کابل سے کوئٹے تک

کوئٹہ اور کابل جڑواں نہیں تو رشتے میں خالہ زاد بھائی کی حیثیت ضرور رکھتے ہیں۔ وہ یوں کہ کوئٹہ میں رہنے والوں کے لیے کابل محض ہمسایہ ملک کے دارالحکومت کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے شہر کا نام ہے جو یکساں موسم ’مہر و محبت‘ ثقافتی ورثے ’عشق و جنون اور موسیقی سے ہم پلہ ہے۔ شاید اسی قربت کا اثر ہے کہ کوئٹہ کے گلی کوچوں سے کابلی کھانوں کی مہک آتی ہے۔ کابل اور کوئٹہ بلکہ

Read more

بلوچستان: ایسا دیس ہے میرا

پہلا منظر صوبے کے معروف سرکاری ہسپتال کا ہے جس کو کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اتفاق سے میں اسی ہسپتال کے آئی سی یو میں ایک مریض کے ساتھ ہوں۔ تمام مریض آکسیجن کی کمی کا شکار ہیں اورتشویشناک حالت میں ہیں اور کچھ انتہائی نازک حالت میں۔ کچھ مریض اپنا آکسیجن لیول برابر کر کے واپس زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں اور کچھ ہمیشہ کے لیے یہ سنسار چھوڑ کہ جا رہے ہیں۔ غرض دکھ کی کیفیت یے اور ہر چہرہ مرجھایا ہوا ہے۔ کیا مریض کیا لواحقین سب ہی خوفزدہ ہیں کہ اگلی باری کس کی؟

Read more

عمل کو تنقید سے فرصت نہیں

چند روز بیشتر ایک ”فیس بکی“ دوست کو تنقید سے توبہ کرتے دیکھا۔ دکھ تو ضرور ہوا ’یقیناً ایک مثبت جذبے کی یوں موت ہوجانا کسی بھی معاشرے کے لئے اچھا شگون نہیں۔ کہ تنقید اصلاح کو جنم دیتی ہے اور اصلاح سے ہی ارتقاء کا سفر عبارت ہے۔ معلوم نہیں ہمارے ہاں تنقید کو اتنا منفی کیوں لیا جاتا ہے۔ ( ویسے مثبت کس چیز کو لیا جاتا ہے؟ یہ ایک الگ بحث ہے ) اس کی ایک وجہ

Read more

ہم لوگ تیری کن کا بھرم رکھنے آئے ہیں ‎

پچھلے کچھ دنوں سے افکار علوی نامی کسی تخلیق کار کی شاعری سوشل میڈیا پہ بہت گردش کر رہی ہے۔ نظم ہے یا غزل ’معلوم نہیں اس مواد کو شاعری کی کون سی صنف میں شامل کیا جاسکتا ہے؟ میرے لئے یہ طے کرنا مشکل ہے کیونکہ میں خود ایک نیم خواندہ شخص ہوں۔ اس لئے فرض کرلیتے ہیں کہ یہ ایک نثری نظم ہے۔ بہرحال نظم کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت عام فہم ہے اور

Read more

میر صاحب، پہلے سے نہ سوچا تها انجام محبت کا؟

غالبا 2009 کا زمانہ تھا جب ہم کوئٹے کی ایک بڑی یونیورسٹی کے چھوٹے سے کیمپس میں نام نہاد تحقیقی مقالہ لکھنے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔ تبھی ایک دوپہر کینٹین میں جب ہم بیف بریانی جسے ہم گائے بریانی کہتے تھے اور بقول ہمارے ایک دوست کے درباروں میں اس طرح کی بریانی مفت ملا کرتی ہے اور ہمیں مبلغ 35 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں کھانے میں مشغول تھے کہ خبر آئی میر صاحب سینیٹر بن گئے۔ ایک

Read more

ہوئے پڑھ کہ ہم جو رسوا

کسی سیانے کا قول ہے کہ معاشرے میں آگاہی اور شعور اگر اجتماعی سطح پر ہو تو معاشرہ ترقی کی نئی منزلیں طے کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور اہمیت حاصل کرتا جاتا ہے۔ مگر یہی شعور محض انفرادی سطح پر ہو اور معاشرہ زوال پذیر ہو تو یہ شعور و آگہی اس فرد کے لئے کسی عذاب سے کم نھیں۔ بقول احمد فراز
عیسی نہ بن کہ اس کا مقدر صلیب ہے
انجیل آگاہی کے ورق عمر بھر نہ کھول

جبکہ حضرت جون ایلیا اس رمز اورتکلیف کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن

Read more