مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے مناظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذرا چشمِ تصور کو وسیع کیجئیے، اگر آپ گھر کے کسی بیمار فرد کو ایمبولینس میں لے کے جانا چاہیں اور آپ کو راستے میں محض اس لئے روک لیا جائے کہ آپ کے پاس کرفیو پاس نہیں ہے اور نتیجتاً آپ مریض کو مرتا دیکھنے کے لئے گھر واپس لے جائیں۔ اگر آپ اپنے قریب رہائش پذیر کسی بیمار رشتے دار کی تیمار داری کے لئے جانا چاہیں، آپ نے بچوں کی شادی کے دن طے کر رکھے ہوں یا آپ کے پاس اشیائے خوردونوش کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہو۔ ایسی روز مرہ کی ضروریاتِ زندگی کے لئے گھر سے نکلنا چاہیں مگر آپ کے پاس کرفیو پاس نہ ہو۔ تصور کیجئیے کہ آپ کے احساسات کیا ہوں گے۔ ہمارے سرحد پار مقید کشمیری بہن بھائی تو آج کل ان سے زیادہ سنگین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات جو ہم اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تصور بھی نہیں کر سکتے۔

موجودہ پابندیوں میں روزگار یا تعلیم کے سلسلے میں گھر سے باہر رہنے والے افراد اپنے عزیزواقارب کی خیریت سے بھی بے خبر ہوتے ہیں۔ اپنے گھروں میں رہنے والے افراد بھی یوں سمجھئیے کہ جیسے جیل میں ہی بند کر دیے گئے ہوں۔ اپنوں سے رابطے کے لئے انٹر نیٹ، ٹی وی اور ٹیلی فون جیسی سہولیات بھی میسر نہ ہوں۔ سب سے بڑھ کے یہ کہ ہر گھر کے سامنے کوئی سیکیورٹی اہلکار کھڑا ہو تو ایسے حالات میں بھی اگر کوئی قوم بلند حوصلے کے ساتھ اپنے مقصد پہ ڈٹی رہے تو ایسی قوم کے حوصلے کو سلام۔ جب امید کے تمام راستے بند ہوں، اُمت اپنے مفادات سینے پہ سجائے خالی بیانات دینے سے بھی گریزاں ہو، ایسے میں تحریک کو زندہ رکھنا کسی زندہ معجزے سے کم نہیں۔

اگر وادی سے آنے والی خبروں کو دیکھا جائے تو لوگ کرفیو کی پرواہ کیے بغیر گولیوں کے سامنے سینہ تان کے کھڑے نظر آتے ہیں۔ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانا کسی بھی انسان کے لئے سب سے مشکل کام ہوتا ہے لیکن مسلسل 70 سال سے زائد عرصے سے لاشیں اٹھاتے بھی ان کے حوصلے کم نہیں ہوئے۔ کسان کے لئے فصل، باغات اور مویشی بھی گھر کے افراد کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر سال بھر کی محنت کے بعد کسی کی فصل اور باغات کو تباہ کر دیا جائے تو کیا جذبات ہوتے ہیں یہ بات کسان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

ان سب حالات کے باوجود کشمیر کے لوگ ڈٹ کے کھڑے ہیں۔ آزادی کی تڑپ آج پہلے سے بھی بڑھ کے ہے۔ جو لوگ خود کو بھارت کے قریب ظاہر کرتے تھے اب وہ بھی کھلے لفظوں میں پچھتاوے کا اظہار کر رہے ہیں۔ مودی نے آج آزادی کی تڑپ اس مقام تک پہنچا دی ہے جس کے تصور سے ہی اس سے پہلے کی بھارتی حکومتیں کانپ جاتی تھیں۔ آزادی کے حصول کے لئے نکلے مجاہدینِ آزادی جان ہتھیلی پہ رکھ کے مقصد کے حصول کے لئے نکلتے ہیں۔ اگر اس جدوجہد میں خون بھی شامل ہو جائے تو پھر تحریک کو دبانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ بھارتی حکومت کے اقدامات سے کشمیری عوام کی زندگی بہت متاثر ہوئی ہے۔

اگر مودی کی درندگی دیکھی جائے تو عمران خان کی اس بات سے اختلاف کرنا پڑے گا کہ مودی برِ صغیر کا ہٹلر ہے۔ ہٹلر کو تو ایک موقع ملا تھا جبکہ مودی گجرات کے بعد کشمیر میں بھی درندگی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ یہ ہٹلر سے ترقی کرتے کرتے اب چھوٹا دجال بن چکا ہے۔ اب موقع ہے کہ ہم سلامتی کونسل میں ان کی درندگی کا بھیانک ترین روپ دنیا کے سامنے متاثر کُن صورت میں پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ کیس ہمارا مضبوط ہے، کیس ہم پیش کیسے کرتے ہیں یہ بہت اہم ہے۔ کاش ہم ایسا کیس پیش کر سکیں کہ ویٹو کرنے والوں کے ضمیر بھی انہیں ملامت کریں۔

سلامتی کونسل کا پہلا اقدام تو یہ ہونا چاہیے کہ آرٹیکل 370 اور 35 A کو اصل حالت میں بحال کرایا جائے۔ اس کے بعد بھارت کو کرفیو ہٹانے اور فوج میں فوری طور پہ کمی کرنے کا کہا جائے۔ اگر ہم فوری طور پہ یہ کروانے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ بھی ایک لحاظ سے کامیابی ہے۔ آزادی کی جنگ بہت طویل ہو سکتی ہے بلکہ ہو چکی ہے، یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا۔ اس وقت سب سے اہم یہ ہے کہ لوگوں کو زندہ رہنے کا حق دلایا جائے اور مقبوضہ علاقوں میں کشمیری آبادی کا تناسب بگڑنے سے بچایا جائے۔ اس سے اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ تحریک کی شدت میں کسی صورت بھی کمی نہ آنے دی جائے۔ وقتی ریلیف ہمیشہ سُستی اور اصل مقصد سے توجہ ہٹانے کا باعث بنتا ہے۔ مستقبل میں ہمیں اس سُستی سے بچ کے رہنا ہو گا۔ فیض صاحب کے بقول ”لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •