آرٹیکل 35 اے اور کشمیر کی معاشی صورت حال کا جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے خاتمے کے بعدریاست جموں و کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی اور کشمیرایک غیر آئینی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بھارتی یونین کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔ یہ بات ہر صاحبِ عقل پرعیاں ہے کہ اس زبردستی کے الحاق کے لئے بھارتی مقتدر جماعت نے اپنے ہی آئین سے غداری کی۔ مودی نے پنڈت نہرو اور گاندھی جی کے نظریات کا انتم سنسکار کر دیا۔ اس غیر آئینی ترمیم میں جموں و کشمیر کو بھارت کی یونین میں شامل کرنے کی جو وجوہات پیش کی گئی ہیں وہ انتہائی نا قص اور ناکارہ گراؤنڈز پر تیار کی گئیں۔ اور اس سے بھی زیادہ خطرناک اور غیر سنجیدہ متبادل پیش کیے گئے۔

بھارتی وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں غیر مفید صحت عامہ، غربت میں اضافہ، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی اور سست معاشی ترقی جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے جواز پیش کیا اور آرٹیکل 35 اے ختم کرنے کے بعد جموں و کشمیر میں غیر علاقائی سرمایہ کاروں اور لینڈ مافیہ کو زمینیں خریدنے اور کاروبار کرنے کی اجازت دے دی۔ جس کی ممانعت آئینِ ہندوستان میں کی گئی تھی۔

امیت شاہ نے جو جواز پیش کیے اسے خود بھارتی سیاستدانوں، میڈیا، کالم نگاروں اور ماہرِ معاشیات نے رد کر دیا ہے۔ بھارتی اخبار دی ہندو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت اور آرٹیکل 35 اے کے باعث اس کی کارکردگی تمام بھارتی ملحقہ ریاستوں اور صوبوں سے بہتر ہے۔

اس کی وجہ 1948 میں وزیراعظم کشمیر شیخ عبداللہ کی سربراہی میں گئیں اصلاحات ہیں جن میں سب سے اہم لینڈ ریفارمز تھیں۔ ان اصلاحات نے بڑے بڑے جاگیرداروں کی کمر توڑ دی۔ اسی قانون کے ذریعے غیر کشمیریوں کو زمین فروخت کرنے پر پابندی لگائی گئی تا کہ خطے کی بنیادی ڈیموگرافی محفوظ رہے۔ اسی دور میں درجنوں سکول اور ہسپتال بنائے گئے اور سری نگر میں اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی جو شاید دنیا کی سب سے خوبصورت جگہ پر واقع ہے۔

کشمیری آزادی کے اتنی سخت اور تا دمِ تحریر چلنے والی لڑائی کے باوجود یہ آرٹیکل ہی تھا جس نے ایک اجتماعی فلاحی معیشیت کی بنیاد رکھی اس وادی میں بھوک کو پنپنے نہیں دیا۔ زرخیز زمین اور اس زمینی خود مختاری کی بدولت اسی قانون نے کشمیریوں کو معاشی تحفظ فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی کشمیرکی کارکردگی بہت سی بھارتی ملحقہ ریاستوں اور صوبوں سے بہتر ہے لہذا بھارتی اجنتا پارٹی کے وزیر کی جانب سے پیش کی گئی وجوہات جھوٹ کا پلندا ہیں۔

بھارتی وزیرِ داخلہ کی پیش کردہ وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو صحتِ عامہ کا معیار جانچنے کے پیمانے کے تحت جموں کشمیر میں شرح زندگی کی صورت حال بہت سی بھارتی ریاستوں سے بہتر ہے۔ جہاں اوسطً شرح زندگی 73.5 سال ہے۔ جبکہ اتر پردیش کی شرح 64.8 سال اور بحثیت مجموعی بھارت میں بسنے والوں کی اوسط شرح زندگی 68.7 سال ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ جموں کشمیر میں اوسطً 3,060 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر کی سہولت میسر ہے جبکہ بھارتی صوبہ بیہار میں 28,391 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر کی سہولت میسر ہے۔

