مسئلہ کشمیر: ایک عام آدمی کو کیا کرنا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"waqar

محترم حاشر ابن ارشاد کیا خوب فرماتے ہیں کہ ”درد کی شدت شماریاتی تجزیوں اور تحقیق کے پلندوں سے کم نہیں ہوتی۔ درد دوا مانگتا ہے۔ زخم مرہم کی حاجت رکھتا ہے۔ تم سب زندہ ہو تو ضروری نہیں کہ آج کوئی قبر نہ کھدی ہو“

شماریاتی تجزیے ، اعداد وشمار، اداروں کو بہتر فیصلہ کرنے میں مددگار ہوتے ہیں اور ان کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں لیکن اگر آپ رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے خاص ترکیبات بطور کلیشے اور اعداد و شمار کو ایک ہی انداز سے پیش کرتے ہیں تو ایک وقت آتا ہے جب مخاطب کی حساسیت کے دروازے پر دستک سنائی دینا بند ہو جاتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پی ٹی وی پر کشمیر سیل ایک ہفتے کی رپورٹ پیش کرتا ہے ۔ وہی لگے بندھے الفاظ ، بھارتی درندگی، معصوم کشمیری، غاصب فوج، بھارتی غاصب سیکیورٹی فورسز، حق خود ارادیت ، نئی تحریک، وادی میں کرفیو ، ہڑتا ل ، شٹر ڈاؤن وغیرہ کی جگالی ہوتی ہے ۔

ایک لگے بندھے جملے کے اندر اس ہفتے شہید یا زخمی ہونے والوں کاہندسہ ٹانک دیا جاتا ہے۔

موسم اور کشمیر پر رپورٹ کے دوران ناظرین کی توجہ کا کیا عالم ہوتا ہے ہم جانتے ہی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ برہان وانی کی شہادت کے بعد ہوا ہے اور ان دو مہینوں میں وہاں جن انسانیت سوز کہانیوں نے جنم لیا ہے وہ انسانیت کا دل دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ میڈیا جس نے رائے عامہ ہموار کرنی ہوتی ہے وہ بھی ان کہانیوں میں کم دلچسپی لیتا ہے۔ اس کی دلچسپی ایک کلی صوتحال کی غمازی کرنے والے وہ سیاسی بیانات ہوتے ہیں جو ظلم کی سرزمین سے کافی اوپر ایک محفوظ فاصلے پر دیے جاتے ہیں۔

\"ailan-kurdi\"

ایک کہانی یا ایک تصویر پورا منظر نامہ تبدیل کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں شامی مہاجرین کے حوالے سے کرد بچے کی ساحل پر پڑی لاش نے عالمی قوتوں کو جس طرح عوام کے دباؤ پر پالیسیز تبدیل کرنی پڑی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موضوعاتی کہانیاں کیسے عالمی ذہن کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایمبولینس میں بیٹھے بچے نے حساسیت کو عالمی سطح پر جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔

آئیے مقبوضہ کشمیر کی جانب اور پڑھیے انشا ملک کی کہانی کو۔۔

”چودہ سالہ انشا ملک ہسپتال کے ایک بستر پر پڑی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وارڈمیں چار سالہ زہرہ مجید پڑی ہے۔ انشا ملک بے ہوش ہے۔ چہرہ اور آنکھیں چھروں سے چھلنی ہیں۔یہ چودہ سالہ ہماری بیٹی سکول میں ٹاپر ہے۔ اس کی آنکھوں میں بڑا انسان بننے کے سپنے تھے۔ انشا ملک تو کسی مجمع کا حصہ بھی نہیں تھی۔ رات کے وقت انشا ملک گھر میں کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ جب بھارتی اہلکاروں کی گنوں سے نکلے چھروں نے اس کا چہرہ اور آنکھیں چھلنی کر ڈالیں۔ یہ چھرے اس کے چہرے اور آنکھوں کے اند ر گھس کر اس کی آنے والی ساری زندگی کو تاریک کر گئے۔آنکھوں سے خون کی دھاریں نکل رہی تھیں۔ تمام گھر والے دیکھ کر حواس باختہ تھے۔ انشا ملک کا باپ پہلے ہی ایک حادثے کی وجہ سے اپاہج تھا۔

\"1-kashmir\"

انشا ملک کی تصویر اور کہانی شائع کرنے والے اخبار گریٹر کشمیر پر بھارتی فوج نے دھاوا بول دیا اور اس سمیت درجنوں مقامی اخبار بند کر دیے تاکہ اس طرح کی خبریں باہر نہ پہنچیں۔ انشا ملک کے ایکسرے لیے گئے تو چودہ سالہ معصوم چہرے پر کوئی جگہ نہ تھی جہاں چھرے نہ گھسے ہوں۔سری نگر کے صرف ایک ہسپتال شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں چند دنوں میں ایک سو سترہ سرجیریز کی گئیں۔ کھوپڑیوں میں فریکچر والے کیسز کا علاج ناممکن ہو گیا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں انشا ملک کی بینائی واپس نہیں آ سکتی۔ انشا ملک کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے۔ چودہ سالہ اس بچی کا تعلیمی ریکارڈ شاندار ہے ۔ اس کو کس جرم میں ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم کر دیا گیا؟“

انشا ملک کی اس کہانی کو ہمارے روایتی میڈیا نے موضوعاتی انداز سے پیش ہی نہیں کیا ان کے لیے وہ ایک ہندسہ تھی۔

\"jibran-nasir\"

دوسری طرف جبران ناصر نے بھارتی اور عالمی مشہور چہروں کو چھروں سے زخمی دکھایا ۔ان کا یہ اقدام عالمی نشریاتی اداروں نے اٹھایااور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ رائے عامہ کو اپنی جانب کرنے کے لیے کشمیر سیل کی چالیس سالہ رپورٹیں وہ نتیجہ نہ دے سکیں جو جبران ناصر کے تخلیقی ذہن کی کاوش نے دے دیا۔

ایک اور کہانی پڑھیے

 \’\’رات فوجیوں کا ایک گروہ جس کے پاس چاقو لوہے کے راڈ اور کلہاڑیاں تھیں شار گاؤں پہنچے سب سے پہلے انہوں نے علاقے کی بجلی کاٹ دی جس سے ہر طرف اندھیرا پھیل گیا۔ ساڑھے دس بجے فوجیوں نے غنڈہ گردی شروع کر دی ان کے سامنے جو آیا توڑتے پھوڑتے چلے گئے ۔ گھروں میں گھس گھس کر مردوں کو گھسیٹ کر باہر لے آئے ۔ پھر انہوں نے مردوں کو لوہے کے راڈوں اور چاقوؤں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ مردوں کے عزیز و اقارب بچے خواتین چیختی رہیں واسطے دیتی رہیں

شبیر احمد نے اس وقت ہی کھانا کھایا تھا اور کمرے میں بیٹھا تھا جب اچانک کچھ فوجی دروازہ توڑتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور شبیر کو باہر گھسیٹنا شروع کر دیا۔ خواتین اور بچوں نے مزاحمت کی لیکن فوجی شبیر کو باہر لے گئے ۔

شار میں دو سو گھروں کو نقصان پہنچا۔ سو سے زائد لوگوں کو بری طرح پیٹا گیا۔ رات ایک بجے یہ فوجی لوگوں کے زیورات اور موبائل لیتے چلتے بنے۔ زخمی شبیر کو بمپور ہسپتال لے جایا گیا۔ شبیر نہ ہی بول سکتا تھا نہ ہی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا تھا۔ سٹیشن آفیسر محمود احمد نے گائوں والوں کی یہ حالت دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔ شبیر نے پانی پینے کے لیے کہا۔ انہوں نے تھوڑا سا پانی پیا اور ساتھ ہی شہید ہو گئے ۔ شبیر کی میت کو اٹھارہ اگست کو صبح چھ بجے ان کے گھر پہنچا دیا گیا۔ ہزاروں لوگ ان کے جنازے میں شریک ہوئے ۔ شبیر احمد کے بھائی ظہور احمد شدید زخمی ہوئے۔ شبیر احمد گھر کے واحد کفیل تھے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ایم فل کیا تھا۔ وہ مختلف کالجز میں دو ہزار نو سے پڑھا رہے تھے۔ انہوں نے سوگواران میں ایک بیوی اور پندرہ مہینے کا بچہ چھوڑ ا ہے۔ آج سے دو سال پہلے شبیر کی والدہ کو بھی بھارتی فوجیوں نے شہید کر دیا تھا“

کشمیر کے حوالے سے پچھلے دو مہینوں میں ان گنت انسانیت سوز واقعات ہوئے ہیں سب کا تذکرہ تو اس کالم میں ممکن نہیں لیکن ایک کہانی اور بھی دیکھ لیجئے۔

\"asia-kashmir\"

”بیس سالہ یاسمینہ جان شہید ہو گئیں۔ یاسمینہ جان کے تین قصور تھے ۔ یاسمینہ جان کا پہلا اور ناقابل معافی قصور تو یہی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئی تھیں۔ اس کا دوسرا قصور یہ تھا کہ وہ زور سے چیخی تھیں۔ اور تیسرا ناقابل معافی قصور یہ تھا کہ وہ بھارتی درندوں سے اپنے بارہ سالہ بھائی کو بچانے کے لیے آگے بڑھی تھی۔ شاید اس کا ایک چوتھا قصور بھی تھا کہ وہ ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوئی جہاں انصاف رواداری اور مساوات کے نعرے تو بہت لگائے جاتے ہیں اس حوالے سے عمارتیں بھی عظیم الشان ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں بچے شہید ہوں یا بزرگ ان عمارتوں پر یا ان کے مکینوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان عمارتوں کے ائیر کنڈیشنر مستقل ٹھنڈی ہوا دیتے رہتے ہیں اور بغیر کسی تعطل کے میٹنگز جاری رہتی ہیں۔ بارہ بجے کا وقت تھا گلیوں میں شور شرابا ہوا تو یاسمینہ نے گھر کا دروازہ کھولا اور اپنے بارہ سالہ بھائی معین کو آوازیں دینے لگی ۔ یاسمینہ حواس باختہ تھی اور معین کو آوازیں دیے چلی جا رہی تھیں جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کی نالی سے نکلنے والی گولی اس کے سر پر لگی اور وہ شہید ہو گئی۔ شہادت سے کچھ گھنٹے پہلے اس نے ہاتھوں پر مہندی لگائی تھی۔

ہاتھوں میں سرخ رنگ دیکھ کر خوش ہوئی ہو گی یہ جانے بغیر کہ کچھ دیر بعد اس کے سر سے نکلنے والا خوان پوری انسانیت کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہو گا۔

لیکن کیا یاسمینہ کا خون انسانیت جھنجوڑ پائے گا؟

یاسمینہ کا باپ پاگل ہو چکا ہے ۔ وہ روکنے کے باوجود گھر نہیں رہتا۔ گلیوں میں ہر طرف ہر کسی سے پوچھتا پھرتا ہے ۔۔کیا آپ نے میری یاسمینہ کو دیکھا ہے؟

اس کی امی \’امید\’ کہتی ہے کہ مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں یاسمینہ کو لمبی کہانیاں سنایا کرتی تھی کیونکہ وہ کہانیاں سنے بغیر کھانا نہیں کھاتی تھی، آج وہ خود ایک درد ناک کہانی بن گئی ہے۔ یہ کہہ کر وہ زاروقطار روتی ہے ۔

پھر امید ایک سوال پوچھتی ہے ۔۔ ہر کسی سے پوچھتی ہے

کیا میری یاسمینہ قبر میں بھوکی ہو گی؟“

یہ سب سچی کہانیاں ہیں۔ میں نے یہ کہانیاں ٹی وی پروگرام کے لیے لکھیں۔ لیکن ہمارے میڈیا کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہندسوں سے باہر نہیں آتا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا زیادہ تر مین سٹریم میڈیا کے کلپس شئیر کر کے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیتا ہے۔

ہمارے ہاں مختلف اداروں اور سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیلز ہیں ۔ یہ بہت تخلیقی کام کرتے ہیں اور بڑے تخلیقی انداز سے مخالف سیاسی جماعتوں کے لتے لیتے ہیں ۔ اگر یہ میڈیا سیلز صرف ایک ہفتہ اپنی صلاحیتیں کشمیر کو دے دیں تو کسی بڑی تبدیلی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے بالخصوص اگر یہ اپنی مہم کی زبان انگریزی رکھیں۔

\"jibran-nasir-2\"

اگر دس بھی جبران ناصر اس مہم کے دوران نکل آئے تو مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ فوج کی بے دخلی کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے اور بہت ساری انشا ملک شبیر اور یاسمینائیں بچ سکتی ہیں۔
اگر عقل کی بات کی جائے تو شماریاتی ہندسے بہتر فیصلہ سازی کے لیے ضروری ہیں لیکن ہم ایک جذباتی نوع ہیں۔ شام میں لاکھوں مر جائیں جب تک یہ اطلاع ہمارے پاس ہندسوں کی شکل میں آتی رہے گی ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگیں گی لیکن جیسے ہی ہم ساحل پر ایک بچے کی لاش دیکھیں گئ ہم کھانا پینا بھول جائیں گے۔ہم دلی اور احساس کہانی سے پیدا ہوتا ہے ہم اپنے آپ کو اس سے نتھی کر لیتے ہیں اور تکلیف محسوس کرتے ہیں۔

بھارت نے جو کچھ کشمیر میں کیا ہے وہ اخلاقی حوالے سے شکست خوردہ تھا (بالخصوص اڑی حملہ سے پہلے) لیکن ہم نے اس سے \’\’فائدہ\’\’ نہیں اٹھایا۔ ہم ہندسوں کو پیٹتے رہے اور لگے بندھے الفاظ کی جگالی کرتے رہ گئے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 171 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments