جنوبی کوریا میں ہائیک فار پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

14 اگست کا دن پاکستانی قوم کا محبوب ترین دن ہے، اس دن مملکت خداداد دنیا کے نقشے پہ وجود میں آئی۔ لہذا تمام پاکستانی اس دن کو خوب جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔ سمندر پار پاکستانی بھی اس دن سے اسی طرح عقیدت و محبت رکھتے ہیں جیسے پاکستان میں رہنے والے لوگ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانی اپنے قومی تہواروں خصوصا 14 اگست کے دن کو پاکستان میں موجود لوگوں سے بڑھ کر سیلیبریٹ کرتے ہیں تو بے جا نا ہو گا۔

دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح مشرق بعید کے ملک جنوبی کوریا میں بھی پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے۔ یہاں آباد پاکستانی باشندے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک ہیں۔ زیادہ تر لوگ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کرتے ہیں، دوسرے طبقے میں کثیر تعداد ہنر مند مزدوروں کی صورت جنوبی کوریا آتی ہے اور تیسرا طبقہ پروفیسرز، محقق اور طلباء پہ مشتمل ہے۔ کسی بھی ثقافتی و قومی تہوار پہ تمام پاکستانی بلا امتیاز بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

امسال جنوبی کوریا میں یوم آزادی کے دن 14 اگست کو ایک اچھوتے انداز میں منانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔ پروگرام کا آئیڈیا پاکستان ایمبسی میں تعینات کمیونٹی ویلفئیر اتاشی شفیق حیدر ورک صاحب کا تھا، جس کے مطابق یوم آزادی کے حوالے سے ایک ہائیک کی جائے گی جسے انہوں نے ”ہائیک فار پاکستان“ کا نام دیا۔ اس سے قبل سال رواں میں محترم شفیق حیدر ورک صاحب 23 مارچ کا قومی دن بھی 23 کلومیٹر کی دوڑ لگا کر پاکستان کے ساتھ اپنی قلبی وابستگی کا عملی مظاہرہ کر چکے تھے اور موجودہ ہائیک بھی اسی طرز پہ صحت مندانہ سرگرمیوں کا تسلسل تھی۔ پاکستان ایمبیسی کے مکمل تعاون کے ساتھ کمیونٹی کونسلر شفیق حیدر ورک صاحب نے ہمیشہ کی طرح پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی کے اس پروگرام کو بہتر سے بہتر بنانے کا بیڑا اٹھایا۔

جناب کمیونٹی کونسلر کی کاوشوں سے یوم پاکستان کی یہ ہائیک تمام پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے ایک مشترکہ مہم کی صورت اختیار کر گی۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا نے ہائیک کو مالی معاونت فراہم کرنے کی ذمہ داری لیتے ہوئے تمام شرکاء کے لئے سفید رنگ کی کیپ اور سبز رنگ کی شرٹس جس پہ ”ہائیک فار پاکستان“ تحریر تھا تیار کیں۔ ان کے قدم بہ قدم پاکستان اسٹوڈنٹس اینڈ اسکالرز ایسوسی ایشن نے فیلڈ میں تمام انتظامات کو احسن انداز میں سرانجام دیا۔

کوریا میں موجود پاکستانی سفیر عزت مآب رحیم حیات قریشی صاحب نے اس ہائیک کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہائیک فار پاکستان کے ساتھ ساتھ ہائیک فار کشمیر بھی ہوگی۔ چونکہ انڈیا نے حالیہ دنوں میں ایک غیر آئینی مہم جوئی کرتے ہوئے کشمیری عوام کے آئینی بندوبست پہ شب خون مارا ہے لہذا ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو اپنی آزادی کے دن قطعی طور پر فراموش نہیں کر سکتے۔

10 اگست بروز ہفتہ کو ہائیک فار پاکستان کا دن مقرر کیا گیا، اور ہائیک کا مقام شمالی سئیول میں موجود خوبصورت پہاڑ ”Bukhansan“ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ شمالی پہاڑ اپنی خوبصورتی میں بے مثال ہے، اس پہاڑ کی تین چوٹیاں ہیں جو بالترتیب 890، 456 اور 345 میٹرز بلند ہیں۔ کورین گورنمنٹ نے اس تمام علاقے کو نیشنل پارک کا درجہ دیا ہوا ہے۔ علی الصبح 7 بجے تمام شرکاء ہائیک کے مقام پہ پہنچ چکے تھے، اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر محترم عبدالناصر جو یہاں کوریا میں پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں وہ اور ان کی انتظامی ٹیم جن میں امین اللہ، مس قراہ العین، فصیح اللہ اور وسیم اقبال راؤ صاحب ہائیک میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔

پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے کمیونٹی کونسلر شفیق حیدر ورک صاحب اور ہیڈ آف چانسری میڈم سارہ سرور صاحبہ تشریف لائیں (میڈم سارہ سرور صاحبہ پاکستان ایمبیسی کوریا میں پہلی خاتون آفسر تعینات ہوئی ہیں، جو کہ ایک خوش آئند بات ہونے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک خواتین کی جدوجہد اور ملکی خدمت کے لئے بہترین مثال ہے ) ۔ یہ دونوں نوجوان آفسر کوریا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی خصوصا یوتھ کو ہمہ وقت ایسی دلچسپ سرگرمیوں میں مصروف عمل رکھتے ہیں جو ملک کی نیک نامی کا باعث ہوں، جس کی تحسین کی جانا ضروری ہے۔

بزنس ایسوسی ایشن کوریا (PBA) کے نائب صدر محترم مہر سرور صاحب بھی سینئیر سیٹیزن محمد اصغر بانگی صاحب اور اپنی ٹیم کے ہمراہ موجود تھے۔ PBA کی طرف سے شرکاء میں کیپ، شرٹس اور کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کی گئیں اور اس کے بعد کمیونٹی کونسلر محترم بھائی شفیق حیدر ورک صاحب نے شرکاءسے مختصر خطاب کیا جس میں انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ چونکہ پاکستان پہاڑوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے اور دنیا کے بڑے پہاڑوں میں 8 پاکستان میں موجود ہیں۔ دنیا بھر سے کوہ پیما قدرت کے بنائے ہوئے ان خوبصورت پہاڑوں اور حسین وادیوں کو دیکھنے کے لئے پاکستان کا رخ کرتے ہیں، لہذا ہم کوریا میں اس سال کا یوم آزادی کشمیری عوام کی جدوجہد اور پاکستان میں موجود بلند و بالا پہاڑوں کے نام کرتے ہیں۔

طلباء کی ایک کثیر تعداد کے ساتھ ساتھ کورین یونیورسٹیوں میں موجود پروفیسرز اور محققین کی ایک بڑی تعداد نے بھی ہائیک میں شرکت کی۔ ڈاکٹر دلیپ کمار، ڈاکٹر میاں صابر حسین، ڈاکٹر محمد عتیق، ڈاکٹر خان محمد، ڈاکٹر رضوان نقوی، ڈاکٹر بلال جنجوعہ، ڈاکٹر حماد اللہ اور ڈاکٹر عرفان بشیر صاحب اپنی شعبہ جاتی مصروفیت کے باوجود ہائیک میں شامل ہوئے اور نوجوان طلباءکی حوصلہ افزائی کی۔ ڈاکٹر مبینا ارشاد صاحبہ نے تین گھنٹے کی مسافت طے کر کے خصوصی طور پر ہائیک فار پاکستان میں شرکت کی جو ان کی وطن سے محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

تمام مرد و خواتین سبز رنگ کی شرٹس پہنے پاکستان زندہ باد اور کشمیر پائیندہ باد کے نعرے لگاتے جوش و ولولے سے منزل کی جانب رواں ہوئے۔ تقریبا تین گھنٹے کی مسلسل پہاڑی اونچائی کا سفر طے کرنے کے بعد ”شمالی پہاڑ“ کی چوٹی پہ سبز کاروان پہنچ چکا تھا۔ شدید گرمی اور حبس کے بعد پہاڑ کی چوٹی پہ تازہ ہوا کے جھونکے سب کو تازہ دم کر رہے تھے۔ یہاں سب لوگ تھوڑی دیر سستانے کو رکے اور انتظامیہ کی جانب سے اور اپنے ساتھ لائی گئیں کھانے پینے کی اشیاء بچھا کر بیٹھ گئے۔

تمام لوگ ایک دوسرے کو اپنی چیزیں کھانے کو پیش کر رہے تھے۔ اس کے بعد تمام شرکاء نے سبز ہلالی پرچم کے ساتھ تصاویر بنائیں۔ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کوریا کے سابق صدر بھائی زاہد حسین نے اپنی خوبصورت آواز میں پاکستانی نغمے گا کر شائقین کا دل موہ لیا۔ زاہد بھائی کے گائے ہوئے ترانے دل دل پاکستان جان جان پاکستان پہ وہاں موجود کورین لوگ بھی شگفتہ احساسات کا اظہار کرتے رہے۔ آخر میں نیشنل بینک آف پاکستان کے کنٹری مینیجر عمران شہزاد صاحب نے ہائیک کے انعقاد پہ چند اختتامیہ جملے کہے اور اس کے بعد ایک فلک شگاف نعرہ پاکستان زندہ باد پہ باقاعدہ طور پر ہائیک کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

اس کامیاب ہائیک کے انعقاد پہ پاکستان ایمبسی، پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا، پاکستان اسٹوڈنٹس اینڈ اسکالرز ایسوسی ایشن مبارک باد کی مستحق ہیں جنہوں نے وطن عزیز کی آزادی کے دن کو ایک خوبصورت انداز میں منایا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی اس خوشی میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں روح افزا مقام پہ ایک صحت مندانہ سرگرمی سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔

یہ ہائیک پاکستان کے یوم آزادی اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک نہایت ہی جامع اور پرزور انداز تھا۔ اور اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے سبز رنگ کی شرٹس پہنے پاکستانی پرچم سمیت کورین لوگوں کے درمیان اتحاد و یگانگت کا عملی مظاہرہ بھی۔ اس کے علاوہ یہ ہائیک فار پاکستان کورین لوگوں کے لئے جنوبی ایشیا کے خطے میں کشمیر کی صورت حال کو سمجھنے کے لئے بھی یقینی طور پر ایک جاندار پیغام تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •