طلاق كے بڑھتے ہوٸے رحجان كی وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں طلاق کو ایک ٹیبو (Taboo) سمجھا جاتا ہے۔ اِس کے باوجود اِس کی شرح میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک وکیل صاحب سے اِس موضوع پر بات ہوئی تو ٱنہوں نے تصدیق کی کہ فیملی کورٹس میں طلاق کے کیسز میں غیر معمولی اِضافہ ہوا ہے۔ پوچھنے پر ٱنہوں نے وجوہات کچھ یوں بتائیں :

”شوہر مارتا ہے اور خرچا نہیں دیتا“
”بیوی کا الگ گھر کا مطالبہ ہے“
”حق مہر ادا نہیں کیا“

مزید ٱن کا کہنا تھا کہ زیادہ تر وکلاء فریقین کے درمیان مصالحت کی کوئی کوشش کیے بغیر فوراَ علیحدگی کرا دیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات (sociology) اور اسلامک سٹڈیز کے تحت بڑھتی ہوئی طلاق کی وجوہات جاننے کے لیے ایک تحقیق کرائی گئی۔ اِس تحقیق کے لیے پنجاب کے تین اضلاع کا انتخاب کیا گیا۔ اِس تحقیق کے مطابق ناخواندگی، مالی مسائل، بیروزگاری اور صبر کی کمی وہ عوامل ہیں جو سب سے زیادہ طلاق کی وجہ بنے۔ دوسرے نمبر پر غلط فہمیاں اور برداشت کی کمی اور تیسری بڑی وجہ جو طلاق کا باعث بنی وہ میاں بیوی کے درمیان اعتماد میں کمی تھی۔

اِس کے علاوہ اولاد کا نہ ہونا، اولادِ نرینہ کا نہ ہونا، ایکسٹرا میریٹل افیرز، عورت کا زیادہ تعلیم یافتہ ہونا، نفسیاتی عارضے اور مشتترکہ خاندانی نظام بھی طلاق کی وجوہات کے طور پر سامنے آئے۔

عدالتی حقائق اور سائنسی بنیادوں پر کی جانے والی اِس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑی وجہ تعلیم یا درست تعلیم کی کمی اور معاشی مسائل ہیں جو شادی کو طلاق کی نہج تک دکھیل دیتے ہیں۔

طلاق کے نتیجے میں صرف ایک تعلق ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک خاندان ختم ہو جاتا ہے۔ اگر بچے بھی ہیں تو سب سے زیادہ وہ اِس سے متاثر ہوتے ہیں۔

طلاق کو لے کر ہمارے یہاں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک وہ طبقہ ہے جو اِس کا سارا ملبہ عورت کے سر پر ڈالتا ہے۔ ٱن کا ماننا ہے کہ عورت ہر حال میں سمجھوتا کر کے گھر قائم رکھے۔ دوسرا طبقہ اِس بات پر زور دیتا ہے کہ عورت کسی بھی قسم کی نا انصافی برداشت کرنے کی بجائے طلاق کا حق استعمال کرے۔ اِس کے نتائج کیا ہوں گے اور کون کون اِس سے متاثر ہو گا اِس بارے میں سوچنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔

اِس رحجان میں کمی کیسے لائی جا سکتی ہے؟

ایک ایسا نصاب ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو نوجوان نسل کی اِس معاملے میں رہنمائی کر سکے۔ لڑکا اور لڑکی دونوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ شادی ایک ذمہ داری کا نام ہے جس کے نتیجے میں ایک خاندان تشکیل پاتا ہے اور پھر معاشرہ بنتا ہے۔

قرآن میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ لباس کا مقصد خوبصورتی بھی ہے اور پردہ بھی ہے۔ میاں بیوی نہ صرف ایک دوسرے کی عزت بڑھاتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے عیب بھی چھپاتے ہیں۔ یہ ذمہ داری دونوں فریقین پر لاگو ہوتی ہے۔ اگر آپ یہ بوجھ کسی ایک فریق پر لاد دیں گے یا یکسر اِسے ختم کرنے کی بات کریں گے تو نہ طلاق کا یہ سلسلہ کم ہو گا اور نہ ہی ہمارے پاس خوش خاندان ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •