صوفی اور بولتی مورتیاں
ایسا ویران، خالی بنجر تو اس کا اندرکبھی نہیں ہوا تھا۔ اسے اپنے آپ سے اجنبیت محسوس ہوئی۔ وہ اس بہاوٴ میں بہہ کیسے گیا۔ وہ اپنا گھر، اپنا شہر چھوڑنے پر راضی کیونکر ہوا۔ اس نے اپنی آزادی کی قیمت کیسے لگا دی؟ اس نے اپنی صبحیں، اپنی شامیں، اپنی راتیں کیسے گروی رکھ دیں؟ وہ اپنے محبوب مجسموں کو خود سے دور کرنے پر کیونکر رضامند ہوا؟ اپنے خالی پن پر ندامت کے ساتھ خودکشی کا خیال آتے ہی اس کے ہونٹوں پہ اداس سی مسکراہٹ دوڑ گئی۔ مردے کو مارناکیا معنی رکھتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب اس نے ایک اداس نظر اپنے ہاتھوں تخلیق کیے شاہکاروں پر ڈالی اور باہر نکل آیا۔
کوئی ایک سال اور چند ہی مہینے تو ہوئے تھے اسے اپنے شہر اور گھر سے دور مگر اسے اپنے محلے کی شکل اجنبی لگ رہی تھی۔ اپنی گلی میں داخل ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ٹانگیں وجود کے بار کو بمشکل اٹھا پا رہی تھیں۔ اس کے گھر سے چار گھر آگے ایک جنازہ رکھا تھا جانے کے لئے تیار۔ اور سامنے لوگوں کا جھمگٹا، کسی نے اس کی آمد پر توجہ نہیں دی۔
پرانی لکڑی کے بنے ہوئے۔ اس چھوٹے سے عمر رسیدہ مکان۔ جس کے دروازے کے باہر پورا محلہ اپنا کچرا پھینکتا تھا، کے اندر رہنے والا ایک شاعر مرا تھا۔ جو اگر کبھی گھر سے باہر نکلتا تھا تو محلہ داروں کو اسے پہچاننے میں دشواری ہوتی۔ کہ ہر بار اس کی داڑھی کے بالوں میں سفیدی زیادہ ہوتی۔ اس کے کھچڑی ہوتے بالوں کی تعداد مزید کم ہوتی، جس کی وجہ سے سر پر جابجا سوراخ نظر آتے۔ وہ خمیدہ کمر۔ سر جھکا کے کبھی چائے کی پتی۔ کبھی دودھ تو کبھی کسی سبزی کو بلاسٹک کی تھیلی میں ڈالے گھر جاتا دکھائی دیتا تھا۔
اس کے دو بیٹوں کے متعلق، جن سے کبھی کوئی نہ ملا تھا۔ سنا تھا کہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ کبھی کبھار اس پتلی گندی، تاریک گلی میں، اس کے گھر کے باہر کوئی کار یوں پھنس کر کھڑی ہوتی کہ گاڑی کے دائیں بائیں سے دو افراد ساتھ نہیں گزر سکتے تھے۔ چہ میگوئیاں ہوتیں کہ کسی بالا افسر کی بیگم آئی ہیں۔ بڑے بڑے مشاعروں میں کلام سناتی ہیں۔
بہت نام، عزت اور شہرت کماتی ہیں۔ مگر چند روپوں کے عوض ان ہی سے کلام خریدتی ہیں۔ ان شاعر صاحب کی گزر بسر ہو جاتی تھی اور ان کا لکھا کلام ان خاتون کے کام آجاتا تھا۔ ایک بار کسی منچلے نے کہا۔ شاعر صاحب اگر یہ کلام آپ خود مشاعروں میں پڑھیں تو مالا مال ہوجائیں گے۔ بولے۔ ایک سامع بھی داد نہ دے گا میاں۔ لد گئے وہ زمانے جب اچھے شعر پہ داد ملتی تھی، اب تو کپڑوں۔ اداؤں۔ اور ذومعنی اشاروں پر داد ملتی ہے۔ خود شاعر بن جاؤں تو میاں کھاؤں گا کہاں سے؟
اور آج اس شاعر کا جنازہ پڑھنے کے لئے پندرہ افراد جمع تھے۔ پتہ نہیں اس کے سامان سے کتنے دیوان، کتنی ان سنی نظمیں اور گیت نکلیں گے جو کبھی اس کے نام سے نہیں گائے جائیں گے۔ صوفی نے سوچا اور مزید اداس ہو گیا۔
اپنے گھر میں بوجھل د ل کے ساتھ داخل ہوتے ہوئے اس نے سب سے پہلے اپنے اس کمرے کو کھولا جہاں وہ ان مجسموں کو چھوڑ گیا تھا۔ گرد کی دبیز تہہ نے ان کی چمک دھندلا دی تھی۔ ایک ایک مورت کے سامنے صوفی مجرم بنا کھڑا رہا۔ بیگانگی نے پورے ماحول کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ گزرتے دنوں نے اسے اپنے لئے اجنبی بنا دیا تھا۔ اس کا من اچاٹ اور ذہن بالکل پیلا کاغذ ہو کر رہ گیا تھا۔ اس کی آنکھیں خشک ہو چکی تھیں۔ آنسو سوکھ گئے تھے۔
پانی اور مٹی تو سامنے تھے۔ مگر۔ آنسوؤں سے گوندھے بغیر مٹی کہاں نم ہوتی ہے۔ بھربھری مٹی۔ قدموں تلے رلتی۔ ہواؤں میں بے چینی سے بکھرتی۔ اضطراب کی ماری مٹی۔ روٹھی ہوئی تھی۔ اس نے بھلا یہ کہاں تصور کیا تھا؟ وہ تو بغیر سوچے سمجھے آنکھیں بند کرتا تھا تو مٹی کے اندر سوئی ہوئی شبیہہ چمک کر سامنے آ جاتی تھی۔ مٹی کو گوندھتے گوندھتے پیکر نظروں اور ذہن میں ڈھل جاتا تھا۔ اب اس کے ہر تصور، ہر خیال کو کوئی ان دیکھا ہاتھ مٹائے چلا جا رہا تھا۔
گھر کی وحشت سے گھبرا کر اس کا سارا دن باہر گزرنے لگا۔ ہر روز اس کے پاس آنے والے کچھ لوگ اب تک یہیں رہتے تھے۔ کچھ یہاں سے جا چکے تھے۔ ان چند سالوں میں اس علاقے کی تو دنیا ہی بدل گئی تھی۔ بچے بوڑھے بوڑھے لگنے لگے تھے۔ ان کے بالوں میں سفیدی بڑھ گئی تھی یا شاید اس نے اب لوگوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ ایک بے کیف صبح، منہ اندھیرے وہ نہر کنارے بیٹھنے کے ارادے سے گھر سے باہر نکلا تو اچانک سامنے سے ملوک آتا دکھائی دیا۔ ملوک نے بتایا کہ وہ فجر کی اذان کے فوراً بعد مسجد کے آگے، جھاڑیوں کی آڑ میں چھپ کر نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔
”چھپ کر کیوں؟ “
”نمازی دیکھ لیں گے تو ماریں گے۔ “
”تو ایسا کام کرتے کیوں ہو۔ “
”مجھے اللہ اپنا اپنا لگتا ہے۔ صبح صبح جب حئی علی الفلاح کی آواز آتی ہے تو صبر نہیں ہوتا۔ “ اس کی آواز بھرا گئی۔ ”پتہ نہیں کیا ہوتا ہے۔ سینہ پھٹنے لگتا ہے۔ مندر میں بھی دل نہیں لگتا۔ بھاگ کے یہاں آجاتا ہوں۔ اور یہاں کھڑا ہو کر نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے نہیں پتہ کہ نمازی کیا پڑھتے ہیں مگر میں اللہ، اللہ، اللہ جی، اللہ میاں جی کہتا کبھی سجدے میں گرتا ہوں تو کبھی گھٹنوں کے بل جھک کر مالک کی رضامانگتا رہتا ہوں۔ “ اس کی آواز آنسوؤں میں پھنس گئی۔
دونوں طرف ایک ہی ہے۔ بلکہ چاروں اور ایک ہی ہے۔ بھگوان بول، پروردگارکہ خدا بول، کہ اللہ بول۔ اس کو رام کرنے کے اپنے اپنے طریقے ہیں سب کے۔ کوئی نچ کے منائے، کوئی گا کے، کوئی جھک کر سجدے میں گر کے۔ اب کون جانے کس کی کون سی ادا پر وہ موھت ہوتا ہے۔ اور کیاعطا کرتا ہے۔ ۔ اس کے راز وہی جانے۔ کوئی سمجھا ہے نہ سمجھے گا اس کے ناز کو۔ ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے اسے رجھانے کی کوشش کرتا ہے بس۔ ”
ملوک نے غور سے اس کے لفظوں کو سنا اور دیوانہ وار رو دیا۔ ”برداشت نہیں ہوتا اور کچھ سمجھ بھی نہیں آتا۔ جانتا ہوں میری برادری کے کسی آدمی کو پتہ چل گیا تو مجھے اور میرے پورے خاندان کو برادری سے نکال دیں گے۔ “
دونوں بے مقصد دیر تک بیٹھے رہے۔ ارد گرد کی باتیں کرتے رہے۔ ملوک کی زبانی اسے پتہ چلا کہ الیاس پردیسی جو خود کو کوزہ گر کہتا تھا۔ اور جس کی بیوی اس کو ٹھیکری والا کہہ کر۔ بچہ بغل میں داب کسی درزی کے ساتھ بھاگ گئی تھی، اب نشے میں غرق رہنے لگا تھا۔ پہلے جتنا خاموش رہتا تھا اتنا ہی نشے کی حالت میں بولنا شروع کر دیا تھا۔ لوگ اس کے پاس وقت گزاری کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔ بلکہ کچھ تو اس حالت میں اس سے اپنے روگ اور پریشانی سے چھٹکارے کی دعائیں منگوانے لگے تھے۔
الیاس پردیسی۔ صوفی نے آنکھیں موند کر کچھ دیر سوچا۔ اس کے تصور میں پھٹے پرانے بدرنگے کپڑے پہنے۔ مدقوق جسم، روکھے بالوں اور بے رونق سانولے، استخوانی ہاتھوں میں برش تھامے الیاس پردیسی آ بیٹھا۔ کیا جادو تھا اس کے پاس بھی۔ مٹی کے کوزے بنا کر ڈھیر لگاتا جاتا تھا۔ پھر ان پر اپنے برش۔ اور رنگوں کی کہکشاں کی مدد سے۔ چٹکیوں میں آسمان، سورج، چاند اور ستاروں کو زمین پر اتار لایا کرتا تھا۔ اشجار، پھول، پتے، پرندے۔ کبھی کبھی تو وعدے اور دوستیاں بھی اس کے بنائے ظروف پر صاف دکھائی پڑتے تھے۔ لوگ اونے پونے خرید لیا کرتے تھے۔ اسے کسی نے کبھی بھاوٴ تاوٴ کرتے نہیں دیکھا تھا۔
ملوک سے ہی اسے علم ہوا کہ وہ راگی جو راگ کو عبادت سمجھتا تھا۔ جس کا یکتارہ بہت پرانا تھا اور جس کی پیلی پگڑی کے بلوں میں رفو سوراخ صاف نظر آتے تھے، اسے ایک شام ٹرین سٹیشن پر دو نوجوانوں نے بے دردی سے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ وہ کسی راگ کی محفل سے واپس آ رہا تھا۔ پولیس چند ایک روز تو علاقے میں دکھائی دی پھر غائب ہو گئی۔ اس کے قاتلوں کا کچھ پتہ نہ چلا۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا تھا کہ اسے پہلے کئی بار دھمکیاں دی گئی تھیں کہ وہ گانا بند کر دے مگر وہ باز نہ آیا تھا۔
ہر روز کی طرح آج بھی سورج ڈوبنے کے بعد وہ گھر کی طرف واپس آ ر ہا تھا کہ راستے میں راجے کی سیمنٹ بجری ڈھونے والی تغاری۔ کے ارد گرد بیٹھے مزدوروں کو دیکھ کر کچھ دیر وہیں کھڑا ہو گیا۔ معلوم نہیں کنڈا ٹوٹی بالٹی میں انہوں نے کیا کچھ گھول رکھا تھا۔ بیڑی کے پتے کو کھول کر اس میں چرس بھر کر ایک دوسرے کو دیتے جب وہ اپنے پیروں اور ہاتھوں کے پھٹے رستے چھالوں کو بغور دیکھ رہے تھے، صوفی بجائے گھر جانے کے آگے بڑھ گیا۔ آج کچھ وقت عابدہ کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

