آزادی تو آج کے دن مل گئی تھی۔۔۔  رات کا جنگل اس کے بعد پھیلا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج چودہ اگست ہے ، ہمارے پیارے وطن پاکستان کا جنم دن !

ہمارا یوم آزادی، برطانوی سامراج سے آزادی!

لیکن کیا یہ وہی پاکستان ہے جو چودہ اگست کو دنیا کے نقشے پہ ابھرا؟

کیا آج اس کے جغرافیائی خدوخال وہی ہیں جو انیس سو سینتالیس میں تھے؟

آپ خاموش کیوں ہو گئے ؟ کیا ججھک مانع ہے جواب میں ؟

یقیناً یہ وہ وطن نہیں ہے جو ہم نے برسہابرس کی جہد مسلسل کے بعد حاصل کیا۔ یہ وہ سرزمین نہیں ہے جس سے ہمارے سفر کا آغاز ہوا۔

خواہشوں کی ایک طویل جنگ جس کا آغاز اس خطے سے ہوا، جہاں کے لوگ اس جدوجہد میں ہمارے ہمرکاب ہوئے، قربانیاں پیش کرنے میں پیچھے نہ رہے اور جب تھکے ہارے مسافروں نے منزل مراد پا لی، خوشیوں کی سرزمین ٹھکانہ بن گئی تو برسوں ساتھ چلنے والے ساتھی اجنبی بن کے رہ حیات میں ہم سے بچھڑ گئے اور وطن عزیز کے ٹکڑے کر کے ایک علیحدہ دیس بسا بیٹھے۔

سینتالیس سے اکہتر، کوئی ایک دو برس نہیں چوبیس سال کی کہانی ہے اور اس کہانی کا اتنا درد ناک انجام کیوں ہوا؟

اگر مذہب کے نام پہ ملک بنا تھا تو ایک ہی نبی کا کلمہ پڑھنے والے تھے دونوں طرف، ایک ہی آئیڈیالوجی کے ساتھ سفر شروع کرنے والے ایک دوجے سے اتنے متنفر کیوں ہوئے کہ محبت کی شہ رگ ہی کاٹ دی۔

کچھ یوں سمجھ میں آتا ہے کہ درمیان میں شاید غلط فہمیوں کا انبوہ تھا یا نیتوں پہ شکوک و شبہات کا سمندر حائل ہو گیا۔ شاید مفادات کی تقسیم میں ڈنڈی ماری گئی، جو بھی کہہ لیجیے لیکن تعصبات کی دھیمی لو کو آگ بنانے والے نام بے شمار تھے۔

ایک ہی ملک کے رہنے والوں میں ہزاروں میل کا فاصلہ حائل تھا۔ زبان و کلچر کا فرق موجود تھا۔ نہ وہاں کے باسی ہم سے مل سکے، نہ ہم پٹ سن کی سرزمین کو جان سکے، شاعر کہتا رہا

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

وہ کشتیاں جلانے والے کیا ہوئے

بدقسمتی یہ ہوئی کہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوا کہ دونوں طرف عوام ایک ہی طرح سے زندگی بتاتے تھے۔غربت اور جہالت ایک ہی طرح دونوں کا مقدر تھی۔ زندگی سے جنگ دونوں طرف تھی۔ خواب یہاں بھی دیکھے جاتے تھے وہاں بھی، منزل پہ پہنچنے کی چاہ ادھر بھی تھی اور ادھر بھی، ولولےاور عزم سے لبریز جذبات یہاں بھی تھے اور وہاں بھی، محبت اور حب الوطنی یہاں بھی تھی اور وہاں بھی !

پھر یہ بے اعتمادی کی آندھی کیسے چلی، نفرت کی دیوار کیسے اٹھی، آگ اور خون کا کھیل کس نے کھیلا ! اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔

اس کھیل کو کھیلنے والے وہی لوگ تھے جو ذاتی مفاد کی خاطر قومی مفاد قربان کر دیا کرتے ہیں۔ مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے مشرقی پاکستان کو ہمیشہ ادنیٰ جانا۔ مشرقی پاکستان میں اپنےاللے تللوں سے وہ منظر پیش کیا جو مغربی پاکستان میں بھی ایک فیصد ہی کا خاصہ تھا۔ مشرقی پاکستان کے باسی بھی اپنی آنکھوں پہ غلط فہمی کی پٹی باندھے رہے۔ دونوں طرف کے رہنماؤں نے اپنی انا کی خاطر لہو کی ندیاں بہا دیں۔ اس کشمکش میں ٹوٹ گیا رشتہ چاہ کا۔

کیا تھا اگر اقتدار مجیب الرحمن کے حوالے کر دیا جاتا ؟ کیا بگڑتا اگر دارالحکومت ڈھاکہ ہو جاتا ؟ کیا ہوتا اگر مغربی پاکستان کے رہنما دھیمے پڑ جاتے؟ کیا فرق پڑتا اگر بنگلہ زبان کو احترام دیا جاتا؟

اس سب کا فائدہ یہ ہوتا کہ مشرقی پاکستان والوں کے ابلتے جذبات پہ چاہ کی کچھ بوندیں اترتیں، کاکس بازار کے ساحلوں پر بادبانوں میں یگانگت کی ہوا بھر جاتی، کچھ زخموں پر مرہم رکھا جاتا اور آج شاید ہم اسی پاکستان کا جنم دن مناتے جو قائد کا پاکستان تھا!

ہمارے یہان اومان میں بہت سے ساتھی بنگلہ دیش سے ہیں۔ کبھی کبھی ہم فرط جذبات سے کہہ اٹھتے ہیں “کبھی ہم تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو” جواب میں الفاظ نہیں ملتے، بس ایک استہزایہ مسکان۔

چودہ اگست کا جشن مناتے ہوئے اس بات کا ذکر قومی سطح پہ ضرور ہونا چاہئے کہ موجودہ پاکستان کا یہ جغرافیہ کیسے اور کیوں بنا ؟

 ہماری آج کی نسل کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان تو مل گیا تھا، اسے قوم بنانے میں ہم نے کیسے مات کھائی؟ ہم نے اپنی ہی بچھائی بساط پہ بازی کیسے ہاری؟ ہمیں ہماری کوتاہیوں کی کیسی سزا ملی؟ ہم اپنے ہی بھائیوں کے لئے غاصب کیسے ٹھہرائے گئے؟ ہمارے گھر میں نقب کیسے لگی؟

چودہ اگست متقاضی ہے کہ ہم خفا ہو کے بچھڑ جانے والوں کو یاد رکھیں۔ بالکل ایسے ہی، جیسے گھر میں جنم دن مناتے ہوئے گئے ہوؤں کو یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور اپنی زیادتیوں پہ پشیمان ہوتے ہوئے کہا جاتا ہے، اے کاش!

ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کے مستقبل کی راہ سیدھی کرنا زندہ قوموں کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔ شاید اپنے گریبان میں جھانک کے اپنا احتساب ہماری آئندہ کی راہ کھوٹی نہ ہونے دے۔ آج جو امتحان وطن عزیز کو پیش ہیں، اس گرداب سے نکلنے کا حل شاید اپنے آپ سے کیے بہت سے سوالوں کے جواب میں پنہاں ہو۔ مگر اس کا کیا علاج ہے کہ غداری کے سرٹیفیکیٹ تو آج بھی بانٹے جا رہے ہیں، اختلاف کو آج بھی گردن زدنی سمجھا جاتا ہے۔ اقتدار اہرمن کے سنگھاسن پر ہے اور نسابی نسخے سے انحراف کے مجرم بندی خانوں میں ہیں۔

یوم آزادی مبارک !

لیکن یوم آزادی پر کم از کم یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دسمبر 1971 کے سانحے کے ٹھیک تین ماہ بعد دنیا چھوڑ جانے والا ایک مانوس اجنبی ہمارے ہی بارے میں یہ کہتے ہوئے رخصت ہوا تھا:

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا

زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

The founder with the future usurper
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •