ارباب رشید احمد خان کا افسانہ: قربانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آسمان پر بجلی اچانک چمکی اور ارد گرد کے تمام قمقمے بجھ گئے۔ گھپ اندھیرے میں گنجے نے تالیاں بجائیں اور بے ساختہ ہنس پڑا۔ تورے نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور نہایت افسوس سے درد بھرے لہجے میں کہا ”عید کی اس مبارک رات کو دیکھو اور ان قمقموں کے اندھیرے کو دیکھو، آخر مسلمانی ہے“، اور پھر ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھر کر خاموش بیٹھ گیا۔ تورا چند لمحے خاموش بیٹھا تھا، اسی اثنا میں گنجے نے گھٹنوں پر جھکا سر اٹھایا اور شرارت سے بھرے لہجے میں تورے سے کہا ”اور میرا وہ عید کا دنبہ؟

”۔ گنجے کی اس بات پر اندھیرے میں دونوں کے کانوں میں دنبے کی باں باں کی آوازیں آنی شروع ہوئیں۔ باں باں پہلے کمرے کے ایک کونے سے آئیں اور پھر آہستہ آہستہ ان کے قریب آ گئیں۔ گنجے نے جب اندھیرے میں ہاتھ پھیلائے تو دنبہ اس کے پہلو میں کھڑا تھا۔ گنجا دل کھول کر ہنسا اور پھر اس نے دنبے کی پشت پر پیار اور تسلی سے تھپکی دی، دنبے پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرا اور پھر اندھیرے میں تورے کی طرف منہ پھیر کر سوال کیا“ اگر سینگ نہ ہوں تو قربانی ہوتی ہے؟

” تورے نے تسلی دیتے ہوئے کہا“ پیر نہ ہوں تو بھی قربانی ہو جاتی ہے ”۔ گنجے نے دو دفعہ دنبے پر ہاتھ پھیر کر کہا“ چار پر تو سیدھا کھڑا ہے ”۔ دونوں نے ابھی بات پوری نہیں کی تھی کہ دروازے کے پاس کوئی لالٹین ہاتھ میں لئے آہستہ سے گزرا۔ تورا اور گنجا دونوں خاموش ہوگئے۔ گنجے نے آواز دی“ چلا گیا ”اور دنبے پر ایک مرتبہ پھر ہاتھ پھیرا۔ دنبہ سر جھکائے خاموش کھڑا تھا۔ تورے نے جمائی لی اور اٹھ گیا، اور گنجے کے قریب جا کر اس کے کان میں کہا“ اُس کونے میں، میں نے چھری رکھی ہے ”۔

گنجا فورا اٹھا، دیوار کی مدد سے چل کر کمرے کے کونے سے ٹین کا ایک ٹکڑا اٹھا لایا۔ فرش پر ٹین کے ٹکڑے کو تیز کرنے کی ایک دو آوازیں سنائی دیں۔ گنجے نے سینہ پُھلاتے ہوئے کہا ”اگر اس چھری سے اسے ذبح نہ کیا تو پھر قصائی کیسا؟ “ اور پھر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ تورے سے پوچھا ”کیا قربانی اندھیرے میں اچھی ہوتی ہے؟ “۔ تورے نے پھر ٹھنڈی آہ بھری اور کہا ”اگر روشنی میں قربانی کی تو لوگ گوشت مانگیں گے“۔ اسی دوران دنبے نے ایک لمبی باں کی اور خر خر کی آوازیں آنے لگیں۔

گنجے نے ٹین کا ٹکڑا تورے کی طرف اچھال دیا اور کہا ”ملا صاحب، قربانی میری اور چمڑی تیری“، اسی کے ساتھ ہی بجلی آگئی۔ دنبے نے آخری دفعہ پاوں کھینچے اور پھر پھیلا دیے۔ خون کی ایک ہلکی لکیر کمرے کے دروازے کے نیچے سے باہر تک گئی تھی اور جب لالٹین ہاتھ میں لئے آدمی کی آنکھیں خون کا پیچھا کرتے ہوئے کمرے تک آ گئیں تو ایک دم زور زور سی سیٹیاں بجھنی شروع ہوئیں۔ چوکیدار دیوانہ وار بھاگنے لگے، ہر طرف شور مچ گیا۔ اسی شور میں ایک گھبرائے ہوئے دماغی طور پر تندرست چوکیدار نے ڈاکٹر سے کہا ”کمرہ نمبر تین میں دوسرے اور چوتھے نمبر نے پانچویں نمبر والے کو ذبح کر دیا“۔ چوکیدار کی آنکھوں میں ڈاکٹر کو اپنا لکھا ہوا صاف صاف دکھائی دیا ”یہ تینوں اب ٹھیک ہیں، اِن کو دوسروں سے الگ کردیا جائے“

۔پسِ تحریر: ارباب رشید احمد خان کے افسانے کے ترجمے کی ایک ادنی سی کوشش۔ ارباب صاحب کے افسانوں کی کتاب ”انگارے“ غالباً 1950 کی دہائی میں شائع ہوئی تھی۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •