جامعات میں جنسیات


اس بحث میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں تھا، جمیعت پہ کوئی وار تو درکنار، موضوع اٹھانے والے کے اعتراضات کی نوعیت کو بھی وجہ نہیں \"Rashidبناتے۔ جامعہ پنجاب میں موجود جمیعت پہ اخلاقی فرض عائد کرنے کی بات تو درست ہے البتہ آزاد خیالوں کی رنگین اور دھوئیں اڑاتی ہوئی نشستوں کو بھی دائرہ دکھانا چاہیئے خاص طور پہ تدریسی اداروں میں، مگر حکومتی فرائض میں بھی کچھ شامل ہے کہ وہ ایسی منظم کارروائیوں کو روکنے کا سد باب کرے جو ادارے کی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہوں ۔ایسی روشن خیالی جو سب کی آنکھیں چندھیا دے ، نہیں چاہیئے اور نہ ایسے گھپ اندھیرے کے جیسی بندشیں چاہیئں کیونکہ جنسی گھٹن کی فضا میں تحقیقی کام کا ہونا بہرحال ایک کار دشوار ہے۔ ترقی اور تنزلی کے فرق کو سمجھنے کے لیئے جنسی تفریق کی شدت کو ایک کسوٹی بنایا سکتا ہے۔ کیونکہ معاشرتی بینائی سے ہی معاشرے کے خیر اندیش ہونے کا پتہ چلتا ہے جتنے بھی مبالغے مان لیئے جائیں مگر ایک بات طے ہے کہ جامعہ پنجاب کی آب و ہوا میں جنسی گھٹن رہی ہے اور جمیعت کی اجارہ داری کو جامعہ سے باہر بھی تسلیم کیا جاتا رہا، اساتذہ کے مرعوب ہونے کے قصے بھی زبان زد عام رہے ہیں۔ علامہ مودودی نے جب\” خلافت و ملوکیت\” کو حاضر خدمت کیا تو بڑی کڑی تنقید آئی تو موصوف و محترم نے ایک بڑا تاریخی رد عمل دیا تھا انتہائی مختصر ا یوں مفہوم سمجھا جا سکتا ہے، \” جب معتقدین نے تنقید پہ سرد مہرانہ رویہ دیکھا تو حسب سابق گویا ہو ئے کہ حضور اس قدر نقطہ چینی پہ کچھ تو جواب دینا چاہیئے علامہ صاحب نے ارشاد کیا کہ میں رد عمل کی بحث میں الجھنا نہیں چاہتا\” ۔ اس میں اگر ایک بات کا اضافہ ہوتا تو آج کے دن یہ تاریخی جواب ایک اصول بن جاتا کہ تنقید کو سنا جائے اور جذباتی ہوئے بغیر اپنے موقف و منشور پہ نظر ثانی کر لی جائے کہ آخر کیوں اس طرح کہا جا رہا۔۔۔ مگر دیکھیئے یوں تو سڑکوں پہ آکے ایک ٹائر پہ موٹر سائکل بھی بھاگتی ہے ، سیٹیاں بھی بجتی ہیں، بس سٹیشنوں پہ گھورا بھی جاتا ہے، پیچھا بھی ہوتا ہے، مانیئے کہ صرف فلم یا ڈرامے میں ہی نہیں ہوتا ایسا حقیقتا ہوتا ہے۔ گزارش اتنی ہے کہ نظام جو رائج ہے وہ منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ توکل اور طاقت سے چل رہاہے۔ اب خواہشات رکھنے والے بے شک رکھیں مگر یہ ڈھیلے ڈھالے انداز ارباب اختیار کو بڑے بھاتے ہیں۔ لوگ اپنے شغل کرتے رہیں اس وقت تک کہ جب تک یہ لوگ ان کی طرف نہیں دیکھتے کیونکہ وہ اپنے دھندے میں مصروف ہیں بلکہ ڈوبے ہوئے ہیں ۔ انہیں خاک پرواہ ہے کہ انتظامی حالت اداروں کی کیا ہے۔

مکمل عاقل جب انسان نہیں ہے اور کامل وحدت والی ہستی کی صفت سے آگاہ بھی ہے تو اصلاح کی کو شش میں کونسی برائی ہے اور اگر کچھ بھی قابل اصلاح نہیں ہے تو پھر خلقت خدا کو اپنے اس دیوانے پن پہ فکر ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے اس جاہل رویئے کی دوری کا کوئی مناسب بندوبست کریں اور قدیم شعور کو دور حاضر میں کامیابی کا زریعہ بنا نے کا سوچیں۔ باقی دنیا بھی اس دیکھا دیکھی راہ راست پہ آ جائے گی اور آگے کی بجائے پیچھے کی طرف سفر کرے گی۔ جو حکماء مادر پدر آزادی کا سرنامہ بیرون ملک بیٹھ کے لگاتے ہیں وہ اصحاب دانش بظاہر تالاب میں ہیں مگر اکثر تالاب کے اندر بھی کنواں ہوتا ہے شاید وہ ایسے تالاب کے تیراک ہیں۔ انہیں بھی کسی درجہ تسلی ہو گی ان کو بھی یہاں کی فکر کھائے جارہی ہے لہذا ان کی تشویش بھی کچھ کم ہوگی۔ کیونکہ آزادی سے بہت زیادہ خوف اور خدشات جڑے ہوئے ہیں بطور خاص خواتین کی آزادی پہ گمان گنگ ہو جاتا ہے۔ ۔

جنسی قلت کی نفسیات کو کسی نہ کسی حرکت نے تو فروغ دیا ہے، دوپٹہ چادر اس تک چھوڑیئے صاحب جس نے زیب تن کرنا یا اوڑھنا ہے جب خدائے واحد نے پیدائش کے وقت مرد اور عورت کو ایک ہی حلیئے میں بھیجا تو براہ مہربانی آپ پردے کے نام پہ ان سے بنیادی حق تو نہ چھینیئے جبکہ بات کرنا یا بات کرتے ہوئے دیکھ لینا تو آگے کی بات ہے۔ ہم اپنے گھروں میں بھی بطور فرد ایک ادارہ ہیں بات بات پہ کہتے ہیں \”نطریں نیچی رکھو تم، تم ایک عورت ہو\” اور خود جس کے بطن سے جنم لے کے اس قابل ہوئے وہ بھی عورت ہے یہ ہم بھول جاتے ہیں ۔ جنسی تضاد اور خاص تعصب پہ مبنی حکم جو بحثیت مرد اپنی ماں، بہن اور بیٹی کو ہم دیتے ہیں، ہمیں جاننے میں نجانے کیوں دشواری ہے کہ زیادہ عرصہ ایسی ذہنیت کے ساتھ اور ایسی شدید پابندیوں کے ساتھ سماج کو جامد رکھنے کی کوشش کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ ترقی پسند سوچ کو باغیانہ قرار دینے کی سعی یقینا لا حاصل ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ وطن عزیز کی بڑی آبادی برہنہ ویب سائٹس کا شوق رکھنے کے لحاظ سے دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ لغویات اور چبھتی گفتگو کرنے میں ہم اپنی مثال آپ ہیں ، گفتگو کی روانی میں ہم بھول جاتے ہیں کہ سامنے اپنا ہی بیٹا موجود ہے، خیال کرتے جو اگر بیٹی ہوتی ۔اپنی اس حرکت سے ہم اپنی گفتگو کو برا نہیں کہتے البتہ اس کارنامے کو بیٹی کے ساتھ شرم کے رشتے کا لحاظ کہتے ہیں۔ نجانے ایسی حرکات کس ضابطے کے تحت گوارا کی جاتی ہیں۔ برقعے میں نکلنے والی خاتون کو نگاہوں کے تعاقب میں منزل تک پہنچانے کی واردات عام ہے جہاں تک بینائی کام کرے وہاں تک عمر کی حد ہے گویا کوئی حد نہیں ہاں البتہ کسی کی طرف انگلی اٹھانی ہو تو دیر نہیں لگتی۔ یہ سب نظارے روز مرہ کے ہیں اس کے لیئے کوئی خاص موقع اور محل نہیں چاہیئے کہ جس سے اس کارروائی کا خاص مشاہدہ ہو ۔ اب ایسے عالم میں اگر کہیں سے کوئی سوال آئے یا کوئی بات نکلے تو فکر کرنی چاہیئے کیونکہ ہم نے اس تنگ نظری میں جو مقام اب تک حاصل کیا ہے وہ قابل زکر نہیں ہے مگر سوچنا پڑیگا نہ کہ جزباتی ہو کر جواب داغے جائیں۔ ظلبا سیاست کا کردار بہت اہم رہا ہے تحریک پاکستان اور پھر قائد اعظم کی حوصلہ افزائی بھی طلبا سیاست کے حوالے سے رہی ہے مگر کیا کوئی ایسی سیاست ہو رہی ہے جو مزید گروپس بنانے کی بجائے کوئی ایسا فورم مہیا کرے کہ جہاں سب انسان ایک حیثیت رکھتے ہوں یا انکی اہمیت بطور انسان ہو نہ کہ مرد ، عورت، امیر ، غریب، سندھی ،بلوچی، پٹھان، پنجابی اور کشمیری بن کے ہم اقوام عالم میں کسی امتیازی مقام کے حصول کا عزم لیئے بھٹکتے رہیں ۔ کوئی بھی ایسی سوچ دنیا کی تاریخ میں مثبت ثابت نہیں ہو سکی کہ جو اپنے اندر تبدیلی اور لچک کی خوبی نہ رکھتی ہو اس کیساتھ ہی ساتھ دنیا میں کہیں متشدد اور جبری موقف بھی کبھی خوشگوار اور قابل قبول ماحول نہیں پیدا کر سکا۔ آج ہماری سب سماجی اکائیاں تنظیم نو کی متقاضی ہیں، خاندانی نظام بھی بہت سے سوالات اٹھا رہا ہے۔ ہم ان تمام شدتوں کو اپنی تمام تر جزباتی وابستگیوں کیساتھ رائج نہیں رکھ سکتے،،، لوگوں کو محدود شعور کیساتھ زندہ رکھنا ایک غیر فطری تقاضا ہے۔ ہر آدمی غور و فکر کے زریعے دریافت کرنے کی صلاحیت کو حاصل کر رہا ہے۔ وہ تمام عناصر جنہوں نے جنسی تفریق کے زریعے کسی ضابطے کو نافز کرنے کی راہ بنائی ہے اب لوگ ان عناصر کی مداخلت کو جائز نہیں سمجھ رہے اور یہ کسی فرد کا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کو سمجھ کے جیئے۔ بؑعض اوقات \”مادر پدر\” آزادی کو دھر لیا جاتا ہے اور کبھی معاشرتی فریضے کا سنہری پنجرہ پیش بنایا جاتا ہے۔دراصل انسان کا شرف آزادی ہی ہے چاہے اسے جو معنی پہنا دیئے جائیں، باقی مادر اور پدر آزادی شعوری بلوغت کے بعد اس حد تک فائدہ مند نہیں ہوتی جتنا عموما خیال کی جاتی ہے۔ احتیاط اور آزادی کسی فرد کی تربیت میں معاون ہوتے ہیں مگر کوئی یہ کہے کہ جکڑ بندی اور تنگ نطری سے معاملات کو سنبھالا جائے گا ان کے لیئے یقینا کچھ زیادہ اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ وقت کا اپنا بہاو ہے اور اس میں غیر فطری رکاوٹیں جس جواز کے تحت ڈالی جائیں حوصلہ افزا نتائج قطعی برآمد نہیں ہوتے۔ ہمٰیں گر وہی زہنیت کے تحت ابھرنے والی سوچ سے جلد ہی جان چھڑانی ہو گی اگر ہم واقعی ملک و معاشرے کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ جامعات کو غیر جانبدار اور خود مختیار تعلیمی اور تحقیقی مراکز میں ڈھالنا پڑیگا کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے اپنے ارد گرد کی سماجی زندگی کو برداشت کے ساتھ گوارا کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS