اسلامی جمعیت طلبہ: مضمون ہٹا لیا گیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

درج ذیل دونوں مضامین، صاحبان مضمون کی درخواست پر ہٹا لئے گئے ہیں\"humsub-300x250\"

اسلامی جمعیت طلبہ اور پاکستانی جامعات از ڈاکٹر طارق رمضان

جمیعت پر اعتراضات، روشن خیال جوڑے اور کھسیانی بلیاں  از ابرار رحمان

ڈاکٹر طارق رمضان صاحب نے چند تکنیکی وجوہات کی وجہ سے مضمون ہٹانے کی درخواست کی ہے۔ جناب ابرار رحمان صاحب نے چند وجوہات کی وجہ سے مضمون ہٹانے کی درخواست کی ہے۔ اس سے پہلے اسلامی جمعیت طلبہ کے سوشل میڈیا کے ہیڈ اور آئی ٹی کے ہیڈ جناب احتشام خالق وسیر صاحب بھی اپنا مضمون ہٹانے کی درخواست کر چکے ہیں اور ان کا مضمون ہٹائے جانے کے بعد یہ دو نئے مضامین موصول ہوئے تھے جو کہ حسب حکم شائع کر دیے گئے تھے۔ ہم سب کی پالیسی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بلا تفریق نظریات شائع کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے حق میں لگائے گئے تمام مضامین ہٹانے کی درخواست ان کو بھیجنے والوں نے تقریباً ایک ہی وقت میں کی ہے جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ ایک تنظیمی فیصلہ ہے۔

غالباً ان مضامین پر پڑھنے والوں کے کمنٹ دیکھ کر اسلامی جمعیت طلبہ کے عہدیداران کو یہ خیال آ گیا ہے کہ یہ دفاع نہیں بلکہ اسلامی جمعیت طلبہ پر لگائے گئے الزامات کا اعتراف جرم ہے۔ مخالفت میں مضمون لکھنے والے خواتین و حضرات نے اپنے اپنے ذاتی تجربات بیان کیے تھے کہ اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق رکھنے والوں کے بالائے قانون اقدامات ان کی نظر سے کیسے گزرے۔

ان دفاعی مضامین میں، لکھنے والوں نے ان بالائے قانون اقدامات کی تردید کرنے کی بجائے ان کی توثیق کرتے ہوئے ان کی توجیہات پیش کی تھیں۔ بالائے قانون اقدامات کے دفاع کا یہ جذباتی انداز دیکھ کر بے اختیار لیجنڈری اداکار محمد علی مرحوم یاد آ گئے، جن کے عدالتی ڈائیلاگ مشہور تھے۔ ”جج صاحب، مجرم یہ شخص نہیں ہے جو کہ کٹہرے میں کھڑا ہوا ہے، مجرم یہ معاشرہ ہے جس نے اسے یہ جرم کرنے پر مجبور کیا ہے، سزا دینی ہے تو اسے مت دیں، معاشرے کو دیں“۔

ان مدافعین کی بدقسمتی سے یہ جذباتی انداز بیان، فلم کے جج کو تو متاثر کر سکتا ہے، مگر حقیقی دنیا میں سزا معاشرے کو نہیں بلکہ قانون توڑنے والے کو ہی دی جاتی ہے۔

”ہم سب“ کے ممتاز لکھاری جناب وصی بابا صاحب کا پرمزاح انداز بیان ان کی ایک بڑی خوبی ہے، اور ان کی برائی افراد اور گروہوں کے ایسے نام رکھ دینا ہے جن پر سننے والوں کو ہنسی اور جن پر چسپاں کیا گیا ہو، ان کو پہلے غصہ اور پھر صبر آ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”صالحین“ کو دیکھ کر ان کو بے اختیار دربار صاحب امرتسر کے خالصے یاد آ جاتے ہیں، جو پہلے کچھ کرتے ہیں، اور پھر سوچتے ہیں کہ یہ کیوں کیا تھا۔

غالباً ان کا اشارہ گورداسپور سے جنم لینے یا پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں عمران خان کی پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھوں تمام ٹی وی چینلوں کے لائیو کیمروں کے سامنے دھلائی کی طرف خاص طور پر ہو گا۔

بہرحال ”ہم سب“ کی ادارتی ٹیم کی طرف سے اسلامی جمعیت طلبہ سے یہ گزارش ہے کہ سوچ سمجھ کر لکھا یا بولا کریں، سوچ سمجھ کر کام کیا کریں، اور کوئی مضمون بھیجیں تو اس پر قائم رہیں۔ ظفر اقبال صاحب کیا خوب فرما گئے ہیں کہ ”آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے“۔ کوئی مضمون ایڈٹ کرنے اور لگانے پر ”ہم سب“ کی ادارتی ٹیم کی کافی محنت اور وقت صرف ہوتا ہے۔ ازراہ کرم اگر اسلامی جعیت طلبہ پر ایسا موقف دے کر آپ رحم نہیں کرتے ہیں، تو ”ہم سب“ کی ادارتی ٹیم پر ہی رحم کریں اور مضمون لگانے کے بعد ہٹانے کی فرمائش مت کیا کریں۔ ہم اخلاقی یا قانونی طور پر ایسا کرنے پر مجبور نہیں ہیں، جو چیز ہمیں پبلشنگ کے لئے بھیج دی جاتی ہے، اسے شائع کرنا، نہ کرنا یا ہٹانا مکمل طور پر ہمارا اختیار ہے۔

بہرحال، اب اس مضمون کو ہٹانے کے بعد خالی جگہ پر کرنے کی خاطر ہم ایک حکایت ہی لکھ دیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں ایک بادشاہ ہر وقت اس خدشے میں مبتلا رہتا تھا کہ کہیں اس کے دشمن اس کو مار نہ ڈالیں۔ سب سے زیادہ خطرہ اسے نیند میں اپنے پہرے داروں کے ہاتھوں مارے جانے کا تھا۔ وہ کسی انسان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے ایک بندر کو چوکیداری کے لیے سدھانا شروع کیا اور اسے تلوار بازی میں خوب ماہر کر دیا۔ اسے تربیت دی گئی کہ کسی کو بھی خواب گاہ میں بادشاہ کے قریب دیکھتے ہی اس پر حملہ کر دے۔ بندر بڑا ہوا تو اسے تلوار تھما کر خواب گاہ کے اندر پہرا دینے پر مامور کر دیا گیا۔

\"monkey-sword-2\"

ایک رات ایسا ہوا کہ شہر کے سب سے بڑے چور نے اپنی منڈلی سے شرط لگائی کہ وہ بادشاہ کی خواب گاہ میں داخل ہو کر وہاں چوری کر سکتا ہے۔ وہ محل کی دیوار پر چڑھ کر بادشاہ کی خواب گاہ کی کھڑی تک آن پہنچا اور اسے کھول کر سن گن لینے لگا کہ کھٹکے سے بادشاہ جاگ تو نہیں گیا ہے۔ اتنے میں باہر سے چند مکھیاں اندر گئیں اور ان میں سے ایک بادشاہ کے چہرے پر بیٹھ گئی۔ دفاع پر مامور بندر نے یہ دیکھا کہ ایک خطرناک دشمن بادشاہ کے چہرے پر موجود ہے تو اپنی تلوار لے کر لپکا اور بادشاہ کے چہرے پر موجود مکھی کو مارنے کے لیے بلند کر لی۔ چور نے بے اختیار چیخ کر بادشاہ کو خبردار کیا اور بادشاہ نے بروقت کروٹ بدل کر خود کو تلوار کے وار سے بچا لیا۔

چور کو بادشاہ نے اپنا محافظ مقرر کر دیا۔ بندر کو تلوار چھین کر محل کی مکھیاں مارنے پر مامور کر دیا اور وہ تیس مار خان کے نام سے مشہور ہوا۔ اور ساتھ ساتھ ایک کہاوت بھی مشہور ہوئی، کہ نادان دوست سے دانا دشمن اچھا ہوتا ہے۔

تیس مار خان حضرات سے گزارش ہے کہ رحم آقا، رحم۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1110 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Comments are closed.