کشمیر کی بندوق دھوپ میں رکھنے سے ٹھس نہیں کرے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈوگرہ حکمرانوں نے کشمیریوں کے بارے میں بہت سے لطیفے بنا رکھے تھے جن میں سے سب سے مقبول لطیفہ یہ تھا کہ جب کشمیریوں کو فوج میں بھرتی کیا تو وہ بندوق چلانے سے گھبرا کر بندوقیں چھوڑ کر بھاگ گئے جب انہیں پکڑ کر افسر کے سامنے پیش کیا گیا اور استفسار ہوا کہ بندوقیں چھوڑ کر کیوں بھاگے تو کشمیریوں نے جواب دیا آپی تپ سے تے ٹھس کر سیں یعنی خود ہی گرم ہوں گی تو بندوقیں چل جائیں گی۔

ظاہر ہے سکھوں اور ہندوؤں پر بنائے گئے پاکستانی لطیفے اور پاکستانیوں پر بنائے گئے انڈین لطیفوں کی طرح اس میں سچائی بالکل نہیں بلکہ یہ مخالف کو نیچا دکھانے کی ایک سستی حرکت ہے۔

یہ پرانا لطیفہ پاکستان کی کشمیر پر موجودہ خارجہ پالیسی دیکھ کر یاد آیا۔ ہمارے وزیر اعظم سوال پوچھ رہے ہیں آپ بتاؤ میں کیا کروں جنگ چھیڑ دوں۔ ہمارے وزیر خارجہ قوم کو بتا رہے ہیں کہ قوم کسی غلط فہمی میں نہ رہے مسلم امہ ہمارا ساتھ نہیں دے گی۔

کچھ چیزیں خارجہ معاملات میں گرے ایریاز کہلاتے ہیں یعنی مکمل جنگ یا مکمل سرینڈر کے درمیان کے کچھ اقدامات۔ جیسے ہمارے وزیر اعظم عید کی نماز مظفرآباد پڑھ سکتے تھے۔ اس دن ایک جلسہ بھی ارینج ہو سکتا تھا۔

عالمی عدالت انصاف دوسرا آپشن تھا جس میں مسئلہ لے جانا مقدمہ جیتنے سے زیادہ اسے انٹرنیشنل میڈیا میں ہائی لائٹ کرنا ہوتا۔

اسکے بعد پاکستانی ٹیم کا جاپان کا دورہ جس میں ایٹم بم کے بعد کے اثرات کا جائزہ لیا جاتا اور قوم کو ایٹمی حملے کے اثرات اور حملے سے بچاؤ کے طریقے ریڈیو ٹی وی پر دکھائے جاتے اس سے دنیا پر یہ غیر اعلان شدہ فیصلہ جاتا کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان آخری حد تک جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اور دنیا کا امن اور ماحول اس مسئلے کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جائے گا۔ اگر عرب برادران یوسف کے مفادات بھارت سے جڑے ہیں تو دنیا کو کشمیر میں سٹیک ہولڈر بنانے کا یہی ایک طریقہ بچتا ہے اور پاکستان کو یہ کارڈ ضرور کھیلنا چاہیے۔

لیکن یہ چیز سمجھ سے بالاتر ہے کہ قوم کو خود ترسی میں کیوں مبتلا کیا جا رہا ہے کیا ہمارے پاس واقعی کوئی آپشن نہیں بچا یا مشرقی پاکستان کے معاشی بوجھ کی طرح کشمیر کا بوجھ بھی اتارنے کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کر چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •