پاکستانی شوہر مدینہ منورہ میں عمرے کے دوران بیوی کو اکیلا چھوڑ کر کسی اور خاتون کے ساتھ چلا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی شوہر نے بیوی کو عمرے کی ادائیگی کے لے کر جانے کے بعد مدینہ میں اکیلا چھوڑ دیا۔ مذکورہ شخص مدینہ میں کسی اور خاتون کے ساتھ چلا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر موجود ایک ویڈیو میں ایک خاتون مدینہ منورہ میں پاکستانی عورت کے ساتھ پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ بیان کرتی ہے۔

خاتون کا ویڈیو میں کہنا ہے کہ رات تین بجے کا وقت تھا جب میں مسجد نبوی میں اپنی عبادت میں مصروف تھی کہ میں نے دیکھا ایک پاکستانی عورت مسجد کے وسط میں کھڑی ہے اور کسی کو تلاش کر رہی ہے۔ جب میں نے اس خاتون سے پوچھا کہ وہ اس طرح یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہے تو اس کا کہنا تھا کہ مجھے میرے شوہر نے دھوکہ دیا ہے اور مدینہ منورہ میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر کسی اور عورت کے ساتھ چلا گیا ہے۔

ویڈیو میں خاتون کا کہنا ہے کہ جب اس پاکستانی خاتون کو مسجد کے مرکزی حکام کے پاس لے کر جایا گیا تو وہاں پر تین آدمی موجود تھے۔ جو خاتون کو دیکھ کر مسکرانا شروع ہو گئے جب کہ خاتون کی آنکھوں میں اس وقت آنسو تھے۔ جب خاتون نے پوچھا کہ یہ تینوں مرد تمہیں اردو میں کیا کہہ رہے ہیں تو پاکستانی خاتون کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ میں ڈرامہ کر رہی ہوں اور میرے شوہر نے مجھے کوئی دھوکہ نہیں دیا۔ کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی شوہر اپنی بیوی کو عمرے کے دوران دھوکہ دے۔

خاتون نے پاکستانی عورت کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اپنانے پر حکام سے اہلکاروں کی شکایت لگا دی۔ اور یہ بھی بتایا کہ اس خاتون کے پاس گھر واپس جانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔اس ویڈیو میں خاتون نے عورتوں کے ساتھ لوگوں کے غلط رویوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔خاتون کا کہنا ہے کہ ہمیں اس طرح کے موضوعات پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔ اور خواتین کو ایک دوسرے کو طاقتور بنانا چاہئیے۔

خاتون کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی مرد عورت کے ساتھ ایسا سلوک کرے تو عورت کو پورا حق ہے کہ وہ اس مرد سے خلع لے کر اس سے علیحدگی اختیار کر لے۔ اس صورت حال میں خاتون کو اپنے آپ کو قصور وار نہیں ٹھہرانا چاہئیے کیونکہ اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •