طرز حکمرانی پر ماضی کی تربیت کے اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اپنی خودنوشت کا دوسرا حصہ لکھنے میں اس قدر مصروف ہوں کہ مجھے کچھ اور لکھنے کی فرصت نہیں مل پا رہی۔ ویسے بھی میں اس بار ماسکو میں مختلف مقام، مختلف ماحول اور مختلف حالات میں رہ رہا ہوں، یہ بھی ایک وجہ ہے۔ البتہ آج مجھے روس کے ایک ویٹیرن صحافی اور جرنلزم اکیڈیمیشن ولادیمیر پوزنر صاحب کا ایک بیان پڑھنے کو ملا جس نے مجھے خودنوشت کے علاوہ کچھ اور لکھنے پر مائل کیا۔ پہلے وہ پڑھ لیجیے جو انہوں نے کہا،

” آج کل بارہا سننے کو ملتا ہے کہ روس میں معاملات سوویت یونین کے سے ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھ یہ بات غصے سے کہتے ہیں، کچھ خوشی نہ چھپاتے ہوئے کہتے ہیں۔

اس نوع کی مراجعت کی حقیقت مجھے حیران نہیں کرتی۔ روس میں سوویت عہد کے لوگ حکومت چلاتے ہیں۔ وہ لوگ، جو سوویت یونین میں ہیدا ہوئے تھے اور جنہوں نے سوویت یونین میں پرورش پائی تھی۔ وہ جنہوں نے سوویت یونین میں تعلیم پائی وہ جن کا نکتہ نگاہ تب مرتب ہوا جب وہ پیونیر (بچوں کی کمیونسٹ پارٹی۔ م م ) کومسومولتس ( نوجوان کمیونسٹ۔ م م ) اور پارٹی (کمیونسٹ) رکن رہے تھے۔ وہ، یعنی یہ لوگ ایک اور نظام کی پیداوار ہیں۔ وہ دوسرے نظام میں شامل تو ہو گئے ہیں لیکن وہ اسے ویسے چلا رہے ہیں، جیسا کہ کبھی انہوں نے چلانا سیکھا تھا۔ انہیں حکومت سوویت طرز پہ ہی چلانا آتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس کا اثر سب پر پڑتا ہے۔ ”

یہ بات انہوں نے روس کے مختلف اداروں کی جانب سے اپنے اہلکاروں کو غیر ملکیوں کے ساتھ ملنے سے متعلق خصوصی ہدایات دیے جانے کی خبر سن کر کی ہے۔ معاملہ صرف روس اور سوویت یونین کا نہیں بلکہ بہت سے ایسے ملکوں کا ہے جو جمہوریت کا نام جپتے ہوئے اپنے مزاج اور اپنی تربیت کے مطابق حکومت چلانے کی سعی کرتے ہیں۔

کل روس میں سفارت خانہ پاکستان میں تقریب تو 14 اگست یوم آزادی کے سلسلے میں تھی لیکن اسے شنگھائی تنظیم تعاون کے ایک زعیم کرنل جنرل یاوگینی سوسی ایو کو ”ستارہ پاکستان“ سے نوازنے سے منسوب کر دیا گیا تھا، اس میں سفیر پاکستان جناب قاضی خلیل اللہ کی تقریر میں اور باتوں کے علاوہ پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ کی طرز پر چلانے کا اعادہ بھی کیا گیا۔ مدینہ جو چھوٹا سا شاید چند سو یا چند ہزار کا شہر تھا، کیا وہ ریاست تھی بھی یا نہیں اور اگر تھی بھی تو کیا وہ جدید ریاست کے پیمانوں سے ماپی جا سکتی ہے، یہ وہ سوال ہے جس کا کوئی جواب کسی نے کہیں نہیں دیا۔ البتہ کسی سیاستدان کی بجائے حکومت پاکستان کے نمائندہ سفیر کے منہ سے یہ قابل سوال اصطلاح استعمال کیے جانے سے ایک بات تو طے ہو گئی کہ یہ اصطلاح افسر شاہی نے وضع کر کے دی ہے اور پاکستان کی افسر شاہی کس کے حکم پر کچھ بھی کیا کرتی ہے یہ کسی سے مخفی نہیں۔

چلیں یہ شوشہ بھی چلا کے دیکھ لیں۔ پاکستان کے عوام حاکموں کی نظر میں ہر طرح کے تجربات کے لیے پالے گئے چوہوں سے زیادہ اور کچھ نہیں ہیں اور حاکم سیاستدان نہ کبھی تھے نہ اب تک ہیں۔ آئندہ بھی دور دور تک ان کے حاکم ہونے کا کوئی شائبہ نہیں ملتا۔ محقق صحافی اگر چاہیں تو معلوم کر سکتے ہیں کہ عمران خان نے وزیر اعظم بننے سے پہلے کب ریاست مدینہ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔

بڑے سیاستدانوں کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دینا ایک معاملہ ہے مگر لوگوں کی زبانیں کھینچے جانے کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ دنوں کوٹ ادو میں پیپلز پارٹی کے ایک کارکن علی اکبر چوہدری کو اس لیے گرفتار کر لیا گیا کہ اس نے حکمرانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس کی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق اس پر دہشت گردی کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔ کوٹ ادو سے، جہاں کے ساتھ میرا ایک زمانے میں تعلق رہا ہے، کچھ اور دوستوں نے بھی مجھے مطلع کیا ہے کہ انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر حکومت کے خلاف کچھ بھی ایسا ویسا لکھا تو انجام علی اکبر جیسا ہوگا۔ معاملہ کوٹ ادو تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس بارے میں ملتان کے جید اور مزاحم صحافی حیدر جاوید سید نے بھی لکھا ہے۔ کچھ اور صحافیوں نے بھی بے جا غیر قانونی سختیوں سے متعلق گلہ کیا ہے۔

آپ بھی سوچیں گے کہ بات پوزنر کی کہی بات سے شروع کرکے میں پاکستان کی حالیہ حکومت سے متعلق باتیں کیوں کرنے لگا ہوں۔ پہلے تو یاد رکھیے پاکستان میں کوئی حکومت حالیہ حکومت نہیں ہوا کرتی۔ 1948 سے ایک ہی حکومت ہے۔ پہلے افسر شاہی کی شکل میں اور 1958 سے بندوقوں والوں کی صورت۔

یعنی ان کی حکومت جنہیں پہلے نوآباکاروں کے دور کی تعلیم و تربیت حاصل رہی اور پھر ان کے ادوار کی جنہوں نے نوآبادکاروں کی طرز پر معاشرے کو بانٹو اور حکومت کرو کی طرز پر پڑھایا اور اپنی حکومتوں کو چلایا البتہ اتنا ہوتا رہا کہ وہ جو کسی حد تک یا خاصی حد تک عام لوگوں کے بارے میں بھی سوچتے تھے وہ جتنا انہیں موقع ملا، ان کی جن کی اصل حکومت رہی، کبھی مزاحمت کرتے رہے اور کبھی ان سے مصالحت۔

مگر اب جو حکومت ہے وہ پاکستان بھر میں ویسے حکومت چلانے پر مامور کر دی گئی ہے جس طرح سے بلوچستان پر حکومت کی جاتی ہے اور تو اور ہمسایہ ریاست کے ساتھ محاذ آرائی کی خاطر وہ نعرہ جو کسی ایک خاص مذہبی جماعت کا تھا یعنی کشمیر بنے گا پاکستان کو سرکاری نعرہ بنا دیا گیا جبکہ اس سے پہلے کشمیر کشمیریوں کا ہی مانا جاتا تھا۔

جب تک تحریف کردہ مطالعہ پاکستان، بعد میں ساختہ نظریہ پاکستان، قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر سے انحراف، ہمسایوں سے معاندت، جذباتی محاذ آرائی اور ریاست مدینہ کی سی مبہم اصطلاحات کا درس دیا جاتا رہے گا، تب تک ویسی ہی نسل حاکم بنتی چلی جائے گی جو ہر آنے والے چیف آف آرمی کو سیاستدانوں پر ترجیح دیتی رہے گی، جب امریکہ میں سرکاری دوروں پر چیف آف آرمی کو لے جانا ضروری خیال کیا جاتا رہے گا۔

اس کے بعد بھی اگر خوش بختی سے فی الواقعی کوئی سیاسی حکومتیں آتی رہیں گی تب بھی پوزنر کے مطابق پہلے سے تربیت یافتہ، پہلے کی سی سوچ رکھنے والوں کی ہی حکومت رہے گی جو ماضی کے گن گانے اور ماضی کو کھینچ کر حال پر لاگو کرنے کی سعی کرتے رہیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •