میر صاحب، پہلے سے نہ سوچا تها انجام محبت کا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غالبا 2009 کا زمانہ تھا جب ہم کوئٹے کی ایک بڑی یونیورسٹی کے چھوٹے سے کیمپس میں نام نہاد تحقیقی مقالہ لکھنے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔ تبھی ایک دوپہر کینٹین میں جب ہم بیف بریانی جسے ہم گائے بریانی کہتے تھے اور بقول ہمارے ایک دوست کے درباروں میں اس طرح کی بریانی مفت ملا کرتی ہے اور ہمیں مبلغ 35 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں کھانے میں مشغول تھے کہ خبر آئی میر صاحب سینیٹر بن گئے۔ ایک لمحے کو خیال آیا ( ہر بلوچستانی میں ایک سیاسی کیڑا تو پیدائشی ہوتا ہی ہے ) کہ کیسے ہوگیا یہ سب؟ کیونکہ 2008 کے انتخابات میں نیشنل پارٹی نے بائیکاٹ کیا تھا جسں کے سبب اس وقت ان کی قومی اور صوبائی اسمبلی میں ایک بھی نشست نہ تھی پھر بھی میر صاحب سینیٹر بن گئے۔ خیر ہمیں کیا لینا تھا اس لئے بریانی پہ فوکس کیا۔ اور شاید انھی دنوں ہم نے سیکھا تھا کہ ”ڈگری ڈگری ہوتی ہے اور سینیٹر سینیٹر۔“

کافی ماہ و سال بیت گئے۔ زندگی اک زیاں کا دفتر ہے۔ سو ہم بھی ضائع ہوتے رہے۔ اس دوران حکومتیں آئیں اور رخصت ہوئیں۔ پھر سال 2017 آیا جب وطن عزیز میں عباسی دور خلافت چل رہی تھی اور ہم خود اختیاری جلاوطنی سے محظوظ ہو رہے تھے۔ اتفاق سے پھر لنچ کا وقت تھا ہم نے کھانا آرڈر کرنے کے بعد موبائل جو دیکھا تو پتہ چلا کہ میر صاحب سمندروں کے وفاقی وزیر بن گئے ہیں۔ اب کی بار کینٹین کی بوسیدہ فضا نہیں تھی بلکہ سامنے کھلا سمندر اور شفاف ساحل تھا۔ خبر سنتے ہی اور کسی حد تک ماحول کے زیر اثر دل و دماغ میں کچھ الفاظ تیرنے لگے۔ بلوچ، ساحل سمندر، وارث، قومی حقوق، حق ملکیت، اور رہنما وغیرہ۔ ہم نے جلدی حواس بحال کیے اور عبداللہ دیوانہ بننے سے گریز کیا۔ اور یخ بیئر کے ساتھ کھانے سے لطف اندوز ہونے لگے۔

اب جبکہ اکیسویں صدی کی دوسری دھائی ختم ہونے کو آئی ہے۔ گلستاں کب کا اجڑ چکا، پرندے ہجرت کرچکے۔ اب آمد بہار کی جھوٹی آس بھی نہیں۔ شہر آشوب پہ یہ وقت آیا ہے کہ لوگ اردو پڑھنا، سمجھنا بھول گئے ہیں۔ ایسے عالم میں کوئٹے سے بہت دور اسلام کے نام پہ بننے والے شہر کی سڑکوں پہ چہل قدمی کرنے والے میر صاحب کی طبعیت کچھ ناساز رہنے لگی ہے۔ سنا ہے کینسر کا عارضہ بھی لاحق ہے۔ مولا کرم کرے اور آپ جلد صحت یاب ہوں۔ دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے، سجناں وی مر جانا۔ ۔ مجھے نہیں پتہ بلوچستان کے نوجوان آپ کو اپنا دشمن مانتے ہیں یا دوست، آپ کے حق میں دعا کریں گے یا نہیں۔ اتنا ضرور گماں ہے کہ بد دعا نہیں کریں گے۔ اور سنا ہے اب کی بار آپ نالہ پار کے لوگوں سے بھی خائف ہیں بلکہ دشنام طرازی پہ اتر آئے ہیں؟

خیر ہو تیری لیلاوں کی ان سب سے کہہ دو
آج کی شب جب دیے جلائیں، اونچی رکھیں لو

میر صاحب آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ بلوچستان کے خواص کے لئے اقتدار کی گدی ایک ”ٹروجن ہارس“ ہے جو کبھی آپ کے پاس ہوتی تھی مگر اب مارکیٹ میں پرانے سیاست دانوں کے بھی ”باپ“ آگئے ہیں۔ آپ نے تو صرف دستار بیچی ہوگی۔ وہ کچھ بھی بیچنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ لہذا آپ کو بیروزگار تو ہونا ہی تھا۔ مگر ہمیں یہ امید نہ تھی کہ اس صدمے کو آپ دل سے لگا لیں گے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں گے۔

پہلے سے نہ سوچا تھا انجام محبت کا
تب ہوش میں آئے ہیں جب جان پہ بن آئی

اس گستاخی پہ خدا تو آپ کو معاف کر ہی دیں گے۔ مگر گجرانوالہ کی مقامی عدالت کے جج تپے بیٹھے ہیں۔ اور وہ وکیل جس نے رٹ دائر کی تھی۔ وہ کوئی ”جولی ایل ایل بی“ نہیں ہے۔ اگرچہ اس کے کالے کوٹ کا ایک بٹن ٹوٹا ہوا ہے۔ مگر جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہے۔ اس لئے ہلکا نہ لیجیو اسے سرکار۔ ویسے بھی گجرانوالہ پہلوانوں کا شہر ہے میر صاحب اکھاڑے میں تو آپ کو اترنا ہی پڑے گا۔ اس لئے جسم پہ تیل مل کے جائیں تو بہتر رہے گا۔ رب راکھا۔

مومن خان مومن کی ایک خوبصورت غزل کے کچھ اشعار یاد آرہے ہیں۔

ناوک انداز جدھر دیدہء جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے

صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں
چارہ فرما بھی کبھی قیدیِ زنداں ہوں گے؟

منتِ حضرتِ عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لیے شرمندہء احساں ہوں گے؟

تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے
گُل نہ ہوں گے شرر آتشِ سوزاں ہوں گے

داغ دل نکلیں گے تُربت سے مری جوں لالہ
یہ وہ اَخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے

سنگ اور ہاتھ وہی وہی سر و داغِ جنوں
وہی ہم ہوں گے، وہی دشت و بیاباں ہوں گے

عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •