اب کشمیر کے لئے فقط نغمے اور جی بی کے لئے۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

70 کی دہائی میں بھٹو والی پی پی پی کے ممبر مخدوم سجاد حسین قریشی نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگنے کے بعد فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی صدارت کو سپورٹ کیا۔ تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہنے والے اور پھر ضیا الحق کی مہربانی سے گورنر پنجاب بننے والے انہی سابق سینیٹر صاحب کے صاحبزادے شاہ محمود قریشی موجودہ وزیر خارجہ پاکستان ہیں۔ شاہ محمود قریشی کیمبرج یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں؛ سن 80 کی دہائی کے وسط میں ضیا الحق کے تاریک زمانے میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونیوالے الیکشن میں ملتان سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہونے کے بعد سن 1986 میں ابتدا میں پیپلز پارٹی کی مخالفت کے لئے بنے ضیائی اتحاد آئی جے آئی اوراس اتحاد کی بڑی اور اہم رکن جماعت مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔

ضیا الحق کی ہلاکت کے بعد مسلم لیگ دو دھڑوں میں بٹ کر ایک دھڑا مسلم لیگ این کی شکل میں نواز شریف کی قیادت میں آگیا تو شاہ محمود قریشی اس کا حصہ بن گئے۔ اس کے ممبر کے طور پر 1988 کے الیکشن میں دوبارہ صوبائی سیٹ پر منتخب ہوکروزیر اعلیٰ نواز شریف کی کابینہ میں پنجاب کے وزیر ترقیات و منصوبہ بندی بن گئے۔ تیسری مرتبہ 1990 کے الیکشن میں ملتان سے منتخب ہوکر جونیجو والی مسلم لیگ کی حکومت میں میاں منظور وٹو کی پنجاب کابینہ کا بطور وزیر خزانہ حصہ رہے۔ مگر تین سال بعد سن 1993 میں قریشی صاحب پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔

سن 1993 کے جنرل الیکشن میں قومی اسمبلی کی سیٹ پرپہلی مرتبہ منتخب ہوکربینظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور بن گئے اور 1996 میں پارٹی ترجمان قرار پائے۔ جاوید ہاشمی نے 1997 میں انہیں شکست دی اور 5 سال کے عرصے کے لئے قومی سیاست سے اؤٹ ہوگئے۔ سن 2000 سے لے کر 2002 تک وہ ملتان کے سٹی ناظم رہے اور پھر 2002 کے جنرل الیکشن میں جاوید ہاشمی کو ہرا کر دوبارہ قومی اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

2006 میں بینظیر بھٹو نے انہیں پی پی پنجاب کا صدر نامزد کردیا اور تیسری مرتبہ 2008 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کی ملتان کی نشست پی پی کی ٹکٹ پر جیت گئے۔ وہ وزارت عظمیٰ کے موزوں ترین امیدوار سمجھے جاتے تھے مگر گیلانی کی کابینہ میں وزارت خارجہ کا عہدہ ملا، جسے بعد ازاں سن 2011 میں امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے ایشو پر واپس لیا گیا۔ قریشی کو وزارت پانی و بجلی کی آفر کی گئی، جسے انہوں نے ٹھکرا دیا، تاہم انہوں نے چند ماہ بعد قومی اسمبلی کی نشست چھوڑتے ہوئے پی پی سے اپنا بیس سالہ طویل تعلق ہی توڑ ڈالا۔

پی پی کو زرداری لیگ قرار دیا۔ 2011 کے آخر میں انہوں نے پی ٹی آئی کو نون لیگ پر ترجیح دیتے ہوئے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کے پہلے وائس چئیرمین قرار پائے۔ 2013 اور پھر 2018 کے الیکشن میں وہ تحریک انصاف کی ٹکٹ سے قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے اس طرح اگست 2018 میں قریشی صاحب وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ قرار پائے۔

در اصل کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ جو وزارت خارجہ کے اہم ترین عہدے پر متمکن ہے وہ شخص ملک کی تین چوٹی کی جماعتوں میں حکومتی عہدے انجوائے کرتے آئے ہیں۔ سیاست کے پیچ و خم اور ملکی و غیر ملکی معاملات میں خارجہ و داخلہ امور سے بہت اچھے طریقے واقف ہیں۔ ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ ان جماعتوں کے کون کون سے لوگ کن کن ایشوز پر کتنے پانی میں ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں کے عوام کشمیر کے حوالے سے اور کشمیر کی عوام دیگرعلاقوں کی بابت کیسی سوچ رکھتے ہیں۔

سو انہیں گلگت بلتستان (جی بی) اور اس کی جغرافیائی و عوامی امور سے بھی واقفیت ہوگی۔ انکوجی بی کی عوام کے مطالبات ان کے مسائل اور ملکی معاملات میں اس خطے کی اہمیت سے بھی یقیناً آشنائی ہوگی۔ اتنے تجربہ کار 63 سالہ وزیر نے گزشتہ دنوں آزاد کشمیر میں واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ”پاکستان گلگت بلتستان کی پوزیشن بالکل بھی تبدیل نہیں کرنے جارہا۔“ کیونکہ ان کے بقول ”اس سے کشمیرایشو پر پاکستان کا کیس کمزور ہوگا۔“ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیرکو ہندوستان نے سن 1954 میں اپنے آئین میں شامل کرکے اسمبلیوں میں نمائندگی دی، اور اسپیشل قوانین کے حقوق سمیت ریاستی اسمبلی بھی دے دی۔

کشمیر کی اکثریتی آبادی اور علاقے پر انڈیا نے قبضہ جمائے رکھا مگرپھر بھی کشمیر پر انڈیا کا کیس کمزور نہیں پڑا۔ بھٹو جیسا سیاستدان جس نے پاکستان کو 73 کا آئین دیا، انہوں نے بھی شاہ محمود والے اسی فارمولے، بہانے بلکہ مفروضے کے تحت انڈین آئین کے بننے کے بیس سال بعد بننے والے پاکستانی آئین میں گلگت بلتستان کی حیثیت کو واضح کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے پر اکتفا کیا۔ آج گلگت بلتستان کی لاکھوں آبادی ملکی معاملات سے لاتعلق، جمہوری حقوق سے محروم اور یہاں کی زمینوں پر دوسرے صوبوں کے لوگ آباد ہورہے ہیں مگر کشمیر پر پاکستان کے کیس کو کوئی طاقت نہیں مل رہی۔

اور شاہ محمود قریشی کی مدبرانہ قیادت میں پھلتی پھولتی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ وہ خود آزاد کشمیر کے دارالحکومت میں کھڑے ہوکر مسلم امہ کو انڈیا کے ساتھ جڑے مفادات سے منسوب کرنے پر مجبور اس لیے ہے کیونکہ امہ امہ کا شور کرنیوالے ممالک نے لاکھ کوشش کے باوجود کشمیر کے ایشو پر پاکستان کے فیور میں رسمی بیان بھی دینا ضروری نہیں سمجھا۔ ماضی میں شاہ محمود کے قریبی تعلقات رہنے والی اسوقت کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے چوٹی کے رہنماؤں سمیت حکمران جماعت اور مسلم امہ کے چمپین وکیل سمجھی جانیوالی ملکی جماعتیں بھی اس ایشو پر وہ کچھ کرتی نظر نہیں آرہی جو اس سے قبل دیکھنے کو ملتا تھا۔

سو لگتا ایسا ہے کہ چند ہفتے شور شرابے کے بعد معاملہ کسی اور ایشو کی نذر ہوکر ٹھنڈا پڑجائے گا۔ وزیر اعظم دوسرے ممالک کے سربراہان کو کالیں ملا ملا کر خبریں لگواتے رہیں گے، اور تجربہ کار وزیر خارجہ تین چار ممالک کے دورے بھی کر آئیں گے۔ سلامتی کونسل جہاں سے کشمیر سے متعلق غالبا بیس سے زیادہ قراردادیں پاس ہوچکی ہیں وہ انڈیا کا ابتک کچھ بگاڑ نہیں سکی تو اب کیا اکھاڑ سکے گی؟ پاکستانی عوام پھر یونہی کشمیر کے لئے نعرے اور نغمے گاتے رہیں گے اور انڈیا والے کبھی کبھار اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا نام لیا کریں گے۔ جوکہ کشمیر کی اکثریتی رقبے اور عوام کو پہلے ریاستی حقوق کے ساتھ جکڑے رکھنے کے لئے کافی تھا اب یہی باقاعدہ آبادکاری اور دیگر امور کو مقبوضہ خطے میں انجام دینے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ہوگا۔

چودہ اور پندرہ اگست بالترتیب پاکستان اور انڈیا کی آزادی کے دن ہیں، سو دونوں ملکوں کی عوام کوایام آزادی مبارک۔ تجربہ کار وزیر خارجہ صاحب نے ایک بار پھر یہ بات ہمارے لوگوں کو یاد دلادی ہے کہ حکومت پاکستان کے مطابق ہم گلگت بلتستان والے پاکستانی کسی صوبے کے باسی ہیں اورنہ ہی گلگت بلتستان کو ملکی آئینی حقوق مل سکتے ہیں۔ ہم خود کوکسی ہندوستانی ریاست کے باسی بھی نہیں سمجھ سکتے۔ رہی بات کشمیر کی تو گلگت بلتستان پر کشمیری حکمرانوں کا غاصبانہ قبضہ تھا، جس سے ہمارے بزرگوں نے جنگ لڑ کر ہمیں آزاد کیا، سو ہمارا خطہ کشمیر کا عملًا اور قانوناً حصہ نہیں رہا۔

اس لیے ہم اپنے بزرگوں کو جنہوں نے اکتوبر 1947 سے لے کر اگست 1948 تک جنگیں لڑ کر اس خطے کو ڈوگروں کی غاصب و جابر حکومت سے آزاد کیا، ان کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اور اگست 1948 میں چونکہ موجودہ گلگت بلتستان کے تمام علاقے ڈوگروں سے آزاد ہوگئے، اس لیے اپنے عوام کو بھی آزادی کی مبارکبادی دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •