جب نور جہاں نے ویر سپاہیا کو ڈھول سپاہیا کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملکہ ترنم نور جہاں 21 ستمبر 1926 کوعظیم صوفی شاعر بلھے شاہ کی دھرتی قصور میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا نام اللہ وسائی رکھا گیا۔ میڈم نور جہاں نے 9 سال کی عمرمیں گلوکاری کا آغاز کیا۔ قصور میں پیدا ہونے والی اللہ رکھی وسائی پانچ سال کی عمر میں ہی اسٹیج پر گیت گا کر سب کی توجہ کا مرکز بن گئی تھیں۔ موسیقی کی ابتدائی تعلیم انہوں نے اس دور کی مشہور گلوکارہ کجن بیگم سے حاصل کی۔ اس وقت وہ تقریباً بارہ گھنٹے کا ریاض کرتی تھیں۔ بعد ازاں وہ استاد بڑے غلام علی خان سے بھی باقاعدگی سے گانا گانا سیکھتی رہیں

نور جہاں بڑی برجستہ گو خاتون تھیں ایک روز فریدہ خانم بازار سے شاپنگ کرکے کچھ دیر کے لیے نورجہاں کے گھر آئیں اور باتوں کے دوران انہیں اپنی شاپنگ کی چیزیں دکھانے لگیں۔ ان میں چائے کے چھ جدید طرز کے کپ شامل تھے۔ کپوں کے اس سیٹ کی جدت یہ تھی کہ ہر کپ کا ڈیزائن ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ نور جہاں نے ایک ایک کپ اٹھا کر اس کا معائنہ کیا اور پھر اپنی مخصوص ادا سے ناک چڑھاتے ہوئے فریدہ خانم سے کہا۔

” نی فریدے، اے توں کی چک کے لے آئی ایں، کنجراں دی اولاد ورگے سارے وخرے وخرے۔

ایک بار فریدہ خانم صاحبہ محترمہ نور جہاں صاحبہ کے سامنے مردوں کی بے وفائی کا رونا رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں ”ہن میری بس“

محترمہ نور جہاں صاحبہ نے فرمایا:

”فریدہ!
بندے دے کن وی ہفتے وچ دس وار تیلی منگدے نیں

ملکہ ترنم کو نیک پروین بننے کا قطعی شوق نہیں تھا۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اب تک کتنے گانے گائے ہیں تو انہوں نے جواب دیا:
” میں نے نہ گانوں کا حساب رکھا ہے، نہ گناہوں کا“

اس بات کے راوی سورگبھاشی گُرو جی ہیں۔ ایک دن کہتے ہیں حضرت یہ جو آپ نے 65 کی جنگ کے دوران زندہ دلانِ لاہور کی دلیری اور بے خوفی کے قِصّے سن رکھے ہیں نا وہ پورا سچ نہیں۔ کافی سرپھرے تو بے شک تھے مگر صاحبِ حیثیت اور صاحبِ ثروت لوگوں کی اکثریت حملے کے اگلے دن ہی خوفزدہ ہو کر محفوظ شہروں کی طرف بھاگ نکلی تھی ایسے میں جو معدودے چند لاہور میں ہی رہے ان میں ایک میڈم نُورجہاں بھی تھی جو ہر صبح بڑی باقاعدگی سے اپنی موٹر پر چار پانچ سازندوں کو لاد کر ریڈیو پاکستان پہنچتی اور جنگی ترانے ریکارڈ کرواتی تھی اور اس عمل کے دوران ایک آدھ بار تو بھارتی طیّاروں کی گولہ باری سے مرتے مرتے بچی۔

پھر کہتے ہیں کہ یہ جو صُوفی تبسّم مرحوم کا مشہور ترانہ ”میریا ڈھول سپاہیّا تینوں رب دیاں رکھّاں“ ہے اس میں صُوفی صاحب کے جو بول تھے وہ ”میریا وِیر سپاہیا“ تھے لیکن جب میڈم کو سنائے تو وہ اڑ گئی کہ مَیں نے تو آج تک اپنے سگّوں کے علاوہ نہ کسی کو وِیر سمجھا اور نہ کہہ کر بُلایا۔ لاکھ اصرار پر بھی جب نہ مانی تو مجبوراً صُوفی صاحب کو ”وِیر سپاہیا“ کی جگہ ”ڈھول سپاہیا“ کرنا پڑا۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد اور دبنگ خاتون تھی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •