومت خود سنبھال لیتے اور اس کا جو نتیجہ نکلتا وہ مسلمانوں کے لیے بحیثیت مجموعی میرے نزدیک مضر ہوتا۔

16۔ یہ صحیح نہیں کہ مسلمانوں اور سکھوں کا بگاڑ خضر حیات کے وزارت بنانے سے قائم ہوا۔ اس کے اسباب پہلے سے موجود تھے البتہ صوبے کے اندرونی معاملات میں تعاون کی صورت موجود تھی۔ اس سے سب نے فائدہ اٹھایا۔ 1946 ء میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ لیگ کی حکومت بن جاتی لیکن اس طرح کہ مرکزی جماعتیں صوبے کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دیتیں اور اپنی سرگرمیاں آل انڈیا مسائل دستور کے تصفیے تک محدود رکھتیں۔ مسلمان پاکستان کی حمایت میں آزاد رہتے۔ سکھ اور ہندو اس کی مخالفت کے مجاز ہوتے۔ اس پر لیگ راضی نہ ہوئی اور معاملہ ختم ہو گیا۔

17۔ بلاشبہ تارا سنگھ کی حرکت نے جلتی آگ پر تیل کا کام دیا۔ بارود میں چنگاری ڈال دی لیکن اسباب اشتعال پہلے سے موجود تھے۔

18۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ پاکستان حقوق مسلمان کے تحفظ کا ایک ذریعہ تھا اور تحفظ کا مقصد اس صورت میں پورا ہو سکتا تھا کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اپنے اندر سمیٹ سکتا۔ جو پاکستان بنا۔ اس نے پوری قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور دونوں حصے تقریباً برابر ہیں۔ اس موقع پر اصل سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے بحیثیت مجموعی ادھورا پاکستان مفید تھا یا وزارتی سکیم۔ لیکن پاکستان کو بجائے خود نصب العین قرار دے کر اس کی حیثیت و حدود کو کاملاً نظر انداز کر دیا گیا۔ میں اس نظریے کی صحت کا قائل نہیں۔

19۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ فسادات کا معاملہ بڑی تفصیل کا محتاج ہے اور ساری باتیں لکھی نہیں جا سکتیں۔ آپ نے بالواسطہ جن لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے میں ان کا وکیل نہیں لیکن بلاواسطہ کون ذمہ دار ہوا۔

20۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لیگ نے وزارتی سکیم مان لی تھی اور اس میں لیگ کے لیے انکار کے اسباب کانگرس نے پیدا کیے۔ پھر ’راست اقدام‘ (ڈائریکٹ ایکشن) کا مرحلہ پیش آیا اور فسادات کی آگ بھڑکی۔ اسے بھڑکانے کا ذمہ دار بڑے لیڈروں میں سے ارادتاً کوئی نہ تھا۔ لیکن چھوٹے لیڈر بڑے لیڈروں کے سامنے سب کچھ کرتے رہے مثلاً بہار میں، یو پی میں، پنجاب میں، بنگال میں تقسیم کے بعد جو فسادات ہوئے انہیں دونوں حکومتیں باآسانی روک سکتی تھیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ہر جگہ ہر شخص اپنے آ پ کو مواج سمندر کی لہروں میں تنکا بنا چکا تھا۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کے دلوں میں کیا تھا۔ میرا پختہ اعتقاد ہے کہ بڑے لیڈر ہمت، جرات اور احساس ذمہ داری سے کام لیتے تو فسادات رک جاتے۔ قتل و غارت کا طوفان تھم جاتا اور چند روز میں آبادیاں نئے حالات سے مطابقت پیدا کر لیتیں۔ یہ امر دونو ں ملکوں کے لیے بے حد مفید ہوتا لیکن اب؟ اب مرزا غالب کے قول کے مطابق:

آئندہ و گزشتہ تمنا و حسرت است،

یک کاشکے بود کہ بصد جا نوشتہ ایم

اس سلسلے میں اور بھی بہت سی باتیں کہی جا سکتی ہیں :۔

آں راز کہ در سینہ نہاں است نہ وعظ است

برادر تواں گفت بہ منبر نہ تواں گفت

میں آپ کے گرامی نامے کا جواب جلدی دینا چاہتا تھا لیکن یہاں کی مصروفیتوں نے دم نہ لینے دیا۔ پرسوں بعد دوپہر تہیہ کر کے بیٹھا۔ صرف ایک صفحہ لکھنے پایا تھا کہ آدمی آگئے اور خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ آج اتوار تھا (14 فروری) صبح سے یہی کام شروع کیا تھا۔ لیکن پانچ مرتبہ بیچ میں اٹھنا پڑا۔ اس پریشانی احوال میں جمعیت فکر معلوم۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ بعض چیزیں تشنہ ہیں۔ لیکن تشنگی کو تحریر کے ذریعے بجھانا ممکن نہیں۔ دعا کیجئے کہ خدا مجھے تین چار مہینے کے لیے وہاں آنے کی مہلت عطا کرے یا پھر آپ یہاں آ جائیں۔

میں خود اپنی کتاب جلد شروع کر دینا چاہتا ہوں۔ وہ تاریخ ہو گی اور اس کا آغاز 1901 ء سے ہو گا تاکہ اسلامی سیاست کے نشیب و فراز ذرا بہتر صورت میں واضح ہو جائیں اور ہر شخص پہ آشکارا ہو سکے کہ 1857 ء کے بعد ہم نے احیاء و نشاة ثانیہ کا سفر کن حالات میں شروع کیا تھا اور کن کن منازل سے گزرتے ہوئے کہاں پہنچے۔

خانہ نشینی میں تخفیف کا خیال آپ کو کیوں آیا؟ میں اپنے مخصوص افکار و نظریات کے ساتھ انزوا میں تخفیف پر کیوں کر آمادہ ہو سکتا ہوں۔ انسان نیک کاموں سے تعاون کر سکتا ہے۔ جن کاموں کو درست نہیں سمجھتا ان سے الگ رہتا ہے۔ میرے لیے خدا نے دوسری صورت مقرر کر دی ہے۔ اس پر نہ افسوس ہے اور نہ اس حالت کے بدلنے کا بظاہر کوئی امکان۔ ہاں بھائی، لاہور اگرچہ وہ نہ رہا جو کبھی تھا لیکن اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔

بایک جہاں کدورت باز ایں خرابہ جائیست

آپ اچھے ہیں۔ ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس کے نیک و بد سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

اگر بہ دل نہ خلد ہرچہ از نظر گزرد

زہے ردانی عمرے کہ در سفر گزرد

نظیری کہتا ہے

سفر گزیں کہ نہال اول از ملول شود

زمیں عزتبش آخر بہ از وطن باشد

لیکن نظیری ہی نے کہا ہے کہ

سیرایں دائرہ بدنیست ولے می ترسم

چشم از خویش بہ بندندچو پابکشاید

اگر موقع مل سکے تو عزیز جاوید اقبال سے خود ملاقات فرمائیے۔ اسے مختلف سیاسی امور کے متعلق تفصیلات مطلوب ہیں۔ آپ کی ملاقات اس کے لیے بے حد مفید ہو گی۔ موقع ملے تو پیغام بھیج کر یا خط لکھ کر پتہ منگا لیجیے۔ پمبروک کالج کیمبرج میں ہے۔ بھائی اعجاز اس کا پتہ جانتے ہیں۔ بھائی اعجاز اور تمام احباب کو میرا محبت بھرا سلام پہنچائیے۔

نیاز مند

(غلام رسول) مہر

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4