کشمیر کی زمین رزخیز ہے جس کی وجہ سے وہاں کی دیہاتی آبادی میں شرح بے روزگاری بھارت کے صوبوں کی نسبت کم ہے جہاں ہر 1000 افراد میں سے 25 افراد بے روزگار ہیں جبکہ ناگا لینڈ میں ہر 1000 میں سے 151 دیہاتی بے روزگاری کا شکار ہیں۔

غربت کی شرح میں بھی جموں و کشمیربیشتر بھارتی ریاستوں میں پیچھے ہے جہاں غربت کی شرح 10.35 % جبکہ چاٹس گڑھ میں یہی شرح 39.93 % ہے۔ یاد رہے کہ بھارت کی مجموعی آبادی میں سے 21.92 % فی صد آبادی غربت کی لکیر سے بھی کم زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

بھارتی افواج کے مظالم کے سبب لاکھوں نہتے کشمیری شہید ہو ئے جن میں بہت سی خواتین حالتِ زچگی میں شہید ہوئیں اور بے شمار نوجوان، بوڑھے اور بچے بھارتی فوج کی جارحیت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اس کے باوجود جموں کشمیر قدرتی اموات کی شرح میں دسویں نمبر پر ہے جہاں 1000 میں سے 24 شیر خواز بچے بنیادی سہولیات نا ہونے کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملتے ہیں۔

فی کس آمدن کی شرح میں جموں کشمیرچند ایک بھارتی صوبوں سے بہتر ہے جہاں فی کس آمدن سالانہ 62,145 ہے جبکہ صوبہ بیہار کی فی کس آمدن 25,950 بھارتی روپے سالانہ ہے۔

یو این ڈی پی کے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر کا یہ انڈکس 7 بھارتی ریاستوں سے بہتر ہے۔ ان تمام اعدادو شمار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امیت شاہ کے بولے گئے جھوٹ کو آسانی سے ٹٹولا جاسکتا ہے۔ درحقیقت یہ تمام اعدادو شمار کشمیر کی نیم خود مختاری کا شاخصانہ ہیں۔

مگر اب آرٹیکل 35 اے کے خاتمے کے بعد یہ تمام اعداد و شمار مختلف ہونے جارہے ہیں جو نہ صرف کشمیر کی خصوصی حیثیت پر ضربِ کاری ہے بلکہ بہت بڑی مقدار میں کشمیریوں کے معاشی استحصال کا باعث بنے گا۔

اس آئینی تبدیلی کو بھارتی عدلیہ میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ کشمیر کی غیور عوام ہمیشہ کی طرح بھارت کے اس غیر آئینی اور غیر انسانی فعل کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر تے ہوئے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان بھی بھارت کے اس عمل پر شدید ردِ عمل دے دہا ہے۔ اور بہت سی بین الاقوامی طاقتیں بھارت کی اس جارحیت کی مذمت کرتی نظر آتی ہیں لہذا کشمیر کے معاشی مستقبل کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

لیکن بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر مودی سرکار اس تمام صورت حال کے باوجود اس سازش میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقینًا اس کے جموں و کشمیرکی معاشی حیثیت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اول تو بھارتی حکومت اپنی نا اہلی کے باعث کشمیر کی معاشی ترقی کی رفتار پیچھے دھکیلے گی علاوہ ازیں کشمیری علاقہ جات میں بھارتی اور بین الاقوامی سرمایہ داروں کا آکر کاروبار کرنا ان کی معیشیت کو مجموعی طور نقصان پہنچائے گا۔

بھارتی حکومت کے اعلامیے کے مطابق اکتوبر یا نومبر میں پہلی جموں و کشمیر سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کی جارہی ہے جس میں بڑی بھارتی کمپنیاں جن میں ٹاٹا، آئی ٹی سی، سوزلون انرجی، ماہندرا ایگرو ٹیک، الٹرا ٹیک سیمنٹ اور ریڈیسن ہوٹل نے کشمیر میں خطیر سرمایہ کاری کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشیت کا یہ ماڈل نا صرف جموں کشمیر کی عوام کے معاشی استحصال کا باعث بنے گا بلکہ اس کے بعد کارخانوں، فیکٹروں اور لینڈ مافیا کی پوچھاڑ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے گی اور اس خوبصورت وادی کے قدرتی حسن کو تباہ برباد کر دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •