اٹھائیس ہزار کھلونا بطخوں نے سمندر کے ایک سربستہ راز سے پردہ اٹھایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سن 1992 میں اِک بحری جہاز جو ہانگ کانگ سے کنٹینر لاد کر امریکہ کی جانب گامزن تھا۔ بدقسمتی کہہ لیں یا خوش قسمتی اک کنٹینر ناگہانی حادثے کے باعث سمندر میں جا گِرا۔ خوش قسمتی اس لیے کیونکہ اس کنٹینر سے اوشین گرافرز کو نئی کھوج ملی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کنٹینر میں لگ بھگ 28000 ربر کی پیلے رنگ کی بطخیں تھیں۔ جو اکثر ہمارے ہاں باتھ ٹب میں بچوں کے کھیلنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ آج تقریباً 20 سال بعد بھی یہ بطخیں پانی سے وقتاً فوقتاً برآمد ہو رہی ہیں اور پانی کے رُخ کے ساتھ ہی سمندر میں سفر کرتی ہیں۔

اب تک دنیا بھر کے مختلف ساحلوں مثلاً آلاسکا، ساؤتھ امریکہ، ہوائی وغیرہ سے یہ بطخیں برآمد ہوچکی ہیں۔ ان بطخوں کے سامنے آنے کے بعد اوشین گرافرز نے ان پر ریسرچ کرنا شروع کر دیں اور دنیا بھر میں اعلان کروایا جو بھی اس رنگ کی بطخ سیم ماڈل سیم ڈیزائن کی لا کر ہمیں جمع کروائے گا اسے بطورِ انعام ڈالرز دیے جائیں گے۔

اوشین گرافرز کو تحقیق سے پتہ چلا لگ بھگ 2000 بطخیں اب بھی پیسیفک سمندر کے گئیر/ دائرے / سمندری بھنور کہہ لیں میں گھوم رہی ہیں۔ انہی بطخوں کی مدد سے یہ گئیر/ دائرہ دریافت ہوا۔

ایبیسمئیر جو اک ریٹارئڈ اوشین گرافر ہیں : کہتے ہیں، کہ انہیں ہمیشہ سے لگتا تھا کہ یہ دائرے / گئیر سمندر میں موجود ہیں اور ان بطخوں کے اس دائرے میں رہنے سے ہی ہمیں معلوم ہوا کہ پانی تقریباً 3 سالوں میں اس گئیر/ دائرے کا پورا چکر کاٹتا ہے۔

گئیر/دائرہ کا مطلب سمندر میں پانی کا بہاؤ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ پانی گول گول ایک ہی جگہ گھومتا رہتا ہے۔ سمندر میں پھینکا جانے والا کچرا پلاسٹک کوڑا اکثر ان دائروں میں جمع ہوجاتا ہے۔

پیسیفیک سمندر میں جو گئیر/ دائرہ دریافت ہوا یہاں حد سے زیادہ کچرا جمع ہوچکا ہے جیسے ہم اک سوپ کے پیالے میں چمچ گھوماتے ہیں تو سوپ میں موجود تمام اشیاء گھومتی ہیں ایسے ہی کچرا ان دائروں میں گھوم رہا ہے۔ اس کچرے میں پلاسٹک اور جو جو کوڑا تیرنے والا ہے وہ سب موجود ہے۔ یہ کچرا اسی طرح وہاں پہنچا جیسے یہ بطخیں پنہچی ہیں۔

یہ تو بتایا نہیں جا سکتا کہ ہر سال کتنا کچرا سمندر میں جمع ہوتا ہے لیکن اوشین گرافرز کے مطابق سو سے کچھ ہزار کی تعداد میں کچرا آتا ہے جو پلاسٹک آلودگی کا اک چھوٹا سا حصہ ہے۔

ایبیسمئیر کہتے ہیں کہ ڈووان ہوہن کی کتاب موبی ڈکس کا مطالعہ کرنے کے بعد ان کو پتہ چلا کہ کس طرح بحری جہاز سے سمندر میں کچرا پھینکا جاتا ہے جس میں سگریٹ کے ٹوٹے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ساتھ یہ بھی بتایا کہ اکثر مردہ وہیل مچھلی کا پیٹ بھی پلاسٹک کے کچرے سے بھر جاتا ہے۔

دنیا بھر میں اب تک 11 گئیر/ دائرے دریافت ہوئے ہیں اور یہ سب ان بطخوں کی مدد سے ہی اوزشین گرافر معلوم کر سکے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں ہمارا کچرا پھینکنے سے سمندری نظام تباہ و برباد ہوسکتا ہے کیونکہ ایک سمندری مخلوق فوڈ چین ایفیکٹ کا شکار ہو تو پورے ایکو سسٹم پر اس کا اثر پڑتا ہے۔

انڈونیشاء میں سمندری بیج کے پلاسٹک استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی سفائر برانڈ نے پلاسٹک کے بجائے بیج والے بیگ بنانے شروع کر دیے ہیں جسے استعمال کے بعد اس سے پلانٹیشن کا عمل کیا جاسکتا ہے

اب تک اوشین گرافرز یہ جاننے سے قاصر ہیں ان گئیر/ دائروں سے کچرا کیسے نکالا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمیں سمندری ساحلوں پر کوڑا کرکٹ پھینکنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کل کو یہی کچرا سونامی کی شکل ہمارے گھروں میں واپس آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •