دوا نہیں، دعا نہیں، اب صرف بد دعائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمار ے کلچر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ ہم نمازوں، نمازِ جمعہ اور دیگر مذہبی تقریبات کے دوران لبمی لبمی اور خشوع و خضوع سے عاری دعائیں کرنے میں ید طولٰی رکھتے ہیں۔ دعا جو خالص اللہ اور بندے کے درمیان مخلصانہ تعلق اور رابطے کا نام ہے، ہم نے اسے بھی رعایا کاری، دکھاوے اور نمود و نمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے بلکہ آج کل تو نعت خوانوں اور ذاکروں کی طرح پیشہ ور دعا خوان بھی شہرت پا چکے ہیں جو معقول معاوضہ لے کر موقعے کی مناسبت سے اس قدر رقت انگیز اسلوب میں دعا کرواتے ہیں کہ سماں بندھ جاتا ہے۔ جمعے کی نماز کے اجتماعات کے دوران میں ہمارے علما ئے کرام خاص طور پر جلال کی کیفیت میں یہود و ہنود اور عالم کفر کی تباہی و بربادی اور دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بد دعائیں کر کے اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ کئی نمازی تو ر واداری اور رکھ رکھاٶ کی وجہ سے لمبی لمبی دعاٶں میں پھنس جاتے ہیں اور نہایت ضروری کام نمٹانے میں نا کام رہتے ہیں۔

ایک ریڑھی بان اور اس کا بیٹا بھی جب روزی روٹی کا پہیا چلاتے ایک مسجد کے باہر پہنچے تو جمعے کی نماز کھڑی ہونے والے تھی۔ باپ نے بچے کو ریڑھی کی حفاظت پر مامورکیا اورخود نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد چلے گئے۔ نمازتو خیر پانچ منٹ میں ختم ہو گئی مگر نماز کے بعد مولوی صاحب کی طولانی دعاٶں اور بد دعاٶں میں سخن گسترانہ بات پڑ گئی۔ مسجد کے اندر باپ کا دھیان بار بار باہر ریڑھی اور بیٹے کی طرف جاتا رہا اور باہر بچہ ریڑھی پر بیٹھا اونگھتا رہا۔ جب انتظار اور اضطرار کی انتہا ہو گئی اور مولوی صاحب کی بد دعائیں ختم ہونے میں نہ آئیں تو باپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو اس نے اندر ہی سے بآ واز بلند اپنے بچے کو مخاطب کر کے کہا کہ ”بیٹا تم ریڑھی لے کر گھر پہنچو میں ادھر دعا میں پھنس گیا ہوں“

یہ واقعہ ہمیں پاکستان کے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی کا یہ بیان پڑھ کر یاد آیا جس میں انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے اللہ تعالٰی کی بے آواز لاٹھی کے اچانک حرکت میں آنے کی بددعا کی ہے۔ اس بددعا کے فوراً عرش الہٰی تک پہنچ کر مودی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے میں ہمیں اس لیے شبہ نہیں کہ شاہ صاحب گدی نشین، پہنچے ہوئے بزرگ اور پیر طریقت ہیں۔ مگر اہل پاکستان و کشمیر کے لیے حقیقی خوش خبری یہ ہے کہ ایک پیج والی حکومت میں اب علمائے کرام اور مفتیان عظام کے علاوہ خانقاہ والے بھی شامل ہو گئے ہیں۔

وہ جو شاعر مشرق نے انہیں خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری ادا کرنے کی تاکید کی تھی، شاہ صاحب کا مذکورہ بیان ان کے لیے نہایت اطمینان بخش ہے۔ یہی نہیں چند روز پیشتر ہماری ریاست مدینہ والے وزیر اعظم بھی ببانگ دہل اعلان فرما چکے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور وہ بھارت کے خلاف جنگ اس لیے بھی نہیں کر سکتے کہ اس میں ہمارے شکست کھانے کے سو فیصد امکانات ہیں۔ نواز حکومت میں یہود و ہنود اور نصرانیوں کو غزوہ ہند کے لیے للکارنے والے اور افغانستان، پاکستان اور ایران کی سر زمین کو مشترکہ طور پر اس کا نقطہ آغاز بتانے والے بھی مودی کے کشمیر پر قبضے کے بعد دم سادھے بیٹھے ہیں۔ تاہم یہ جھنڈا آج کل وینا ملک، علی امین گنڈا پوری ”شہدوی“ اور مراد سعید جیسی ولولہ انگیز قیادت نے اپنے طور پر تھام لیا ہے۔

ہم ایک پیج بلکہ کئی پیج اور پیچ در پیچ والی حکومت کو یہ مفت مشورہ دیں گے کہ اگر بات واقعی دعاٶں، کوسنوں، طعنوں اور بد دعاٶں تک آ گئی ہے تو حکومت کو ماتم گساروں اور مرثیہ خوانوں کی میرٹ پر بھرتی کا آغاز کر دینا چاہیے۔ اس کام کے لیے ہمارے ہاں ایک مٶثر جنس بہت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے جسے ہمارے کلچر میں تیسری جنس یا تیسری قوت کا نام دیا جاتا ہے۔ کشمیر کا جو مسئلہ اکہتر سال تک دو قوتیں حل نہ کر پائیں ممکن ہے ”تیسری قوت“ یہ مسئلہ حل کر دے۔

سنا ہے آئی ایس پی آر نے مثبت خبروں کے فروغ اور ایک پیج والی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والے غداروں اور ملک دشمن عناصر کی طبیعت کی صفائی کے لیے بھاری معاوضوں کے بدلے دس ہزار جوانوں پر مشتمل ایک  بریگیڈ بنایا ہے۔ اس کی جگہ حکومت اگر پیشہ ور اور تجربہ کار بد دعائیں دینے والی فوج کی بھرتی پر توجہ دے تو ان کی کارکردگی سے نہ صرف ملک میں موجود غیر محب وطن گماشتوں کا قلع قمع ممکن ہے بلکہ مسئلہ کشمیر بھی فوراَ حل ہو سکتا ہے۔

بلکہ آج ہم ملک کو معیشت، افراط زر، مہنگائی، سٹاک ایکچینج کی مندی، زراعت و صنعت کی زبوں حالی، غربت، بے روزگاری، بی آر ٹی منصوبے او دیگر الجھے ہوئے مسائل کے فوری حل کے لیے بھی یہی تیر بہدف نسخہ استعمال کر سکتے ہیں۔ بد دعاٶں کی سپاہ کے طفیل کشمیر کی آزادی کے بعد ہم اس لشکر جرار کو افغانستان، فلسطین، عراق، ایران اور دیگر ممالک اور خطوں کو برآمد کر کے بھاری زر مبادلہ کما سکتے ہیں۔ آزمائش شرط ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •