عملی سوچ کا فقدان کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روزمرہ زندگی کے کچھ رویے پریشان کن ہیں۔ جیسے عام سی باتوں کو نہ سمجھنا، گومگو کی کیفیت، شک کرنا، مشاھدے کی کمی اور ذاتی ذمے داری کا فقدان وغیرہ وغیرہ۔ سمجھ کا تعلق حواس خمسہ کی بہتر کارکردگی میں پوشیدہ ہے۔ ہماری پانچ ظاہری حسیں ہیں۔ جیسے باصرہ، سامعہ، لامسہ، ذائقہ، شامہ وغیرہ۔ باصرہ کا کام دیکھنا یے، سامعہ کا سننا، لامسہ کا چھو نے کے وسیلے کا اندازہ کرنا، ذائقہ کا چکھ کر، شامہ کا سونگھ کر فریضہ سرانجام دینا یے۔ جبکہ باطنی حواس خمسہ میں واہمہ، مصورہ، متخیلہ، حافظہ اور حس مشترکہ وغیرہ آجاتے ہیں۔ چھٹی حس کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے جو جو غیرمعمولی خیال کی قوت تصور کی جاتی ہے۔

ادراک/ سمجھ کے دو حوالے ہیں، یعنی عام سمجھ اور غیر معمولی سمجھ۔ عام سمجھ یا کامن سینس عملی سوچ کا مجموعہ یے جبکہ غیرمعمولی احساس کا تعلق باطنی حواس خمسہ یے۔ یعنی ایک ظاھری آنکھ ہے جو ماحول کا مشاہدہ کرتی ہے اور دوسری باطن کی آنکھ، جس کے ذریعے غیر محسوس رویوں کا ادراک کیا جاتا یے۔ جسے وجدانی صلاحیت کہتے ہیں۔ وجدانی کیفیت کا تعلق حواس خمسہ کی فعال کارکردگی سے ہے۔ وجدانی صلاحیت انسان کی صحیح رخ پر راہنمائی کرنے کے ساتھ، اسے ممکنہ خطرے سے آگاہ رکھتی ہے۔

عام سمجھ عملی طور پر پرکھنے کی صلاحیت یا فیصلے کی قوت ہے، جس کے ذریعے روز مرہ کے معاملات کو سمجھداری کے ساتھ برتا جاتا یے۔ یہ سمجھ، حسیاتی فعالیت اور مشاھدے کی دین ہے۔ سوچ کی کاملیت کے بعد وجدانی صلاحیت اجاگر ہوتی ہے۔ جبکہ ذہنی مغالطے یا ابہام، روزمرہ کے معاملات میں بگاڑ پیدا کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر غلط فھمی، خوش فھمی، واہمے، پرفریب خیال، شک و بے یقینی وغیرہ عام سمجھ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ منفی رویے انسان کی زندگی میں بے اطمنیانی پیدا کردیتے ہیں، جو حواس خمسہ کو آلودہ کردیتے ہیں۔

کامن سینس یعنی عملی سوچ یا ذہانت ک ذریعے انسان اپنی زندگی، رابطے، تعلق و دیگر معاملات احسن طور پر دیکھ سکتا ہے۔ روز مرہ کے معاملات میں درست فیصلے کی اھلیت، کامن سینس کی بہتر کارکردگی کی گواہی دیتی ہے کہ آپ کی تمامتر حسیں درستگی سے کام کررہی ہیں، جو ڈرائیونگ سے لے کر راستہ پار کرنے تک راہنمائی کرتی ہیں۔ یہ حسیاتی جوہر روزمرہ کے مشاہدے وتجربے کی دین ہے۔ بہت سے لوگوں کی عام سمجھ اوسط درجے کی ہوتی ہے یا اس سے بھی کم۔ جس کی کئی وجوہات ہیں : جیسے ذہنی بیماری، نشہ، نیند کی کمی، غیر صحت بخش غذا، جسمانی مشق کی کمی، ادویات، جسمانی عارضہ وغیرہ۔

عام سمجھ کی کمی کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ حالیہ بارشوں میں انتباہ کے باوجود کئی لوگ باہر نکلے اور حادثات کا شکار ہوگئے۔ یعنی آپ جو کرنے جارہے ہیں اس کے انجام سے بے خبر ہیں۔ اگر تجزیے میں غلطی کی جاتی ہے تو اس کا مطلب عجلت ہے۔ جلدبازی، غفلت اور لاپروائی بعض اوقات حادثات کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ علاوہ ازیں بری عادات جیسے سگریٹ نوشی، الکوحل، بے ایمانی، جھوٹ و دیگر منفی رویے آگے چل کر غلط نتائج پر انجام پذیر ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگ مضر عادات کو ترک نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ان کی شعوری سمجھ پر غفلت اور بے دھیانی کا غلبہ طاری ہوتا یے۔

انسان کے ذہن میں ایک خودکار نظام نصب یے، جسے ضمیر (Conscience ) کہا جاتا یے، جو ہر غلط کام پر ضرور سرزنش کرتا یے۔ مگر خواھشات یا نفس کی ترغیب کے آگے ضمیر بے بس ہوکر ہتھیار پھینک دیتا ہے۔ اعلیٰ ڈگریاں رائیگاں دکھائی دیتی ہیں اگر زندگی گزارنے کے طور طریقے غلط ہوں۔

دیکھا جائے تو سائنس کی ترقی سے زندگی میں بہتری آئی اور مشینیں انسان کی جگہ کام کرنے لگیں۔ انسان کا مشینوں پر انحصار بڑھتا رہا۔ زندگی پر آسائش اور آسان ہوتی چلی گئی۔ اس سھل پسندی کے باعث، لوگوں کا کھلی فضا سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ موبائیل اور کمپیوٹرز نے انسان کو کمرے تک محدود کردیا۔ اور وہ حسیاتی طور پر غیر متحرک ہونے لگا۔ مشینوں کے بے جا استعمال کی وجہ سے اس کی نیند اور ذہنی سکون شدید متاثر ہوئے۔ ایک حد تک معلومات زندگی کو بہتر بناسکتی یے مگر بے جا معلومات سے ذہن بری طرح سے منتشر ہوجاتا ہے۔ جب ذہن پرسکون ہوتا ہے تو کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ یکسوئی نہ ہو تو مشاہدے و فیصلے کی قوت باقی نہیں رہتی۔

انسانی زندگی کی بہتری میں یکسوئی اور دھیان کا بڑا عمل دخل ہے۔ یکسوئی نہ ہو تو زندگی کا معیار متاثر ہوجاتا ہے۔ یکسوئی اور دھیان کی کیفیت ادراک و وجدانی صلاحیت کو جلا بخشتی ہے۔ روحانی عرفان، دھیان کی دین یے۔ سوچ جب وحدت کے نکتے پر مرکوز ہوتی ہے تو باطن کی آنکھ روشن ہوجاتی ہے۔

عملی سوچ و رویوں کے فقدان کی وجہ سے سماجی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ مربوط حکمت عملی مفقود ہے۔ ہر طرف مسائل کے انبار دکھائی دیتے ہیں۔ نفرت و تعصب سے اعصاب بوجھل ہیں۔ حقیقت پسندی کا دور تک شائبہ نہیں۔ ذاتی ذمے داری کا عکس روزمرہ زندگی میں دکھائی نہیں دیتا۔

ہمیں خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے۔ اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ کس طرح ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے، سمجھدار قوموں نے تصنع و منافقت ترک کرتے ہوئے فطری رویے و علاج کے طریقے اپنالئے ہیں۔ ویسے بھی ترقی یافتہ قومیں ہر طرح کے ابہام سے ذہن کو شفاف رکھتی ہیں تاکہ ان کی سوچ مثبت اور فعال رہے۔ فطرت سے محبت اور خودانحصاری کے جوہر نے انہیں حسیاتی طور پر متحرک رکھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •