سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال اور اس کے نتائج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باخبر رہنے کا تجسس دورِ حاضر کے انسانوں کو علم کے آسان اور تیز ذرائع ایجاد کرنے پر اکساتا ہے۔ یہ انسانی تجسس اور بے چین فطرت کا ہی کمال ہے کہ ٹویٹر، فیس بک اور واٹس ایپ جیسی سینکڑوں ایپلی کیشنز وجود میں آئیں۔ اس وقت دنیا کے ٹاپ 20 سوشل میڈیا فورمز میں فیس بک پہلے، یوٹیوب دوسرے، فیس بک میسنجر تیسرے اور واٹس ایپ چوتھے نمبر پر ہیں۔ اسی طرح انسٹاگرام، ٹویٹر اور گوگل بالترتیب پانچویں، چھٹے اور ساتویں نمبر پر ہیں۔

گزشتہ سال وجود میں آنے والی ٹک ٹاک بھی قلیل عرصے میں اربوں صارفین کے ساتھ عالمی رینکنگ میں شامل ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے نام پر انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہونے والی ان ایپلی کیشنز میں سے فیس بک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد مذہبی، سیاسی، سماجی اور معاشی معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ 2004 میں ہاورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل مارک ذکربرگ نے اپنے ساتھیوں ڈسٹن ماسکووز، کرس ہاس اور ایڈوارڈو سیورن کے ہمراہ فیس بک کا ابتدائی ڈھانچہ تیار کیا جو 2019 میں جدت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

2019 کے آغاز تک دنیا میں فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 2.38 بلین تک پہنچ چکی ہے۔ فیس بک میں مستقل ملازمیں کی تعداد چالیس ہزار کے لگ بھگ ہے جو دنیا کے 71 بڑے شہروں میں قائم دفاتر میں کام کرتے ہیں۔ جون 2019 میں فیس بک کے فعال صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ریکارڈ کی گئی۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپلی کیشن ہے۔ فیس بک کے زیر انتظام انسٹاگرام، واٹس ایپ اور میسینجر کے صارفین کو الگ الگ شمار کیا جائے تو کل تعداد 21 ارب بنتی ہے۔

بین الاقوامی پیغام رسانی میں میسنجر کا حصہ 85 فیصد ہے۔ اس کے ذریعے ماہانہ 20 ارب پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ میسنجر استعمال کرنے والوں میں تقریباً 2 ملین بچے ہیں۔ 2018 میں فیس بک کمپنی کا سالانہ ریونیو تقریباً 56 ارب ڈالر، آمدنی 22 ارب ڈالر اور کل اثاثے 98 ارب ڈالر تھے۔ اسی طرح فیس بک کے زیر انتظام انسٹاگرام کوبھی نوجوان نسل میں کافی پسند کیا جاتا ہے۔ انسٹاگرام پر ماہانہ فعال صارفین کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔

انسٹاگرام کے 64 فیصد صارفین کی عمریں 18 سے 34 سال کے درمیان ہیں۔ انسٹاگرام کے صارفین میں ماہانہ 6 سے 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ 25 سال سے کم عمر صارفین روزانہ اوسطاً آدھا گھنٹہ انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں۔ انسٹاگرام 8 ملین سے زائد اکاؤنٹس کو تجارتی سہولیات فراہم کرتا ہے اور اس کے 80 فیصد صارفین بزنس اکاؤنتس کو فالو کرتے ہیں۔ فیشن برانڈز کی بہت بڑی تعداد بھی انسٹاگرام کو پسند کرتی ہے۔ صرف تجارتی سرگرمیوں کی مد میں انسٹاگرام 7 ارب ڈالر کے محصول جمع کرتا ہے۔

دوسری طرف ٹویٹر انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ دنیا بھر میں ٹویٹر استعمال کرنے والوں کی تعداد 325 ملین کے لگ بھگ ہے جن میں سے 126 ملین افراد ہر وقت فعال رہتے ہیں۔ سال 2018 میں ٹویٹر کا سالانہ منافع 255 ملین ڈالر تھا جس میں دن بدن اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عام سرکاری ملازم سے لے کر اہم حکومتی عہدیداروں تک، کسان سے لے کرطالب علم تک، سیاستدان سے لے کر معیشت دان تک، مذہبی و سماجی شخصیات سے لے کر کارپوریٹ سیکٹر کے لوگوں تک ہرشخص آزادانہ اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔

ہمارا تعلق اس معاشرے سے ہے جہاں عوامی سطح پر ایک عام آدمی کے لئے آزادانہ اظہارِ رائے کا کوئی فورم میسر نہیں ہے۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے ٹویٹر کا استعمال کرتا ہوں۔ میرے خیال میں ٹویٹر مجھے بھی آزادی فراہم کرتا ہے کہ غیر معمولی معاملات پر کھل کر بات کر سکوں۔ آئیے اب واٹس ایپ پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ اس وقت دنیا کے 180 ملکوں میں واٹس ایپ پر ڈیڑھ ارب کے قریب صارفین ہیں جو پیغام رسانی کے ساتھ ساتھ آڈیو اور وڈیو کال کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔

واٹس ایپ صارفین میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ ایک صارف اوسطاً دن میں تقریباً 23 دفعہ واٹس ایپ چیک کرتا ہے۔ 58 فیصد صارفین دن میں 23 سے زائد دفعہ واٹس ایپ دیکھتے ہیں۔ 12 ملکوں میں واٹس ایپ کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ 3 ملین کمپنیاں اپنے اشتہارات اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے لئے واٹس ایپ کا فورم استعمال کرتی ہیں۔ واٹس ایپ اثاثوں کی کل مالیت تقریباً 20 ارب ڈالر اورسالانہ آمدنی تقریباً دو ارب ڈالر ہے۔

فروری 2014 میں سوشل میڈیا کی دنیا میں یوٹیوب کی صورت میں ایک حیرت انگیز اور شاندار اضافہ ہوا۔ اس وقت یوٹیوب ماہانہ 2 ارب لوگوں کو وڈیو اپ لوڈ یا ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت مہیا کرتی ہے۔ ان ویڈیوز میں 95 فیصد میوزک ویڈیوز ہوتی ہیں۔ گوگل کے بعد یہ دنیا کا دوسرا بڑا سرچ انجن ہے۔ یوٹیوب کے صارفین میں زیادہ تر 18 سے 49 سال کی عمروں کے لوگ ہیں۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے 50 فیصد انٹرنیٹ صارفین یوٹیوب پر وڈیوز دیکھتے ہیں۔

یو ٹیوب کے ذریعے وڈیوز انجوائے کرنے والوں میں 50 فیصد سے زائد خواتین ہیں۔ نوجوان نسل میں یوٹیوب دیکھنے کا رحجان بڑھتاجا رہا ہے۔ 2017 سے یوٹیوب چینلز اور ان کے سبسکرائبرز میں 75 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2018 میں کمرشل صارفین کے محصولات میں 42 فیصد کا اضافہ ہوا۔ پیو ڈائی پائی 95 ملین سبسکرائیبرز کے ساتھ یوٹیوب کا سب سے زیادہ شہرت یافتہ چینل ہے۔ حال ہی میں متعارف ہونے والی ٹک ٹاک 155 ملکوں میں استعمال ہو رہی ہے۔

یہ 500 ملین صارفین اور 2019 میں 33 ملین ڈاؤن لوڈز کے ساتھ دنیا میں تیسرے نمبر پر ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپلی کیشن ہے۔ ٹک ٹاک کے 41 فیصد صارفین کی عمریں 16 سے 24 سال تک ہیں۔ اس کے کل صارفین میں 56 فیصد مرد اور 44 فیصد خواتین ہیں۔ ایک صارف روزانہ اوسطاً 52 منٹ ٹک ٹاک استعمال کرتا ہے۔ ٹک ٹاک پر روزانہ ایک ارب سے زائد ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں۔ انٹرنیٹ بالخصوص سوشل میڈیا کے صارفین میں مسلسل اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن کو جاننے کے لئے اس کے مصارف کا علم ہونا ضروری ہے۔

گلوبل ویب انڈیکس کی ایک تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا استعمال کرنے کی دس اہم وجوہات ہیں۔ دوستوں کے ساتھ مسلسل رابطہ۔ حالات حاضرہ سے باخبر رہنا۔ فراغت میں وقت گزاری کرنا۔ مزاح اور تفریح سے لطف اندوز ہونا۔ دیگر لوگوں کے ساتھ مؤثر رابطہ۔ دوسروں کے ساتھ تصویریں اور وڈیو شئیر کرنا۔ اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کرنا۔ آن لائن خرید و فروخت اورنئے لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس سے انسانی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اشفورڈ یونیورسٹی کی ایک جامع تحقیق سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رحجان کی ذیل وجوہات بیان کرتی ہے۔ اس بات کا احساس پیدا ہونا کہ اس کے دوست سوشل میڈیا پر زیادہ شہرت حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے گروپ کی تصاویر دیکھنا جس کو آپ اپنا سمجھتے ہوں لیکن گروپ کی طرف سے آپ کو بلایا نہ گیا ہو۔ لوگوں کو خوشیاں مناتے دیکھنا اور اپنی پریشانیوں سے موازنہ کرنا۔ اپنی پوسٹس پر لائکس یا کمنٹس کی کمی محسوس کرنا۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پیار کرتے دیکھنا۔

اپنی پسندیدہ اور غیر پسندیدہ سیاسی پوسٹس دیکھنا۔ اپنی رائے اور جذبات کو سرحد پار لوگوں کے ساتھ شئیر کرنا۔ ایسی بات کہنا جو دوسروں کے منہ پر نہ کہی جا سکتی ہو۔ دلچسپ چیزیں دیکھنا اور شئیر کرنا۔ دوسروں کے لئے ناقابل قبول مذہبی و سیاسی نظریات کی تشہیر۔ خود پسندی کا عنصر جیسا کہ سیلفی پوسٹ کرنا بھی ایک اہم وجہ ہے اور تنہائی سے بیزاری وغیرہ۔ سوشل میڈیا کے مصارف میں مسلسل اضافہ لوگوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

اس کے مثبت پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو سوشل میڈیا نے بہت ساری چیزیں آسان کر دی ہیں۔ مذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی سرگرمیوں میں آسانی اور تیزی دیکھنے میں آئی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا آج کے تیزترین ترقی یافتہ دور کی ضرورت ہے اور اس کے فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے مثبت پہلوؤں کے برعکس سوشل میڈیاکے موجودہ رحجانات اس دور میں فتنہ سے کم نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا آج کے انسان کو وہ کچھ دکھا رہا ہے جس کا تصور بھی کچھ سالوں پہلے تک محال تھا۔ ٹک ٹاک جیسی ایپلی کیشنز کو شعور کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ معاشرتی برائیوں کا گڑھ اور نوجوان نسل میں کردار کی بدحالی کا باعث بن رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •